June 18th, 2019 (1440شوال14)

تنخواہ دار کو مزید نچوڑنے کا فیصلہ

 

حکومت نے تنخواہ دار طبقہ کو مزید نچوڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے لیے تنخواہ دار طبقہ پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس وقت 4 لاکھ روپے سالانہ کمانے والا تنخوہ دار کارکن انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہے جبکہ 12لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدنی پر انکم ٹیکس کی شرح کم ہے ۔ اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تجویز دی ہے کہ سالانہ 8 لاکھ روپے تک آمدنی والے تنخواہ دار کارکن سے تو کم انکم ٹیکس وصول کیا جائے تاہم اس حد سے اوپر والے کارکن پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے ۔ کہا جارہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں جس کا اعلان مئی کے آخری ہفتے میں متوقع ہے ، عمران خان کے نئے کھلاڑی حفیظ شیخ ٹیکس کی شرح بڑھانے کا اعلان کریں گے ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شرح تنخواہ دار طبقے پر بڑھانے سے حکومت کو 25 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی ۔ ٹیکس کی زاید شرح کا مطلب یہ ہوا کہ 8 لاکھ روپے سالانہ سے ایک روپیہ اوپر بھی کمانے والے تنخواہ دار کارکن کی تنخواہ عملی طور پر کم ہوجائے گی ۔ عمرانی حکومت نے تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ کم کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب مہنگائی کے طوفان نے ہر چیز کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے ۔ عمران خان کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 44 فیصد بے قدر ہوا ہے جس کی وجہ سے عملی طور پر مہنگائی میں 60 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے ۔ تنخواہ دار طبقے پر کم شرح انکم ٹیکس کا کہیں سے بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ بقیہ ٹیکس نہیں دیتے ۔ موبائل فون کارڈ،ادویہ ، پٹرول سے لے کر بچوں کی کالجوں میں فیسوں تک پر یہ لوگ بھی 18 فیصد تک ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ چونکہ ان کی تنخواہ انتہائی قلیل ہوتی ہے جس سے گزارہ مشکل ہوتا ہے اس لیے ان سے کم شرح سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ بلا ٹیکس آمدنی کی حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردی جاتی اور 24 لاکھ روپے تک پر کم شرح سے انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ، حکومت نے اسی طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو باقاعدگی سے ٹیکس کی ادائیگی کرتا ہے ۔ حکومت کے اس اقدام سے سرکاری خزانے پر تو کئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کھربوں روپے کے بجٹ میں 25 ارب روپے کسی گنتی شمار میں نہیں آتے مگر جس فرد سے اس ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی ، اس کے لیے ضرور مشکلات کا ایک نیا پہاڑ کھڑا ہوجائے گا۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آنے والی کہ جو ادارے حکومت کے ہزاروں ارب روپے دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں ، حکومت ان سے وصولی میں کیوں سنجیدہ نہیں ہے ۔ سرکارہی کے اعداد و شمار کے مطابق صرف کے الیکٹرک اور گیس کمپنیوں نے عوام سے سیلز ٹیکس کے نام پر جو ٹیکس جمع کیا اور سرکار کے کھاتے میں جمع نہیں کروایا ، اس کی مالیت 750 ارب روپے سے زاید ہے ۔ ان کمپنیوں نے خود جو انکم ٹیکس جمع نہیں کروایا ، اس کی مالیت اس کے علاوہ ہے ۔ اسی طرح ریسٹورنٹ، ہوٹل ، شادی ہال ، فضائی کمپنیاں ، ریلوے اور اس طرح کے متعدد ادارے عوام سے سرکار کے نام پر ٹیکس جمع کرکے کھا جاتے ہیں جس کی مالیت ہزاروں ارب روپے میں بنتی ہے ، مگر سرکار کی اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے ۔ جو صنعتی ادارے ایکسائیز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کے بغیر کئی کئی کنٹینر مارکیٹ میں سپلائی کردیتے ہیں اور اس پر عوام سے وصول شدہ ٹیکس کھا جاتے ہیں ، ان کو بھی سرکار نے چھوڑا ہوا ہے ۔ پوری فوج کو ایکسائیز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کے بغیر تمام اشیاءفراہم کی جاتی ہیں ، اگر یہ ٹیکس وصول کرلیا جائے تو کئی سوا رب روپے ماہانہ کی وصولی ہر برس بڑھ سکتی ہے مگر اس طرف بھی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ جو ٹیکس ایک سو روپے روز کی دہاڑی لگانے والا مزدور ادا کرتا ہے ، اس ٹیکس سے بھی یہ طبقہ مستثنیٰ ہے مگر زور ہے تو تنخواہ دار طبقے پر جو پہلے ہی پسا ہوا ہے ۔ حفیظ شیخ چونکہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے خاص منظور نظر ہیں ، اس لیے انہیں بھی وہی بھاشا سمجھ میں آتی ہے جو عالمی بینک اور آئی ایم ایف بولتے ہیں ۔ انہیں بھی تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگا کر اس سے 25 ارب روپے کی وصولی تو سمجھ میں آتی ہے مگر ہزاروں ارب روپے کی ٹیکس چوری کو روکنا اور اسے وصول کرنا سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ حفیظ شیخ تو ایک ٹیکنوکریٹ ہیں ، اپنا کام وزات خزانہ میں انجام دے کر کل کسی اور ڈیسک پر ذمہ داری ادا کررہے ہوں گے ۔ تنخواہ دار طبقے میں بے چینی پیدا کرنے کا مطلب ہے ملک میں انارکی کا دور دورہ ۔ عملی طور پر یہ حزب اختلاف کو حکومت کے خلاف مہم منظم کرنے کے لیے غیبی مدد فراہم کرنا ہے ۔عمران خان ان خفیہ ہاتھوں سے ہشیار رہیں اور بجٹ کو عوامی مفاد میں بنانے کی ہدایت کریں ۔ کے الیکٹرک اور گیس کمپنیوں سمیت ان بڑے چوروں کی گرفت کریں جنہوں نے سرکار کے نام پر عوام سے سیکٹروں ارب روپے وصول کرکے ہڑ پ کرلیے ہیں ۔ ان اداروں سے نہ صرف اصل رقم واپس لی جائے بلکہ اس رقم پراسی شرح سے سود وصول کیا جائے جس شرح سے یہ عوام سے لیٹ سرچارج وصول کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سرکاری رقم جان بوجھ کر ہڑپ کرنے کے جرم میں ان سے بھاری جرمانہ بھی وصول کیا جائے ۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اسے نہ کوئی نیا ٹیکس لگانا پڑے گا اورنہ ہی قرض کے لیے آئی ایم ایف جیسے کسی ادارے کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑے گا ۔

                                                                                                                                                                        بشکریہ جسارت