December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

ازواجِ مطہرات کی عملی خدمات

 

ڈاکٹر عبدالخالق

دین اسلام کے لیے امہات المومنین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں صرف ان کی علمی خدمات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ حدیث اور دیگر کتب میں سیدہ عائشہ، ام سلمہ، حفصہ اور میمونہؓ کی علمی خدمات کا تذکرہ ملتا ہے۔

سیدہ عائشہؓ

نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد آپ 48 برس زندہ رہیں، اس طویل عرصے یعنی تقریباً 57 سال تک آپ شب وروز دین کی خدمت کرتی رہیں۔ علمِ دین کو پھیلاتی رہیں، صحابیات میں سب سے زیادہ احادیث آپ سے ہی مروی ہیں۔ آپ کا حافظہ نہایت قوی تھا، جو سنتی تھیں وہ صرف وقتی طور پر یاد ہی نہیں ہوجاتا تھا؛ بلکہ دل ودماغ میں نقش ہوکر رہ جاتا تھا۔ حدیث شریف سے آپ کو گہرا تعلق تھا، کسی حدیث کے سلسلے میں اگر اصحابِ رسولؐ کو کوئی شبہ ہوتا تھا، تو آپ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ آپ بڑی آسانی کے ساتھ مدلل طور پر شک وشبہ کو رفع کردیتی تھیں، مثلاً ایک مرتبہ آپؐ نے فرمایا تھا: ’’لوگ قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ نہ رکھیں۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابوسعید خدریؓ نے یہ سمجھا کہ یہ حکم دائمی ہے۔ سیدہ عائشہ نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ یہ حکم نہ تو دائمی ہے اور نہ ہی واجب ہے؛ بلکہ مستحب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ قربانی کے گوشت کو جمع نہ کریں؛ بلکہ دوسروں کو کھلائیں۔ سیدہ عائشہؓ کی ایک قابل ذکر خوبی یہ تھی کہ جب آپ روایت کرتی ہیں تو ساتھ ہی ساتھ اس کی علم وحکمت پر بھی روشنی ڈالتی ہیں، مثلاً ابوسعید خدری اور عبداللہ بن عمرؓ سے غسلِ جمعہ کے سلسلے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعے کے دن غسل کرلینا چاہیے؛ لیکن اس حدیث شریف کو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ذکر فرمایا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ اپنے گھروں اور مدینے کے آس پاس کی آبادیوں سے نماز جمعہ کو آیا کرتے تھے، وہ گردوغبار سے اٹے ہوئے اور پسینے سے تر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک صاحب آئے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم آج کے دن غسل کرلیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ سیدہ عائشہؓ کے تفقہ فی الدین، دقت نظر، قوت حافظہ اور شوق حدیث کے موضوع پر کئی حضرات نے قلم اٹھایا ہے، ان میں علامہ سیوطی بھی ہیں۔ آپ نے ایک رسالہ ’’عین الاصابہ‘‘ میں اس قسم کی 40 روایات کا تذکرہ کیا ہے، جس سے آپ کی دقیق نظر، تفقہ فی الدین، دور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے۔

سیدہ عائشہؓ کے شاگرد: آپ سے تقریباً 100 صحابہ اور صحابیات نے روایت کی ہے، مثلاً عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، عبداللہ بن عامر، مسروق بن اجدع، عکرمہ جیسے جلیل القدر حضرات آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔

مرویات کی تعداد: محدثینِ عظام کے مطابق سیدہ عائشہؓ کا شمار ان لوگوں میں، جن سے کثیر تعداد میں حدیث شریف کی روایات ذکر کی گئی ہیں، چھٹے نمبر پر آتا ہے؛ بلکہ بعض حضرات کے نزدیک رسولؐ سے روایت کرنے والوں میں آپ کا نمبر چوتھا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی مرویات کی فہرست دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرؓ کی مرویات آپ سے زیادہ ہیں۔ محدثین عظام نے آپ کی مرویات کی تعداد 2210 بتلائی ہیں، ان میں تقریباً 273 صحیحین یعنی بخاری اور مسلم میں موجود ہیں۔

سیدہ ام سلمہؓ

سیدہ ام سلمہؓ آپؐ کی ان ازواج مطہرات میں شامل ہیں، جن کو علم حدیث سے بہت ہی شغف تھا۔ آپ کی علمی اور دینی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ آپ کا شمار محدثین کے تیسرے طبقے میں ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رسولؐ کی احادیث مبارکہ کو سننے کے لیے اپنی ذاتی ضروریات کو بھی مؤخر کردیتی تھیں، مثلاً ایک مرتبہ آپ بال بندھوارہی تھیں کہ رسولؐ کے خطبے کی آواز سنائی دی، آپ فرمارہے تھے: اے لوگو! یہ سنتے ہی آپ نے کنگھی کرنے والی سے فرمایا کہ بس بال باندھ دو۔ اس نے کہا ایسی بھی کیاجلدی ہے، ابھی تو رسولؐ نے صرف ’اے لوگو‘ فرمایا ہے۔ آپ نے یہ جواب دیا کہ کیا ہم انسانوں میں شمار نہیں ہیں؟ یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوگئیں۔

آپ کے شاگرد: سیدہ ام سلمہؓ کے شاگردوں میں اسامہ بن زید، سلیمان بن یسار، عبداللہ بن رافع، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔

مرویات کی تعداد اور افتا: آپؓ کی مرویات کی تعداد محدثین عظام کے مطابق 378 ہے، جن میں سے بہت سی احادیث بخاری اور مسلم وغیرہ کتب میں شامل ہیں۔ آپ مفتیہ بھی تھیں، آپ کے متعدد فتاویٰ موجود ہیں۔ ابن قیمؒ کے مطابق اگر آپ کے فتاویٰ جمع کیے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہوجائے۔

سیدہ حفصہؓ

آپؓ کو ازواج مطہرات میں شامل ہونے کی وجہ سے بلا واسطہ نبی اکرمؐ سے احادیث مبارکہ سننے کا موقع ملا تھا۔ آپ کی مرویات کی تعداد 60 ہے۔ آپ سے بڑے بڑے صحابہ نے حدیث شریف کی روایت کی ہیں۔

سیدہ میمونہؓ

آپ کو بھی ازواج مطہرات میں شامل ہونے کی وجہ سے بلاواسطہ نبی اکرمؐ سے احادیث سننے کا موقع وقتاً فوقتاً فراہم ہوتا رہتا تھا۔

مرویات کی تعداد: آپ کی مرویات کی تعداد 46 ہے۔

شاگرد: آپ کے شاگردوں یعنی آپ سے روایت کرنے والوں میں مشاہیر صحابہ اور علمائے حدیث شامل ہیں: مثلاً عبداللہ بن عباس، زید بن حاصم، عطا بن یسار۔

سیدہ جویریہؓ

آپ رسولؐ کی ازواج میں شامل ہیں۔ آپ سے حدیث شریف کی 7 روایات مذکور ہیں۔

سیدہ سودہؓ

آپ بھی نبی اکرمؐ کی ازواج میں شامل ہیں۔ آپ سے حدیث شریف کی 8 روایات مذکور ہیں۔