September 22nd, 2019 (1441محرم22)

مسعود اظہر پر پابندی، کامیابی یا ناکامی؟

 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے ۔ اس پر حکومت پاکستان نے شادیانے بجاتے ہوئے اپنی کامیابی قراردیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک پاکستانی شہری پر الزامات لگائے جاتے ہیں اور پھر اسے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا جاتا ہے اور وزارت خارجہ کہتی ہے کہ یہ ہماری بڑی کامیابی ہے ۔ اگر یہ کامیابی ہے تو پھر ناکامی کیا ہے بھارتی حکومت بغلیں بجا رہی ہے کہ یہ اس کی کامیابی ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ایسی اور کئی خوش خبریاں ملیں گی ۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے عاید کی جانے والی پابندیوںکا فوری طور پر اطلاق کیا جائے گا ۔ یہ تو پھر بھی سلامتی کونسل کی بات ہے ، پاکستان کی تو صورتحال یہ ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے جو ڈوزیئر دیا تھا ، پاکستان نے اسی کے ڈر سے جیش محمد اور اس کے سربراہ پر پابندیاںعاید کردی تھیں یعنی پاکستان نے پہلے ہی اس امر کو تسلیم کرلیا تھا کہ جیش محمد ایک تخریب کار جماعت ہے اور مسعود اظہر بھی تخریب کار ہیں ۔ حکومت پاکستان کی کارروائیاں سمجھ میں نہ آنے والی ہیں ۔ خود بھارتیوں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ سمجھوتا ایکسپریس میں کی جانے والی تخریب کاری بھارتی حکومت اور را کی کارروائی تھی ۔ سمجھوتا ایکسپریس میں کیے جانے والے دھماکے کے نتیجے میں 70 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے تھے جس میں سے اکثریت پاکستانیوں کی تھی ۔ واضح ثبوتوں کے باوجود پاکستان نے اس کیس کو سلامتی کونسل میں اٹھانے سے گریز کیا ۔ یہ بھارت کی دہشت گردی کا واضح ثبوت تھا ۔ بالکل اسی طرح ممبئی حملہ کیس ہے ۔ یہ بھی خود بھارتیوں کی اپنی کارروائی تھی جس کی گواہی بھی بھارتیوں ہی نے دی مگر اس پر بھی پاکستان نے خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ 1971 میں بھارت نے علی الاعلان مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا ، بھارتی فوج کی مدد فراہم کی، اس کا اعتراف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈھاکا میں خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ بنگلا دیش مکتی باہنی نے نہیں را نے بنوایا ۔اس کے باوجود پاکستان نے بھارت کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ بھارت کے لغو بیانات اور الزامات کے بعد سلامتی کونسل نے ایک ایسے پاکستانی کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کردیا ہے جس کے بارے میں ایک بھی الزام پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا ۔ مسعود اظہر کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور اس کی مخالفت میں بھارت ، اسرائیل اور امریکا کھڑے ہیں ۔ پاکستان کی بیچارگی کا تو یہ عالم ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں غداری کا جرم ثابت ہونے کے باوجود اسے جرم کے مطابق سزا نہیں دی جاسکی ۔ اسے بھی پاکستان کی بیچارگی ہی کہا جائے گا کہ حکومت پاکستان کو باقاعدہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ را کی جانب سے فنڈ لے کر پاکستان میںدہشت گردی کرتی ہے ۔ جب حکومت پاکستان اعلان کررہی تھی تو سمجھا جارہا تھا کہ اب پاکستان کے سارے دشمن گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیے جائیں گے اور انہیں ان کے جرائم کے مطابق سزا ملے گی مگر یہاں پر بھی معاملات صرف اعلان تک ہی محدود رہے۔ درجنوں مرتبہ اعلانات کیے گئے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے سربراہ الطاف حسین ملک دشمن ہیں اور بھارتی فنڈ پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کارروائی کرتے ہیں مگر ہر مرتبہ حکومت ہی نے انہیں دوبارہ سے دودھ پلا کر توانا کیا ۔ اور عمران خان سند جاری کی کہ یہ نفیس لوگ ہیں۔ اگر بھارت کی طرف سے ابرو کا بھی اشارہ ہو تو پاکستان میں اپنے ہی کشتوں کے پشتے لگانے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر پاکستان اپنے فیصلے کب سے خود کرے گا ۔ اگر مسعود اظہر مجرم ہے تو اسے پاکستانی قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے اور اس کے لیے سلامتی کونسل کی پابندی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا اور اگر مسعود اظہر مجرم نہیں ہے تو سلامتی کونسل میں اس کا مقدمہ لڑنا چاہیے تھا اور ڈٹ جانا چاہیے تھا ۔ اقوام متحدہ وہ چھری ہے جو صرف کمزور پر گرتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد کب سے منظوری کے بعد عملدرآمد کی منتظر ہے ۔ اس سلامتی کونسل نے بھارت کا کیا بگاڑ لیا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل نے اسرائیل کے خلاف درجنوں قراردادیں منظور کیں مگر فلسطینیوں پر اسرائیل کا ظلم بڑھتا جارہا ہے ۔ سمجھنے کی بات اتنی سی ہے کہ زندہ قومیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں ۔ یہاں پر تو معاملہ ہی الٹ ہے ۔ بھارت اپنے اتحادیوں اسرائیل اور امریکا سے مل کر پاکستان سے ہاتھ کرگیا اور ہم اسی پر شاداں و فرحاں ہیں کہ مسعود اظہر کا نام پلوامہ کیس سے نکلوادیا ۔ کیا مسعود اظہر نے پلوامہ کا حملہ کیا تھا جو پاکستان نے ان کا نام کیس سے نکلوا کر کامیابی حاصل کرلی ۔ جب ایک شخص بیگناہ ہے تو پھر اس کا کسی بھی کیس میں نام ہو ، کیا فرق پڑتا ہے ۔ ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ایک قوم کا ہیرو اس کی دشمن قوم کا ولن ہوتا ہے ۔ اگر بھارت کو مسعود اظہر سے کوئی تکلیف ہے تو یقینا مسعود اظہر نے کچھ ایسا ضرور کیا ہوگا جو بھارت برداشت نہیں کرپارہا ۔ ایسے میں دشمن کے ساتھ مل کر مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کہیں سے بھی مستحسن نہیں ہے ۔ پاکستان کو چاہیے کہ مسعود اظہر کا مقدمہ دلیری سے لڑے اور دنیا کو بتائے کہ پاکستانی قوم ایسی گئی گزری نہیں ہے کہ جس کا جو جی چاہے اس کے ساتھ کر گزرے ۔ اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت، سمجھوتا ایکسپریس اور ممبئی حملہ کیس لے کر بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے ۔

                              بشکریہ جسارت