June 27th, 2019 (1440شوال23)

نیا امریکی خطرہ اور پاکستان کی سلامتی

 

 

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیاہے ۔ اجلاس کو طلب کرنے کا مقصد اس خطے میں ہونے والے ممکنہ فوجی تصادم میں پاکستان کی حیثیت کا جائزہ لینا تھا ۔ اجلاس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے چیف آف اسٹاف جنرل قمر باجوہ سے علیحدگی میں ملاقات کی جس میں پاکستان کی فوجی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وقت کے ساتھ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ اس خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے بادل چھا سکتے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کی اپنی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔ اس پوری صورتحال کا افسوسناک ترین پہلو یہ ہے کہ سامنے تو امریکا ہے مگر عملی طور پر طرفین برادر اسلامی ممالک ہیں ۔ ایک طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں تو دوسری جانب ایران ۔ پاکستان کے پاس اطلاعات ہیں کہ خطے میں امریکی حملے شروع ہوتے ہی افغانستان اور بھارت بھی جارحیت پر آمادہ ہوسکتے ہیں ، جس کے لیے دفاعی تیاریاں اور دفاعی منصوبے تیار کیے جارہے ہیں ۔ بھارت کے بدلے ہوئے تیوروں کا اندازہ شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے رویے سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے امن کی پیہم کوششوں کا ابھی تک بھارت نے ایک مرتبہ بھی مثبت جواب نہیں دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ بھارتی جارحیت کے خطرے کے پیش نظر ابھی تک پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنی فضائی حدود کو نہیں کھولا ہے تاکہ بھارت کی جانب سے فضائی جارحیت کی صورت میں اسے مسکت جواب دیا جاسکے ۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے پاکستان کے دورے کو دیکھا جارہا ہے جو جمعرات کو پاکستا ن کے دو روزہ دورے پر پہنچے ہیں ۔ اپنے دورے کے دوران جواد ظریف سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کریں گے اور ممکنہ امریکی حملے کی صورت میںپاکستانی مدد کے طالب ہوں گے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس بنا کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے ختم ہوگیا ہے ۔ اجلاس کو نشستند ، گفتند اور برخاستند ہی کہا جاسکتا ہے ۔ توقع کی جارہی تھی کہ خطے میں موجود کشیدہ صورتحال میں شنگھائی تعاون تنظیم کوئی ٹھوس موقف اپنائے گی ۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بالکل درست نشاندہی کی کہ سیاسی اختلافات اور غیر حل شدہ تنازعات خطے کے مسائل کو گمبھیر بنارہے ہیں مگر شنگھائی تعاون تنظیم میں اس پر اتنی بھی پیش رفت نہیں ہوئی کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کا درجہ ہی کم ہوسکتا ۔اس لحاظ سے اس اجلاس کا نتیجہ صفر ہی رہا۔امریکا کی جانب سے ایران پر متوقع حملے کے موقع پر سب سے اہم کردار چین کا ہوسکتا ہے مگر چین نے روایتی طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح سے چین نے امریکا کو افغانستان اور عراق میں واک اوور دیا ، بالکل اسی طرح ایران پر ہونے والے حملے میں بھی خاموشی ہی اختیار کرے گا ۔ چین کا یہ رویہ امریکا کے لیے حوصلہ افزا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان میں سیاسی بے چینی عروج پر ہے ۔ عید کے فوری بعد سے ہی حزب اختلاف نے مورچہ لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ آئی ایم ایف کی ٹیم کی پاکستانی حکومت میں اہم پوزیشنوں پر تعیناتی نے اپنے اثرات دکھانے شروع کردیے ہیں ۔ جس کے بعد سے حزب اختلاف کو حکومت کے خلاف محاذ لگانے کا حوصلہ ملا ہے ۔ خطے میں امریکی دراندازی کے موقع پر پاکستان میں معاشی قتل عام اور اس کے نتیجے میں سیاسی بے چینی کیا گل کھلائے گی ، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ملک میں سیاسی دنگل کی بناء پر پاکستان کی حکومت وہ واضح اور دو ٹوک موقف اپنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی جس کی ضرورت ہے ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کریں اور معاشی ٹیم میں تبدیلی لائیں تاکہ عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مجبور ہوکر سڑکوں پر نکل ہی نہ آئیں ۔ عوام کو ریلیف دیا جائے اور زندہ رہنے کا موقع بھی ۔ حزب اختلاف کے رہنما بھی موقع کی نزاکت کا خیال کریں اور دشمن کو پاکستانی قوم کے تقسیم ہونے کا تاثر نہ دیں ۔ کوئی ایسی صورتحال نہ پیدا کی جائے جس سے دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے ۔ منتشر پاکستانی قوم کو متحد کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت پر ہی عاید ہوتی ہے کہ وہ میرٹ کو فروغ دے ، بدعنوانوں کے خلاف بے رحمی سے فیصلے کیے جائیں ، عدالتوں میں تیز اور انصاف پر مبنی فیصلوں کی روایت ڈالی جائے اور مہنگائی کے طوفان کو قابو میں لایا جائے ۔ اس تاثر کا خاتمہ کیا جائے کہ بدعنوانوں کی ایک ٹیم کو ہٹا کر اس کی جگہ بدعنوانوں کی دوسری ٹیم کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ حزب اختلاف بھی موقع کی نزاکت کو سمجھے اور سڑکوں پر فیصلے کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ خطے میں امریکی حملوں کی صورت میں پاکستانی موقف کو ابھی سے طے کرلیا جائے اور اس پر قوم کو بھی اعتماد میں لیا جائے ۔ ابھی تک جو اشارے ملے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرتبہ امریکا کا نشانہ صرف ایران نہیں ہوگا بلکہ وہ اس خطے کے تمام ہی اسلامی ممالک کو جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ایران اور پاکستان شامل ہیں ، زمین سے لگادینا چاہتا ہے ۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے کے بجائے پاکستان کو ان اشاروں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس پر ابھی سے تیاری بھی شروع کردینی چاہیے ۔ ٹرمپ کی جنونی پالیسیوں نے پوری دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ شام ، لیبیا، عراق، افغانستان کون سی جگہ ایسی ہے جہاں پر امریکی جنگی جنون نے تباہی نہ پھیر دی ہو ۔ اب اس دیو کو مزید بے قابو ہونے سے روکا جانے کے لیے ڈٹ جانا چاہیے ۔

                                                       بشکریہ جسارت