July 22nd, 2019 (1440ذو القعدة19)

گوادر میں دہشت گردی

 

جب بھی پاکستانی سیکورٹی کے ذمے دار اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے کیے جاتے ہیں اس کے فوراً بعد ملک میں کسی نہ کسی جگہ دہشت گردی کا واقعہ پیش آ جاتا ہے ۔ چند روز قبل داتا دربار لاہور میں دہشت گردی کی کارروائی ہوئی اور دھماکے کے فوراً بعد تحقیقاتی اداروں اور میڈیا نے اسے خود کش دھماکا قرار دے کر تفتیش کے آدھے سے زیادہ بوجھ کو اپنے سروں سے اتار پھینکا ۔ اب جس کا چاہیں گے ہاتھ انگلیاں اور سر لا کر اسے ان دہشت گرد حملوں میں ملوث خود کش حملہ آور قرار دے کر رپورٹ جمع کرا دی جائے گی ۔ بہت سے واقعات میں خود کش حملہ آور قرار دیے گئے افراد زندہ ملے اور بعض کئی برس سے زیر حراست تھے ۔ گوادر میں مارے جانے والے حمال فتح مری کے بارے میں بھی یہی رپورٹ ہے کہ وہ لاپتا افراد کی فہرست میں شامل تھا۔اب تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ملک بھر میں لا پتا افراد کے حوالے سے بیان دیا اور جوانوں کی قربانی اور امن و امان کا ذکر کیا ۔ اس کے اگلے دن ایران کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا اور اب گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا ۔ دیگرواقعات کی طرح یہاں بھی سارے دہشت گرد مارے گئے ۔ اب کون بتائے گا کہ وہ دہشت گرد تھے یا نہیں ۔ حسب معمول غیر ملکی خبررساں اداروں کے ذریعے بلوچستان لبریشن آرمی کا اعترافی بیان جاری ہو گیا ۔ باقی کام میڈیا کا ہے ۔ وہ بار بار یہی دہرائے گا کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے گوادر میں ہوٹل پر حملہ کیا ۔ یوں بات بن جائے گی ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ریاست سے کوئی نہیں لڑ سکتا تو یہ کون لوگ ہیں جو ریاست سے لڑے جار ہے ہیں تھکتے ہی نہیں ۔ گوادر حملے سمیت تمام واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے تو بہت سے پردے ہٹیں گے ۔ ورنہ واقعات کو غلط رنگ دے کر مٹی پائو اقدامات سے ملک کو شدید خطرات لا حق ہو جائیں گے ۔اگر ایسے واقعات ہوتے رہے تو اس سے سی پیک پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

                                                                                                                     بشکریہ جسارت