June 18th, 2019 (1440شوال14)

بلدیاتی اصلاحات، نیا شوشا

 

بلدیاتی اصلاحات کے نام پر وزیر اعظم عمران خان نے پھر سے ایک نیا شوشاچھوڑ دیا ہے ۔ اب کہا جارہا ہے کہ میئر براہ راست منتخب ہوں گے جبکہ پنچایتی نظام کو فروغ دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ بلدیہ کی سطح پر کام کرنے کے لیے فنڈز اس لیے دستیاب نہیں ہیں کہ یہ ترقیاتی فنڈز کے نام پر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی میں تقسیم کردیا جاتا ہے ۔ منتخب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا ایک نیا موقف سامنے آیا کہ شہروں میں بلدیاتی کاموں کے لیے اب حکومت فنڈز نہیں فراہم کرے گی بلکہ بلدیات خود اپنے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا انتظام کریں ۔ ملک میں یہ عجیب سی رسم ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ معاملات کو درست کرنے کے بجائے ایک نیا نظام نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی بھی نظام بن ہی نہیں سکا ہے ۔ ایوب خان نے اپنا بلدیاتی نظام متعارف کروایا ۔ ایوب خان کے جاتے ہی وہ نظام لپیٹ دیا گیا اور بھٹو اپنا بلدیاتی نظام لے کر آئے ۔ ضیاء الحق کے آتے ہی پھر سے اصلاحات کے نام پر ایک نیا نظام سامنے لایا گیا ۔ پرویز مشرف کو پھر سے پرانے بلدیاتی نظام میں خرابیاں نظر آئیں اور وہ بھی ایک نیا نظام لے آئے ۔ پرویز مشرف کے جاتے ہی ان کا سٹی ناظم کا نظام لپیٹ دیا گیا اور پھر سے ایک نیا نظام لایا گیا اور اب عمران خان دوبارہ سے ایک نئے بلدیاتی نظام کی بات کررہے ہیں ۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ جب تک ملک میں منصفانہ انتخابی نظام نہیں لایا جائے گا ، اس وقت تک خرابیاں رہیں گی ۔ متناسب نمائندگی کا نظام ہی واحد نظام انتخاب ہے جس میں ایک بھی ووٹ ضائع نہیںہوتا ۔ موجودہ نظام انتخاب میں اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ اس نظام میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا منتخب کرلیا جاتا ہے ۔ دیکھنے میںایسا لگتا ہے کہ اسے عوام کی اکثریت نے منتخب کیا ہے حالانکہ اس کی مخالفت میںپڑنے والے ووٹوںکو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ بعض اوقات 75 فیصد ووٹرز تک نے اسے مسترد کیاہوا ہوتا ہے ۔ اس طرح اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہونے کے نام پر ایک ایسے شخص کو زمام اقتدار تھمادی جاتی ہے جسے ملک کی اکثریت نے مسترد کیا ہوا ہوتا ہے ۔ عمران خان اگر کچھ اس طرح کی بنیادی اصلاحات کرتے تو اس کی تحسین بھی کی جاتی ۔ مناصب کے نام تبدیل کرنے سے تبدیلی نہیں آتی ۔ اب اگر میئر براہ راست منتخب کیا جائے اور بلدیاتی کونسل میں موجود ارکان کی اکثریت اس کی مخالف ہو تو کس طرح سے وہ نظام چلا پائے گا ۔ عمران خان فرماتے ہیں کہ پنچایت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا اور اس کے لیے صرف پنجاب میں 40 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جائیںگے ۔ پنچایتی نظام اس لیے وجود میں لایا گیا تھا کہ چھوٹے موٹے جھگڑے مقامی سطح پر ہی حل کر لیے جائیں اور فریقین پولیس کچہری سے بچ سکیں ۔ اس سے عدالتوں پر بھی بوجھ کم ہوگا ۔ جب پنچایتی نظام کوئی ترقیاتی کام کرہی نہیں سکتا تو اسے فنڈز کیوں فراہم کیے جائیں گے ۔ عمران خان کہتے ہیں کہ شہر اپنا ریونیو خود اکٹھا کریں ۔ تہران 5 سو ارب ڈالر ، ممبئی ایک سو ارب ڈالر کا ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں مگر لاہور سے صرف 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور کراچی سے 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے ۔ دیکھنے میں عمران خان کی یہ بات دل کو لگتی محسوس ہوتی ہے ۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کراچی اور لاہور کے شہری ٹیکس نہیں دیتے ۔ پاکستان کے شہری بھی اتنا ہی ٹیکس دیتے ہیں جتنا دیگر ممالک کے شہری دیتے ہیں ۔ بعض اوقات پاکستان میں ٹیکس کی یہ شرح دیگر ممالک سے بھی زاید ہے ۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کی لوٹ مار میں حکومتیں ہی شامل ہیں ۔ موٹروہیکل ٹیکس لینا بلدیات کا حق ہے کیوں کہ سڑکیں بنانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بلدیات کا فریضہ ہے مگر سندھ کی شہری حکومت یہ ٹیکس کراچی کی بلدیہ کے حوالے کرنے پر راضی نہیں ہے ۔ مرحوم عبدالستار افغانی کوکراچی کی میئر شپ سے صرف اسی لیے برطرف کردیا گیا کہ انہوں نے کراچی کے اس حق کا مطالبہ کیا تھا ۔ اسی طرح وفاقی حکومت ٹول ٹیکس کی آمدنی میں سے صوبوں کو ان کا طے شدہ حصہ دینے پر راضی نہیں ہے ۔ تو معاملات کی خرابی صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں ہے ، اس میں ان شہروں میں رہنے والوں کا کوئی قصور نہیں ہے کہ بلدیات کو اپنا فنڈ خود اکٹھا کرنے کے نام پر نئے ٹیکس لگانے کی بے نیام تلوار تھمادی جائے ۔ عمران خان اگر بنیادی اصلاحات کر گزریں تو یہ ملک کے لیے بھی بہتر ہوگا اور شہریوں کو بھی ان کے حقوق مل جائیں گے ۔ وہ بار بار اٹھارویں ترمیم کا ذکر کرتے ہیں کہ اس سے ملک کنگال ہوگیا ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے ان رقوم کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہیں جو وفاق ٹیکس کے نام پر جمع کرتا ہے اور اسے وہ ایک طے شدہ فارمولے کے تحت صوبوں کو دینے کا پابند ہے ۔ اگر کراچی کی بندرگاہ سے کوئی ٹیکس وفاقی حکومت لے لے اور کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے فنڈ نہ فراہم کرے تو اسے وفاقی حکومت کی نیت میں خرابی اور کراچی کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جائے گا ۔ عمران خان یہ فرمائیں کہ بلدیات کس طرح سے اپنا فنڈ اکٹھا کرسکیں گی ۔ کیا وہ کاروبار ، گاڑیوں اور گھروں پر نئے ٹیکس عاید کریں گی ۔ جب عمران خان کو یہ بتایا گیا کہ تہران 5 سو ارب ڈالر کا فنڈ اکٹھا کرتا ہے تو وہ یہ بھی معلوم کرتے کہ یہ فنڈ کس کس مد میںاکٹھا ہوتا ہے ۔ اگر کراچی کو صرف موٹر وہیکل ٹیکس ہی کی رقم دے دی جائے تو کراچی کی بلدیہ کو مزید کسی نئے ٹیکس کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ پھر بلدیہ کے تحت اسپتال بھی چلیں گے اور یونیورسٹیاں بھی ۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ صوبائی حکومت طے شدہ رقم بھی بلدیہ کراچی کے تحت چلنے والے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو دینے پر راضی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں پر کئی کئی ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہوپاتی ۔ جب ان اداروں میں تنخواہیں ہی ادا نہیں کی جارہی ہوں گی تو دیگر مدات کے لیے کس طرح سے فنڈ مہیا کیے جاسکیں گے ۔ ہماری عمران خان سے ایک مرتبہ پھر درخواست ہے کہ وہ نظام یونہی تلپٹ نہ کریں بلکہ اس سلسلے میں ماہرین سے مکمل رپورٹ بنوائیں اور پھر اصلاحات کریں نہ کہ نیا نظام ہی لے کر آئیں ۔

                                                                                                                           بشکریہ جسارت