September 21st, 2019 (1441محرم21)

پوری انسانی تاریخ میں صرف ایک مثال

سید ابوالااعلیٰ مودودی

انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں دس سال اس حیثیت میں زندگی بسر کی ہے کہ لوگوں سے یہ کہہ دیا گیا تھا کہ تمہارے لیے بہترین نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
(ترجمہ) ’’تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
یہ تو کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ ایک معاشرے میں اور ایک پورے ملک میں لوگوں سے یہ بات کہہ دی جائے کہ یہ شخص تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کو کھلی کتاب کی طرح لوگوں کے سامنے رکھ دیا تھا۔ آپؐ کی کوئی چیز پرائیویٹ نہیں تھی۔ سب کچھ پبلک تھا۔ لوگوں کو ہر وقت اس بات کی اجازت تھی کہ وہ نہ صرف یہ کہ خود آپؐ کی زندگی کو دیکھیں، آپؐ کے اقوال کو سنیں اور لوگوں تک پہنچائیں۔ آپؐ کے افعال کو دیکھیں اور لوگوں پہنچائیں، بلکہ ان کو یہ بھی اجازت تھی کہ وہ ازواجِ مطہراتؓ سے آپؐ کی نجی زندگی کے متعلق بھی معلومات حاصل کریں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک ہستی پورے دس سال تک اس طرح عوام کے سامنے ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ان سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے سوا کوئی انسان اس آزمائش (Test) پر پورا نہیں اتر سکتا۔ یہ ایک ایسی کسوٹی ہے کہ کوئی انسان اپنے آپ کو اس آزمائش کے لیے پیش نہیں کرسکتا کہ ہر وقت ہر پہلو سے اس کا جائزہ لے کر دیکھا جائے، اور پھر کسی پہلو سے اس کے اندر کوئی عیب، کوئی نقص، کوئی خامی اور کوئی کمزوری نہ پائی جائے۔ نہ صرف یہ کہ کہیں نقص نہ ہو، بلکہ یہ کہ اُسے جس پہلو سے بھی دیکھا جائے وہ اس پہلو سے کامل درجے کا آدمی ہو۔ اور اس کے متعلق فی الواقع لوگ اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ہاں یہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہ مقام پوری انسانی تاریخ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر کی زندگی کو دیکھیے تو بہترین شوہر اور بہترین باپ ہیں۔ باہر کی زندگی کو دیکھیے تو بہترین دوست اور بہترین ہمسائے ہیں۔ معاملات میں جس کو بھی آپؐ سے معاملہ پیش آیا ہے، اُس نے آپؐ کو کھرا پایا ہے۔ عدالت کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو بے لاگ انصاف کیا ہے۔ غم بھی پیش آیا ہے، خوشی بھی دیکھی ہے۔ غصہ بھی آیا ہے اور محبت بھی کی ہے، لیکن کسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے کسی شخص نے کوئی کلمہ حق کے خلاف کبھی نہیں سنا۔ دس سال تک لوگ ہر وقت اور ہر آن آپؐ کی باتیں سنتے رہے اور دنیا کے سامنے انہیں پہنچاتے رہے، لیکن آپؐ کی زبان سے کبھی کوئی بات حق کے خلاف نقل نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ غصے میں بھی کسی کے لیے بُرے الفاظ زبان پر نہ آئے۔ یہ شان کسی معمولی انسان کی نہیں ہوسکتی۔
(تفہیمات، حصہ چہارم، صفحہ 278)