September 23rd, 2018 (1440محرم12)

اسرائیلی درندگی کی انتہا

 

درندگی بہت ہلکا لفظ ہے کہ درندے بھی اپنے ہم جنسوں کا قتل عام نہیں کرتے۔ لیکن اسرائیل نے تو انسانی خون بہانے کی تمام حدیں کب کی عبور کرلی ہیں۔ درندے اگر آپس میں لڑتے بھی ہیں تو عموماً برابر کا مقابلہ ہوتا ہے۔ اسرائیل نہتے فلسطینیوں کا خون بہانے میں طاق ہوگیا ہے۔ بنیادی وجہ تو یہی ہے کہ اسے امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے اور درجنوں مسلم ممالک کے حکمران امریکا کے آگے سر تسلیم خم کرکے اسے اپنا آقا مان چکے ہیں۔ گزشتہ پیر کو امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر فلسطینیوں نے غزہ میں احتجاج کیا اور ان نہتے لوگوں پر اسرائیلی دہشت گرد ٹوٹ پڑے۔ 62 فلسطینی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی عمریں 12 سے 14 سال تک تھیں۔ ادھر اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کا خون بہارہی تھی ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں جشن برپاتھا اور موسیقی کے شور میں مظلوموں کی چیخیں کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی بیٹی اور اس کے یہودی داماد نے امریکی سفارتخانے کا افتتاح کیا۔ ٹرمپ اپنے یہودی داماد کے خلاف کیسے جاکستا ہے ویسے بھی ٹرمپ سمیت ہر امریکی حکومت نے اسرائیل کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی معیشت اور ذرائع ابلاغ پنجۂ یہود میں ہیں۔ سلامتی کونسل میں ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف تحقیقات مسترد کرکے اپنا فیصلہ ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ وہ پورے عالم اسلام کے مقابلے میں ایک غاصب یہودی ریاست کی پشت پر کھڑا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی دن اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے حماس پر الزام عاید کردیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ عرب ممالک بھی حماس کے خلاف ہیں۔ لیکن کیا یہ کسی کو نظر نہیں آیا کہ اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی ہے۔ ایسا ہی منظر مقبوضہ کشمیر میں ہے جہاں بھارتی فوج نہتے کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے اور بھارتی فوج کا سربراہ کھلم کھلا کہتا ہے کہ احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو مزہ چکھائیں گے۔ اسرائیل نے امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی تقریب میں 66 ممالک کو مدعو کیا تھا لیکن ان میں سے 53 نے شرکت نہیں کی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ممالک کو بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی سے اتفاق نہیں۔ اسرائیل نے ایک دن میں ہلاکتوں کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم ممالک کیا کررہے ہیں۔ کئی ملکوں میں مظاہرے تو ہوئے ہیں، مذمتی بیانات بھی جاری ہوئے ہیں، کچھ قراردادیں بھی سامنے آئیں گی لیکن اس سے آگے کچھ نہیں ہوگا۔ کتنے مسلم ممالک ایسے ہیں جو اسرائیل اور اس کے پشتیبان امریکا کا بائیکاٹ کرنے کی ہمت کریں گے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں۔ بعض عرب ممالک تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا کہناہے کہ ان سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ امریکا سے اچھے تعلقات رکھنے والا اسرائیل سے بھی تعلقات رکھے گا خواہ بالواسطہ ہی سہی۔ دیکھنا ہے کہ اسرائیل کی درندگی کے خلاف مسلم ممالک کیا کرتے ہیں، کیا کرسکتے ہیں، شاید بد دعائیں دینے پر اکتفا کریں۔

                                                                                        بشکریہ جسارت