September 22nd, 2019 (1441محرم22)

یہ مغرب ہے

 

شاہنواز فاروقی

مغرب آزادی کی بات کرتا ہے اور مغرب کی آزادی ایک ”دھوکا“ ہے۔ مغرب جمہوریت کا راگ الاپتا ہے اور مغرب کی جمہوریت ایک ”فریب“ ہے۔ مغرب ”مساوات“ کا نعرہ لگاتا ہے اور مغرب کی مساوات کا کوئی وجود ہی نہیں۔ مغرب بھائی چارے کی بات کرتا ہے اور مغرب کی پوری تاریخ دوسری اقوام کو اپنا چارہ بنانے سے عبارت ہے۔ مغرب کے نوبل انعام یافتہ ادیب کیپلنگنے کہا تھا کہ مشرق آدھا شیطان ہے اور آدھا بچہ مگر مغرب کے بارے میں بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ مغرب مکمل شیطان ہے۔ یہ مغرب کا اجمال ہے۔ اس کی تفصیل آگے بیان ہوگی۔ فی الحال مغرب کی پاکستان سے متعلق شیطنت کی چند جھلکیاں۔
آپ کا خیال شاید یہ ہوگا کہ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے لیے جو مذاکرات کررہی ہے۔ اس میں آئی ایم ایف صرف پاکستان کی معیشت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوگا ایسا نہیں ہے۔
ہارون الرشید نے روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ”باخبر لوگوں“ کے حوالے سے کیا لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے۔
”اخبار اٹھایا تو اچھی خبر تھی۔ 8 بلین ڈالر عالمی مالیاتی فنڈ سے ملیں گے۔ اُمید ہے سات آٹھ ارب ڈالر عالمی بینک سے، سوچنے، کھوجنے اور تلاش کرنے کے لیے کچھ مہلت تو میسر آئی۔
”پھر کچھ باخبر لوگوں سے رابطہ کیا تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ آئی ایم ایف والے کہہ کیا رہے ہیں؟ ان کا مطالبہ ہے کہ سارے ملک کے سناروں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ لوٹ مار کی دولت سے سونے کی خریداری بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔ جس میں سے کچھ دہشت گردی میں برتی جاسکتی ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ چشمہ میں ایٹمی بجلی گھروں پر کتنا روپیہ آپ نے لگایا ہے اور اس سے کیا حاصل ہوا؟ وہ الخالد ٹینک کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔ یقین ہی نہ آیا۔ اب بھی نہیں۔“
(روزنامہ دنیا۔ 17 اپریل 2019ئ)
ہارون الرشید کے کالم سے ایک روز قبل جاوید چودھری نے اپنے کالم میں مغرب کے ایک ”معاشی دانش ور“ سے ہونے والی گفتگو رپورٹ کی ہے۔ اس گفتگو کے اہم حصے یہ ہیں۔
”آپ لوگ لانگ رینج میزائل بھی بنا رہے ہیں، آپ ایٹمی طاقت بھی ہیں اور آپ معاشی لحاظ سے بھی کمزور ہیں چناں چہ آپ دنیا کے لیے کسی بھی وقت مسئلہ بن سکتے ہیں“ وہ رکے، سگار کا لمبا کش لیا اور بولے ”آپ لوگوں کو دنیا کی اس آبزرویشن کو سیریس لینا ہوگا ورنہ آپ اپنا ٹھیک نقصان کرلیں گے۔آپ کا ماضی بھی اس سچ کی دلیل بن جاتا ہے‘ دنیا جانتی ہے آپ لوگوں نے تنہا سوویت یونین جیسی طاقت کو توڑ کر پھینک دیا تھا‘ آپ نے اکیلے بھارت جیسی طاقت کو اٹھنے نہیں دیا اور آپ تمام معاشی کمزوریوں کے باوجود جو چاہتے ہیں آپ کر گزرتے ہیں‘ آپ نے جے ایف تھنڈر تک بنا لیے ہیں چنانچہ عالمی پالیسی ساز سمجھتے ہیں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں“ وہ رکے‘ ایک اور کش لیا اور بولے ”پاکستان کے بارے میں میری اسٹڈی ہے عالمی طاقتیں آپ کو جنگ کا موقع نہیں دیں گی۔ یہ سمجھتی ہیں آپ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے ‘ آپ جنگ کا آغاز ہی آخری ہتھیار سے کریں گے اور یہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو گا چنانچہ یہ آپ کو اس لیول پر نہیں جانے دے گی‘ آپ دو ماہ پیچھے چلے جائیں‘ بھارت نے بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی‘ پاکستان نے شور کیا لیکن دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کے لیے سامنے نہ آیا‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا
اندازہ کرنا چاہتی تھی آپ کس لیول تک ری ایکٹ کر سکتے ہیں‘ آپ نے اگلے ہی دن بھارت کے دو طیارے مار گرائے۔بھارت نے 27فروری کی درمیانی رات سرحد پر 9 میزائل نصب کر دیے‘ آپ نے 14 کر دیے‘ وہ رات کولڈ وار کے بعد دنیا کی خطرناک ترین رات تھی‘ ایک چھوٹی سی شرارت پوری دنیا کو تباہ کر سکتی تھی چنانچہ دنیا فوراً متحرک ہوئی اور بڑی مشکل سے آگ ٹھنڈی کی‘ یہ ایک ٹیسٹ تھا‘ اس ٹیسٹ سے پتا چلا آپ لوگ ہر وقت حتمی جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں لہٰذا یہ آپ کو آیندہ کبھی اس سطح تک نہیں جانے دیں گے‘ یہ اب آپ کو میزائل باہر نکالنے کا موقع نہیں دیں گے‘ یہ سرحدوں پر بھی آپ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے‘ یہ آپ کومعاشی لحاظ سے تباہ کریں گے“ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”آپ میری بات نوٹ کر لیں‘ آئی ایم ایف نے جان بوجھ کر آپ کا پیکیج لیٹ کیا‘ یہ اب بھی آپ کو بار بار ترسائے گا‘ یہ ڈالر مزید مہنگا کرائے گا‘ یہ مہنگائی کو بارہ فی صد تک لے جائے گا‘ یہ پٹرول‘ گیس اور بجلی بھی مزید مہنگی کرائے گا ‘ یہ ترقیاتی بجٹ بھی کم کرادے گا ‘یہ بے روزگاری بھی بڑھائے گا‘ یہ ریاست کے ذریعے کالعدم تنظیموں پر بھی اتنا دباو¿ بڑھائے گا کہ یہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں گی‘ یہ پاکستان کی ایکسپورٹ بھی نہیں بڑھنے دے گا۔یہ اسٹاک ایکسچینج بھی نہیں اٹھنے دے گااور یہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کرا دے گاتاکہ عوام اس معاشی بوجھ تلے آ کر کریش ہو جائیں اور یہ حکومت اور ریاست دونوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں“۔آپ کے پاس سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہیں گے اور آپ ٹیکس کلیکشن فوج کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ جس دن ہو گیا آپ اس دن اپنے دن گننا شروع کر دینا کیونکہ ٹیکس کلیکشن فوج کی بدنامی کا باعث بن جائے گی‘ لوگوں کے دلوں میں محبت کم ہونا شروع ہو جائے گی اور عالمی ادارے یہی چاہتے ہیں‘ یہ آپ کو معاشی طور پر بھی زخمی کرنا چاہتے ہیں اور یہ عوام کے دل سے محبت بھی کھرچنا چاہتے ہیں اور آپ جس دن اس لیول پر آ گئے یہ آپ کو اس دن بھارت کے قدموں میں بٹھا دیں گے‘ یہ آپ کو بھوٹان اور مالدیپ بنا دیں گے۔
(روزنامہ ایکسپریس۔ 16 اپریل 2019ئ)
پاکستانیوں کی عظیم اکثریت عالمی بینک اور آئی ایم ایف کو ”مالیاتی ادارے“ سمجھتی ہے مگر درحقیقت یہ ادارے مغربی استعمار کی معاشی فوجیں ہیں۔ مغرب اپنی فوج کے ذریعے جغرافیے فتح کرتا ہے اور آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ذریعے قوموں کی معیشتیں ہی نہیں ان کی سماجیات اور ان کا دفاع تک ختم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے اہلکار پاکستان سے مذاکرات میں چشمہ ایٹمی پلانٹ اور الخالد ٹینک کے بارے میں سوال کررہے ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یورپی یونین نے معاشی مراعات کے لیے پاکستان کے حکمران طبقے کے ساتھ توہین رسالت کی واردات پر سودے بازی کی اور ملعونہ آسیہ عدالت عظمیٰ سے رہا کرایا۔ جاوید چودھری کے کالم کے اقتباسات خوف زدہ کردینے والے ہیں۔ جاوید چودھری ملک کے ان کالم نگاروں میں سے ایک ہیں جو شریف خاندان کو دوبارہ برسراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ شریف خاندان کو ان کی لوٹ مار کی سزا نہ ملنے پائے۔ وہ اپنے ایک کالم میں بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض کی حمایت کرچکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ ملک ریاض کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ہزاروں لوگوں کے روزگار سے کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چناں چہ جاوید چودھری کے مذکورہ بالا کالم میں ایک قسم کا مبالغہ بھی موجود ہے۔ تاہم اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا اور بالخصوص امریکا پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔مغرب کی یہ سازش نئی بھی نہیں۔

1971ءمیں پاکستان دولخت ہورہا تھا۔ پاکستان امریکا کا اتحادی تھا مگر امریکا نے پاکستان کی مدد سے صاف انکار کردیا۔ اس نے پاکستان کی درخواست پر اپنا ساتواں بحری بیڑا پاکستان کی طرف روانہ کرنے کا اعلان کیا مگر یہ بحری بیڑا کبھی پاکستان نہ پہنچ سکا۔ اس لیے کہ یہ بیڑا کبھی پاکستان کے لیے روانہ ہی نہیں ہوا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ پاکستان نے امریکا سے ایف 16 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا اور ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم پیشگی کے طور پر امریکا کو ادا کردی مگر امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ ایف 16 دیے نہ رقم لوٹائی۔ امریکا دس بارہ سال تک ہمارے ایک ارب ڈالر دبائے بیٹھا رہا۔ بالآخر اس نے ہمیں اس رقم کے بدلے سویا بین آئل فراہم کیا۔ حالاں کہ ہمیں سویا بین آئل کی ضرورت ہی نہ تھی۔ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز نے امریکا کے لیے پاکستان کی معیشت تباہ کردی۔ 70 ہزار افراد مروا دیے۔ ملک کی بقا و سلامتی کو داﺅ پر لگادیا مگر امریکا Do more کا راگ الاپتا رہا۔
پاک بھارت کشیدگی کل کی بات ہے۔ یہ کشیدگی بھارت نے پیدا کی مگر امریکا دباﺅ پاکستان پر ڈالتا رہا۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرانے کے لیے پاکستان پر دباﺅ ڈالا۔ پاکستان کا کوئی پائلٹ بھارت میں گرفتار ہو جاتا تو بھارت اسے مدتوں ”ٹرافی“ کے طور پر لیے پھرتا اور امریکا بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے اپنے ایک حالیہ کالم میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا کو افغانستان سے باعزت واپسی کا موقع فراہم کررہا ہے مگر امریکا اس کے بدلے میں پاکستان کو کچھ بھی دینے پر تیار نہیں۔ پوری مغربی دنیا دہشت گردی کے سخت خلاف ہے مگر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین دو دہائیوں سے لندن میں بیٹھ کر کراچی میں دہشت گردی کرارہے تھے اور امریکا کیا خود برطانیہ کو ”معلوم“ نہ ہوسکا کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ یہ مغرب کی کھلی شیطنت ہے۔
مغربی دنیا انسان کی آزادی کی علمبردار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنے سوا کسی کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم دنیا کا کوئی ملک بھی سیاسی، معاشی اور عسکری اعتبار سے آزاد نہیں۔ نہ مسلم دنیا کے ”بادشاہ“ آزاد ہیں، نہ ”جرنیل“ آزاد ہیں، نہ نام نہاد جمہوری اور سول رہنما آزاد ہیں۔ مغرب جمہوریت کو اپنا بڑا Ideal قرار دیتا ہے مگر مغرب کو دنیا میں جمہوریت بھی وہ چاہیے جو اس کی باندی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر کوئی اسلامی تحریک جمہوری طریقے سے اقتدار میں آنے لگتی ہے یا آنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مغرب اس کے خلاف سازش کرتا ہے۔ چناں چہ الجزائر میں اسلامی فرنٹ اقتدار میں نہ آسکا۔ حالاں کہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں اس نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی تھی۔ مغرب نے ترکی میں نجم الدین اربکان، فلسطین میں حماس اور مصر میں مُرسی کو نہ چلنے دیا۔ مغرب مساوات کی بات کرتا ہے مگر مغرب کی تخلیق کی ہوئی دنیا میں مساوات خواب بھی نہیں ہے۔ مغرب بھائی چارے یا Fraternity کا بہت شور مچاتا ہے مگر مغرب دنیا کی کمزور اقوام بالخصوص مسلمانوں کو ایک ہزار سال سے اپنا چارہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ مغرب ہی تھا جس نے صلیبی جنگیں ایجاد کیں۔ یہ صلیبی جنگیں دو سو سال جاری رہیں۔ یہ مغرب تھا جس نے نوآبادیاتی دور تخلیق کیا۔ یہ دور ڈیڑھ سو سال جاری رہا۔ یہ مغرب ہی ہے جس نے دو عالمی جنگیں برپا کیں۔ ان جنگوں میں ”صرف“ 12 کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ امریکا ہی ہے جس کی فوجیں سو سے زیادہ ملکوں میں موجود ہیں۔ یہ امریکا ہی ہے جس نے 2 بار اپنے ”انسانی بھائیوں“ پر ایٹم بم گرائے۔ یہ مغرب ہی ہے جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ذریعے کمزور ملکوں کی معیشت کو گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ لیکن مسئلہ محض مغرب کا نہیں۔
مسلم دنیا کے تو حکمران بھی اپنی قوموں کے لیے مغرب ہی ہیں۔ اس لیے کہ مسلم دنیا کے تمام حکمران مغرب کے ایجنٹ ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں عرب دنیا کے بادشاہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم ہماری وجہ سے اقتدار میں ہو، ہم نہ ہوں تو تمہاری حکومتیں چار دن میں گر جائیں۔ مسلم دنیا میں جرنیل مارشل لا لگاتے ہیں تو امریکا کی تائید سے، مسلم دنیا میں سول حکمران برسراقتدار آتے ہیں تو امریکا کی تائید سے۔ پیپلز پارٹی کا ”بیانیہ“ یہ تھا کہ بھٹو کو امریکا نے پھانسی چڑھوایا ہے، مگر بے نظیر امریکا کی تائید سے پاکستان لوٹیں۔ اُن کے تاریخی جلوس میں امریکا مخالف نعرے لگے تو بے نظیر نے کارکنوں کو امریکا کے خلاف نعرے لگانے سے منع کردیا۔ پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے پاکستان کو مغرب کے قرضوں میں غرق کردیا ہے اور اب ہمارے بجٹ کا 40 فی صد غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہورہا ہے یا ہونے ہی والا ہے۔ ملک و قوم پر قرضوں کا یہ بوجھ لادنے والے حکمران خواہ سول ہوں یا عسکری انہوں نے قوم کی آزادی کا سودا کیا ہے اور ملک کی بقا کو داﺅ پر لگایا ہے۔ چناں چہ ہمارے حکمران بھی دراصل مغرب کی توسیع کے سوا کچھ نہیں۔