March 25th, 2019 (1440رجب18)

عمران خان کا الزام اور جواب

 

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاق خسارے میں ہے کیوں کہ سارے پیسے صوبے لے جاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا ہے کہ سندھ میں ترقیاتی کام نظر نہیں آرہے ۔ آخر یہ رقم جاتی کہاں ہے ۔ جوابی غزل کے طور پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی نااہلی اور ناکام پالیسیوں کے باعث ٹیکس وصولی میں کمی ہورہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے افسران کام کرنے سے کترانے لگے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مرا د علی شاہ نے جو باتیں کہی ہیں وہ دونوں ہی درست ہیں ۔ وفاق صوبوں کو دستیاب وسائل میں سے جب پورا حصہ دیتا ہے توآخر سندھ کے فنڈز جاتے کہاں ہیں ۔ سندھ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہی کی طرف جارہا ہے ۔اب تو صورتحال یہ ہے دوسرے صوبوں کے گاؤں سندھ کے شہروں سے بہترلگتے ہیں ۔ کراچی اور حیدرآباد کا تو ذکر ہی کیا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم دونوں نے مل کر ان شہروں کا حال برا کردیا ہے ، بھٹو کے شہر لاڑکانہ ،زرداری کے شہر نوابشاہ اورخورشید شاہ کے شہر سکھر ، سب کاحال ایک جیسا ہی ہے ۔ کئی برس سے فریال تالپور کے خلاف لاڑکانہ کے لیے مختص 90 ارب روپے کی کرپشن کی تفتیش چل رہی ہے ۔ روز اربوں روپے کے بے نامی اکاؤنٹس کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اب تک ہزاروں ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوچکا ہے ۔ اس سے اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ کو ملنے والے فنڈز جاتے کہاں ہیں ۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی درست کہا ہے کہ وفاق کی نااہلی کی وجہ سے ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقوم میں اضافہ ہونے کے بجائے مسلسل کمی ہورہی ہے ۔ ہم اس جانب پہلے بھی توجہ دلاتے رہے ہیں کہ اصل ٹیکس چوری انفرادی سطح پر نہیں بڑے پیمانے پر ٹیکس ادا کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کی سطح پر ہورہی ہے ۔ ابھی چند دن پہلے ہی اطلاع آئی تھی کہ صرف کھاد بنانے والی کمپنیوں اور گیس و بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ہی نے 750 ارب روپے کی ٹیکس چوری کی ہے اور اب انہیں ایمنسٹی دینے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ یہ وہ ٹیکس نہیں ہے جو ان کمپنیوں کو اپنی آمدنی پر دینا تھا بلکہ یہ وہ ٹیکس ہے جو ان کمپنیوں نے سرکار کے نام پر عوام سے وصول کیا اور سرکار کے کھاتے میں جمع کروانے کے بجائے خود ڈکار گئی ہیں ۔ مثال کے طور پر کے الیکٹرک نے عوام سے بجلی کی فراہمی کے علاوہ ٹیکس کے نام پر جو رقم وصول کی وہ کے الیکٹرک نے سرکاری کھاتے میں جمع کرانے کے بجائے خود ہضم کرلی اور اب اس کی سزا کے الیکٹرک کو دینے کے بجائے اس کی معافی دی جارہی ہے ۔ اگر وفاقی حکومت ٹیکس وصول کرنے کے نظام کو درست کرلے اور ان بڑے بڑے اداروں میں جمع کردہ ٹیکس کی بروقت وصولی کو یقینی بنالے تو وفاقی حکومت کو دن رات قرض جمع کرنے کی مہم سے نجات مل جائے گی اور ملک میں ترقیاتی کام بھی انجام پاسکیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا دوسرا جملہ بھی غور طلب ہے کہ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے سرکاری افسران کام کرنے سے کترانے لگے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا اشارہ اس طرف تھا کہ سندھ میں نیب کی کارروائیاں روک دی جائیں کیوں کہ سندھ میں یہ پیپلزپارٹی کا مسلسل تیسرا دور حکومت ہے ۔ اس لیے منطقی طور پر نیب جو بھی کارروائی کرتی ہے اس کا نشانہ پیپلزپارٹی کے سیاستداں اور ان کے رشتہ دار بیوروکریٹ ہیں ۔نیب کی کارروائیوں کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ ہے نیب کی کسی بھی کارروائی یا تفتیش کا منطقی انجام تک نہ پہنچنا ۔ اب تو اس بارے میں عدالت عظمیٰ بھی کھلی عدالت میں کئی مرتبہ سرزنش کرچکی ہے مگر نیب کی چال وہی بے ڈھنگی ہے ۔ نیب کا طریقہ کار اغوا برائے تاوان کی وارداتوں سے ملتا جلتا ہے ۔ کسی بھی افسر یا شخص کو نیب کے ادارے میں طلب کرلیا جاتا ہے اور سوال و جواب کا طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ کچھ عرصے کے بعد گرفتار بھی کرلیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کا میڈیا ٹرائل بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ کئی برس تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور پھر عدالت میں نیب کا تفتیشی افسر ہی یہ بیان دیتا ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف ثبوت موجود نہیں ہیں ۔ یا پھر پلی بارگین کے نام پر لوٹی گئی رقم کا چند فیصد لے کر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس طرح سے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے بجائے اس کا فروغ ہوا ہے ۔ اب تو سرکاری افسران نے باقاعدہ گروپ بنالیے ہیں ۔ اس طرح وہ نیب پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ان کے گروپ کے ارکان کی طرف نیب کو دیکھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر وزیر اعظم عمران خان ٹیکس جمع کرنے والے ادارے اور نیب کو درست کرلیں تو پھر ملک سے کرپشن کا بھی خاتمہ ممکن ہے اور قرض کے لیے دربدر بھی نہیں بھٹکنا پڑے گا ۔ا سی طرح وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی دستیاب فنڈز کا درست استعمال کرلیں تو سندھ میں بھی بہتری نظر آئے گی اور کراچی جیسا بین الاقوامی شہر کچرے کا ڈھیر اور گٹر کے پانی میں ڈوبا نظر نہیں آئے گا ۔                                                                                                                                                                                                                                         بشکریہ جسارت