March 25th, 2019 (1440رجب18)

نبی اکرم ﷺاسوہ کامل اوررحمت

لیاقت بلوچ

رسول اللہ، محسن انسانیت، خاتم النبیین، سرور دوعالم محمد عربیؐ کی حیات طیبہ ہر اس انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اس سرچشمے سے بے خطا رہنمائی مل سکتی ہے اور یہی دارین کی سعادت کا ذریعہ ہے۔ اس دارفانی میں بڑے بڑے اہل فکر، دانشور اور مصلحین پیدا ہوئے لیکن آپؐ جیسا ہمہ صفت کامل راہنما نہیں مل سکا۔ تاریخ کے ہر دور اور ہر قوم میں اللہ کے رسول آئے اور انسانیت کو راہ ہدایت دکھاتے رہے۔ دنیا کو آخری نبی کی آمد کا صدیوں سے انتظار تھا۔ سیدنا محمدؐ کی بعثت سے یہ طویل انتظار ختم ہوا۔ آپؐ سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ثابت ہوئے اور رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے، آپؐ کی شریعت آخری شریعت قرار پائی۔ اس نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔ اب آپؐ کی راہنمائی ہی سب کے لیے اور تاقیامت ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے، تو انہیں میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا‘‘۔ ؂
تاروں سے کہہ دو کوچ کریں، خورشید منور آتے ہیں
قوموں کے پیمبر آتو چکے اب سب کے پیمبر آتے ہیں
ماہ ربیع الاول رسول اللہؐ کی ولادت اور وصال کا بھی مہینہ ہے۔ آپؐ پوری انسانیت کے لیے تاقیامت اسوۂ کامل اور تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ اللہ کے تمام پیغمبروں نے اللہ کے دین کی دعوت دی لیکن آپؐ پیامبر دعوت کے ساتھ ساتھ پیغمبر انقلاب بھی تھے۔ آپؐ نے عملاً وہ انقلاب برپا کر دیا جس کی مثل تاریخ انسانی میں نہ پہلے تھی نہ آئندہ ہوگی۔ رسول اللہؐ سے اُمتیوں کے عشق ومحبت سے مراد فقط جذبات عقیدت و ارادت نہیں، تقلید واتباع بھی اس کا ضروری جزو ہے۔ رسول اکرمؐ کی تعلیمات سے پوری طرح فیض یاب ہونے کے لیے ان کی زندگی کو چراغ راہ بنانے اور آپؐ کی روحانی واخلاقی اور عملی خوبیاں اخذ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
کتاب و سنت اساس دین ہیں۔ رسول اللہؐ کی ولادت باسعادت اور حیات طیبہ ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ رسول اللہ کے نظام تربیت میں ان کے اُمتیوں کے لیے اخلاق و کردار کی سربلندی، اُخروی آبیاری و نشوونما کا پہلا زینہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ ان کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ وہ حوض کوثر تک آئیں گی‘‘۔ یہ قرآن وسنت ہی ہے جن کو مضبوطی سے تھامے رہیں گے تو راہ راست سے بھٹک نہیں سکتے۔ یہ دونوں دین کے بنیادی مآخذ ہیں۔ یہ ہدایت کے وہ سرچشمے ہیں جن سے قیامت تک راہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی اور اختلافات میں رجوع کیا جاتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسولؐ کی اطاعت کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو‘‘۔ (محمد: 23) ارشاد ہے کہ اللہ کے رسولؐ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب اللہ کے ساتھ آپؐ کی سنت یا آپؐ کی تعلیمات ہی دین کی اساس ہیں۔ دونوں کے ذریعے دین کی تکمیل ہوتی ہے۔
محمدؐ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ آپؐ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ اب نہ تو کوئی رسول آئے گا اور نہ ہی کسی سابق رسول کی اتباع جائز ہوگی۔ جو شخص آپؐ کو رسول مانتا ہے لیکن آخری رسول نہیں مانتا وہ حقیقت میں آپ کی رسالت کا آدھا اقرار اور آدھا انکار کرتا ہے اور یہ چیز انکار کے ہی ہم معنی ہے۔ آپؐ کی رسالت کے دو جزو ہیں۔ ایک آپ کا رسول ہونا اور دوسرا آپ کے ذریعے رسالت کا ختم ہونا۔ قرآن کریم نے صاف اور واضح اعلان کر دیا ہے کہ رسالت کا جو سلسلہ سیدنا آدمؑ سے شروع ہوا تھا وہ آپ تک پہنچ کر ختم ہوگیا اور اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ’’لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبینؐ ہیں۔‘‘ (الاحزاب 60)
ختم نبوت کا اعلان حقیقت میں اس بات کا اعلان ہے کہ آپؐ کی رسالت عالمگیر رسالت ہے۔ آپؐ صرف اس دور کے پیغمبر نہیں ہیں جس میں آپ پیدا ہوئے ہیں بلکہ ہر دور میں آپؐ کی اتباع فرض ہے۔ حق غلبے کے لیے اور باطل مٹنے کے لیے ہے۔ آج کے دور میں انسانوں کو غلام بنانے کے انسانی نظام ناکام ہیں، دعوت دین اور اسلام کے کامل ضابطۂ حیات ہونے سے زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی بالکل عیاں ہو رہی ہے۔ اسی لیے مغربی مفکرین، پالیسی ساز، لادینیت کے پرچارک پریشانی کے عالم میں عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت پر حملہ آور ہیں، توہین وتضحیک کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اہل ایمان بے شمار کمزوریوں اور بے عملی کے باوجود رسول اللہ کے عشق و محبت سے سرشار ہیں۔ اس لیے ان شیطانی حربوں کے سدباب کے لیے احتجاج، قوانین کی حفاظت، عالمی قوانین میں ترامیم کے ذریعے تحفظ کی کوششیں ناگزیر ہیں۔ راہ نجات صرف آپؐ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص بھی اللہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ رحمت اللعالمین و خاتم النبیینؐ کی بتائی ہوئی راہ پر استقامت سے عمل کرے۔
آج دنیا میں امتّ رسول بڑی کثرت میں ہے لیکن ’’وہن‘‘ کی بیماری نے اسے ریزہ ریزہ کردیا ہے۔ اُمت کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ کشمیر، فلسطین، شام، یمن، عراق، افغانستان اور میانمر میں مسلمان کسمپرسی اور مظلومیت کا شکار ہیں۔ عالم اسلام عموماً اور اس کی قیادت خصوصاً ہر سطح پر بے حسی اور لاپروائی کا شکار ہے، جبکہ استعمار اور ملت کفر متحد ہو کر اُمت رسول پر حملہ آور ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے، اسے اللہ نے ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ اقامت دین کے تمام اعشاریے بھرپور طاقت کے ساتھ موجود ہیں لیکن غربت، ذلت، بداخلاقی و بے حیائی، قومی وسائل کی لوٹ مار اورکرپشن غالب ہے۔ کلمے کی بنیاد پر قائم ہونے والی جس مملکت خداداد کو مثالی اسلامی ریاست ہونا چاہیے تھا وہ آج تنزلی کی بدترین مثال ہے۔ قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی پاکیزہ قربانیوں کو بھی فراموش اور ملیا میٹ کردیا گیا ہے۔
رسول اللہؐ نے انسانوں کے بگڑے ہوئے معاشرے میں دعوت دین اور اللہ کی توحید کو عام کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو مخالفتوں کا آغاز ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی گئی آپؐ اور اصحاب رسول کو ناقابل بیان اذیتیں پہنچائی جانے لگیں، سیدنا بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹایا جاتا، سیدنا عمارؓ پر اس قدر ظلم و تشدد کیا گیا کہ زبان سے اللہ واحد کا نام لینا مشکل ہوگیا ان کے والد یاسر کو بڑی آزمائش اور اذیتوں کا سامنا رہا، ان کی والدہ سمیہؓ کو ابوجہل نے خنجر مار کر ہلاک کر دیا، سیدنا خبیبؓ کو انگاروں پر لٹا دیا جاتا۔ پوری پیٹھ پر آبلے پڑجاتے اور جسم کے بوجھ سے آگ ٹھنڈی ہوتی۔ خود رسول اللہؐ کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا گیا۔ ہجرت حبشہ، شعب ابی طالب میں محصوری، طائف کا سفر۔۔۔ حالات خراب سے خراب تر ہونے لگے لیکن رسول اللہؐ نے اپنی سعی وجہد جاری رکھی تاآنکہ ہجرت مدینہ کا مرحلہ آگیا۔ کفار نے دعوت دین اور اہل دین کو مٹانے کے لیے طاقت، قوت، ترغیبات اور جنگوں کا تسلط کیا۔ لیکن یہ پاکیزہ جدوجہد جاری رہی عظیم کامیابی کی منزل سن 6 ہجری میں فتح مکہ کی صورت میں حاصل ہوئی۔ فتح مکہ سے کفر شکست کھا گیا، ہتھیار ڈال دیے گئے اور سارا عرب زیرنگین آگیا۔ آج بھی اقامت دین، نظام اور قیادت کی تبدیلی کے راستہ میں عالمی استعمار، لادین قوتیں مال و دولت اور طاقت کے ساتھ ہر رکاوٹ کھڑی کر رہی ہیں، مایوسی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار اور افکار کو ذرائع ابلاغ مادرپدر آزادی، اباحیت اور غیر ذمے دارانہ رویوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔
رسول اللہؐ کے اسوہ سے صرفِ نظر کرکے نہیں بلکہ مکمل تقلید اور سنت نبویؐ کی پیروی ہی سے قسمت سنورے گی اور حالات بدلیں گے۔ اسی کے نتیجے میں ہم رحمت ایزدی کے امیدوار ہوں گے۔ ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی بدلنا ہوگا۔ رسول اکرمؐ کی روحانی اور اخلاقی خوبیوں کا تذکرہ کرنے کے ساتھ آپؐ کی تقلید بھی کی جائے تب در کھلے گا۔ محض لباس اور وضع قطع کا بدلنا ہی مطلوب نہیں اور نہ ہی روایتی مسلمانوں کی طرح اخلاق نبویؐ سے فقط ایک دو باتیں اخذ کرکے اسوۂ نبوی اور تعلیمات اسلامی سے بالکل بیگانگی برتی جائے بلکہ رسول اللہؐ کی زندگی کے تمام پہلوؤں اور اُن کی ساری روحانی اور اخلاقی خوبیوں کا مکمل اتباع ہونا چاہیے۔ قول وفعل اور گفتار و کردار میں، رسول اکرمؐ کا ایمان کامل، تدبر، حلم، حوصلہ، استقلال، جہدِ مسلسل، انصاف پسندی، بے لوثی اور استغنا سے مسلمانوں کو جزو زندگی بنانے کی سعی کرنی چاہیے۔ موجودہ دور اطلاعات، ذرائع ابلاغ، جدید اور تیز ترین الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اخلاق، کردار اور ذہنی یکسوئی کو ختم کرکے ہیجانی کیفیت مسلط کردینا چاہتا ہے۔ اس صورت حال سے محفوظ رہنے اور اقامت دین کی ہمہ گیر جدوجہد کا مسلسل حصہ بنے رہنے سے ہی ہم خلافت الٰہیہ کی بلندی پر پہنچ سکتے ہیں۔ قرآن سے جڑ جائیں کہ مسلمانوں کے لیے سرچشمۂ ہدایت یہی کتاب ہے۔ قرآن نے ہی ملت اسلامیہ کی بنا رکھی ہے اور سنت رسولؐ نے اسے کامل عمارت کی شکل میں ڈھالا ہے۔ ملت اسلامیہ کے لیے سیرت رسول اللہؐ کی ہر لمحہ پیروی ناگزیر ہے۔