March 25th, 2019 (1440رجب18)

کشیدگی میں مزید کمی۔۔۔ پانی بھی بند

 

لیجیے، خیر سگالی کے جذبات اُمڈے پڑ رہے تھے پائلٹ غیر مشروط طور پر حوالے کردیا گیا۔ ہائی کمشنرز نے ڈیوٹیاں سنبھال لیں، اور بس ٹرین سروس بھی شروع ہوگئی لیکن کشیدگی میں کمی کا ایک اور نمونہ بھارت کی جانب سے پیش کردیا گیا کہ مشرقی دریاؤں سے پاکستان آنے والا پانی روک لیا گیا۔ اب بھارت نے یہ پانی اپنے صوبوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ مودی کی جانب سے آتش گیر بیانات جاری کیے جارہے ہیں، پانچ سال میں پہلی مرتبہ وہ فوجی تقریب میں شریک ہوا اور وہی راگ الاپا کہ بہت ہوچکا ہمیشہ کے لیے سرحد پار سے حملے برداشت نہیں کرسکتے۔ کشیدگی میں کمی کا ایک اور احسان بھارت نے یہ کیا کہ کشمیریوں پر کریک ڈاؤن میں اضافہ کردیا ہے۔ کشمیری اخبارات کو بھارت کے جنگی جرائم اور مظالم پر آواز اُٹھانے کی سزا دی جارہی ہے اس لیے ان کے اشتہارات بند کردیے گئے۔ اخبارات نے احتجاجاً صفحہ اوّل خالی چھوڑ دیا۔ معلوم نہیں پاکستان وزارت اطلاعات پاکستان اخبارات کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیوں کرتی ہے۔ شاید وہ بھی بھارتی مظالم کو اُجاگر کرتے ہیں اس لیے انہیں بھی یہ سزا دی جارہی ہے۔ بہرحال کشیدگی میں کمی کے اقدامات جاری ہیں لیکن صرف پاکستان کی طرف سے۔ بھارت کا تو ہر اقدام کشیدگی کو ہوا دینے والا ہے۔ بھارتی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ہم نے 53 لاکھ ایکڑ فٹ پانی روکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ ہاں پاکستان کی جانب سے ہمیشہ کی طرح طفل تسلیاں دی جارہی ہیں کہ بھارت پانی نہیں روک سکتا۔ اس کے پاس اس کا کوئی سسٹم ہے نہ ہمارے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہی تسلیاں برسوں سے پاکستانی قوم کو دی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں بار بار یہ کہا گیا کہ پاکستان میں فوج، حکومت اور تمام سیاستدان ایک پیج پر ہیں لیکن یہ سب کیا ہے۔ پاک فوج کے کورکمانڈرز بھارت کی اشتعال انگیزیوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور ہر وقت چوکس رہنے کی بات کررہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ تو پھر ایک پیج پر دو مختلف باتیں کیونکر ہوسکتی ہیں۔ میرٹھ میں انسداد تجاوزات کی کارروائی کے دوران ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی جھگیاں اور دکانیں جلادیں۔ الزام اُلٹا مسلمانوں پر لگایا گیا ہے۔ یہی نہیں کشیدگی میں کمی کے اقدامات بھارتی ہندو دنیا بھر میں کرتے پھر رہے ہیں، لندن میں مودی کے حامیوں نے احتجاج کرنے والے کشمیریوں اور سکھوں پر حملے کردیے، یہ لوگ بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کررہے تھے ان سے جھنڈے اور پلے کارڈ چھیننے کی کوشش کی گئی۔ ہاں ہم کشیدگی میں کمی کے لیے ہر وہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ ڈوزیئر میں اگر وزیراعظم کا نام آجائے تو کیا حکومت انہیں جیل میں بند کردے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک جانب وزیر خزانہ فرما رہے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک ریجن کے شریک چیئرمین کے عہدے سے بھارتی مندوب کو ہٹوانا چاہتے ہیں لیکن وزیر اطلاعات فرما رہے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری نہ کیں تو معاشی سختیاں بڑھیں گی۔ جب بھارتی شریک چیئرمین وہاں بیٹھا ہوگا تو شرائط بھی بھارت کی مرضی کی آئیں گی اور سختیاں بھی پاکستان کے حصے میں آئیں گی۔ ہمارے حکمران جس سفارتی جنگ کی بات کرتے ہیں وہ یہی تو ہے۔ ہر اہم ادارے میں بھارت گھسا بیٹھا ہے۔ آئی سی سی میں بھارت، ایف اے ٹی ایف میں بھارت۔ پھر جب ہم سفارتی جنگ اور حمایت کی بات کرتے ہیں تو یہ لوگ رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ پاکستانی حکمران اگر کشمیریوں کے لیے سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے تیاریاں بھی کریں۔ ان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ تو اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاک فوج تو بھارت سے برسرپیکار ہے، فضائیہ ان کے طیارے گرا رہی ہے، بری فوج سرحدوں پر چوکس ہے، بحریہ آبدوز کو گھیر رہی ہے اور ہماری حکومت کرتارپور راہداری پر دن رات کام کررہی ہے۔ یہ کام سخت کشیدگی کے دوران بھی تیز رفتاری سے جاری رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہے تو یہ سب کیوں۔۔۔ یا پھر یہ سب بھی پیج کے دوسری جانب جاری ہے اور اس میں بھی سب ایک ہیں۔۔۔ تو پھر پاکستانی قوم ریلیاں، مظاہرے، احتجاج کس لیے کرے۔۔۔ ایک مرتبہ قوم کو بتاتو دیا جائے کہ کشمیر کے لیے حکومت کیا کرسکتی ہے۔ اس سے قبل حکومت یہ بتائے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو کیا سمجھتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے جذبات سے آگاہ نہیں یا کم از کم یکسو تو نہیں ہے۔ ورنہ خیر سگالی کے اظہار اور کشیدگی میں کمی کے لیے بے چین نہیں ہونا چاہیے تھا۔

                                                                                                                                                                                                    بشکریہ جسارت