September 22nd, 2019 (1441محرم22)

آئی ایم ایف کے زخم بھرنے تلک

 

جب سے عمران خان مسند اقتدار پر براجمان ہوئے ہیں ، پاکستانی کرنسی کی بے قدری ہے کہ اس کی کوئی حدہی نہیں آرہی ہے ۔ حکومت پاکستان میں آئی ایم ایف کی ٹیم کی جانب سے پوزیشن سنبھالنے کے بعد جس تیزی کے ساتھ روپیہ اپنی قدر کھورہا ہے اس کی مثال ان ہی ممالک سے مل سکتی ہے جہاں کی معیشت کی باگ ڈور آئی ایم ایف کے ہاتھ میں رہی ہے ۔ پاکستانی سرکار روپے کو کیوں بے قدر کر رہی ہے ، اس کا کوئی معقول جواب کہیں پر نہیں ہے ۔ بینک دولت پاکستان کی اپنی رپورٹ کے مطابق صرف چار روز میں ڈالر کی قیمت میں تقریبا 10 روپے کا اضافہ ہوا جس کی وجہ سے پاکستان پر بیرونی قرضوں کی مد میں 1000 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ۔ بینک دولت پاکستان کی اسی رپور ٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی کرنسی میں عدم استحکام کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری نصف رہ گئی ہے ۔ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے درست تبصرہ کیا ہے کہ دس ماہ کی مدت میں ہی حکومت نے دس سال کی ناکامیوں کو سمیٹ لیاہے ۔ پہلے میں اور اب میں واضح فرق یہ ہے کہ پہلے حکومت پاکستان کی ٹیم آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتی تھی اور اس کے دیے گئے املا کے مطابق کام کرتی تھی ۔ اس میں پھر بھی کچھ وقت لگتا تھا مگر اب تو وزارت خزانہ اور بینک دولت پاکستان سمیت سب کچھ آئی ایم ایف کے ہی حوالے کردیا گیا ہے ، اس لیے آئی ایم ایف کو خواہشات کی تکمیل کے لیے اب کسی املا کی ضرورت نہیں رہی بلکہ وہ اس کا خود نفاذ کررہی ہے جس کی صورت گری ہمارے سامنے ہے کہ روپیہ تیزی کے ساتھ گرتا چلا جارہا ہے اور کوئی مزاحمت ہی نہیں ہے ۔ حکومت نے یہ افواہ خود سے پھیلائی ہوئی ہے کہ سٹے باز روز ڈالر کی خریداری کرکے روپے کو نیچے گرا رہے ہیں ۔ سٹے بازوں کی اپنی ایک قوت خرید ہے اور وہ اس سے زیادہ مارکیٹ میں خریداری نہیں کرسکتے ۔ یہ تو خود بینک دولت پاکستان ہے جو انٹر بینک میں روپے کو گراتا ہے جس کا اثر منی چینجروں کے پاس نظر آتا ہے ۔ اگر انٹر بینک میں ڈالر مضبوط رہتا تو یہ مصنوعی گراوٹ کب کی تھم چکی ہوتی ۔ یہ ہنگامی صورتحال ہے اس پر ملک کے معیشت دانوں کو کوئی فورم بنا کر رائے پیش کرنی چاہیے ۔ ابھی تو صرف روپے کی بے قدری ہی کی رپورٹیں آرہی ہیں ۔ ایک ہفتے کے بعد ہی اس کے مزید اثرات سامنے آجائیں گے جب حکومت پٹرول بم گرائے گی ۔ اس کے ساتھ ہی بجلی اور گیس کے خودکش حملے بھی پاکستانی قوم پر ہوں گے اور پھر ان سب کے مجموعی اثرات دیگر چیزوں پر مرتب ہوں گے ۔ڈالر کی اُڑان سے 134 ترقیاتی اسکیموں کی لاگت میں 9 کھرب روپے کا اضافہ ہو گیا ۔ ان میں سے نیلم ہائیڈرو پروجیکٹ میں 399 ارب ، کچی کینال منصوبے پر 49 ارب 14کروڑ، منگلا ڈیم کی توسیع کے منصوبے پر 34 ارب 30 کروڑ، پاکستان ریلوے انجن خریداری منصوبے پر 32 ارب 79 کروڑ جبکہ گوادر ایر پورٹ کی لاگت میں 14 ارب 57 کروڑ روپے کا اضافہ ہو گا ۔ جب سے عمرانی حکومت اقتدار میں آئی ہے ، مہنگائی میں تقریبا سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔ ایسے میں سرکار بتائے کہ عوام کیا کریں ۔ عمران خان کاملک کی معیشت کی بہتری کے حوالے سے ایک بھی دعویٰ سچ نہیں ہوا ۔ انہوں نے ملک سے لوٹی گئی رقم واپس لانے کے دعوے کیے تھے مگر وہ تو ملک میں موجود لوٹی گئی رقم بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرواسکے ۔ ملک کو لوٹنے والوں کو عبرتناک سزا دینے کے بجائے انہوں نے ایمنسٹی دے کر لوٹ مار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ اب عمران خان کی کابینہ نے نوجوانوںکے کاروبار کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی کو پہلے بے روزگار کیا جائے ، اسے بھوکا رہنے پر مجبور کیا جائے اور پھر کہا جائے کہ کسی چوک پر ایک سماجی تنظیم کے تحت اس کے لیے دس روز تک کھانے کا انتظام کیا گیا ہے ۔عمران خان صاحب جو لوگ پہلے سے باروزگار ہیں ، انہیں بے روزگار نہ کریں۔ آئی ایم ایف کی ٹیم کی چھٹی کریں اوروزارت خزانہ کسی محب وطن ماہر معیشت کے حوالے کی جائے ۔ اسی طرح بینک دولت پاکستان میں بھی آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم کے بجائے کسی محب وطن شخصیت کو تعینات کیا جائے ۔ ڈالر اور روپے کی شرح تبادلہ کا اختیار بینک دولت پاکستان سے واپس لے کر دوبارہ وزارت خزانہ کے حوالے کیا جائے ۔ رضا باقر اور حفیظ شیخ کی جوڑی نے اب تک پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے ، اسی کو درست کرنے میں پاکستان کو عشرے لگ جائیں گے ۔ اب پاکستان مزید کسی مہم جوئی کا متحمل نہیںہو سکتا اس لیے فوری طور پر رضا باقر اور حفیظ شیخ کی جوڑی کو رخصت کیا جائے اور ماضی کا رونا بند کیا جائے، بہت ہو گیا ۔

                                                                                                                                                                          بشکریہ جسارت