March 25th, 2019 (1440رجب18)

سبب موجودکشیدگی کم؟؟

 

پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے دہانے تک پہنچنے کے بعد یہ خبریں آرہی ہیں کہ کشیدگی میں کمی ہوگئی ہے۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ کسی ضروری کام سے بلائے گئے ہائی کمشنرز اپنی اپنی ذمے داریاں نبھانے واپس پہنچ گئے ہیں۔ عالمی برادری کے اہم ملک چین اور یورپی یونین نے بھی تصادم کے بجائے مذاکرات اور مصالحت پر زور دیا ہے لیکن اس حوالے سے اخبارات میں اختلاف رائے ہے۔ اخبار جنگ نے کشیدگی میں مزید کمی کی سرخی جمادی ہے جب کہ اُمت نے صورتحال کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بالکل برعکس ہے۔ اخبار کے مطابق بھارت نے پاکستانی اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا ۔ اس وقت کیفیت یہ ہے کہ بھارت مشرف دور کے امریکا والا کردار ادا کررہاہے۔ جتنا بھی کرلو ناکافی ہے۔ لہٰذا ڈومور۔ پاکستانی حکومت نے کسی خوف کے بغیر کسی دباؤ اور مداخلت کے بغیر بھارتی ڈوزیئرمیں موجوود افراد اور اداروں کے ناموں کی بنیاد پر جماعت الدعوۃ، حافظ سعید اور اب فلاح انسانیت اور ان کے مدارس کے خلاف کارروائی کر ڈالی۔ مسعود اظہر اور ان کی تنظیم برسوں سے لاپتا تھی بھارتی الزامات نے اسے زندہ کیا اور حکومت نے اچانک چھاپے مارنا شروع کردیے۔ ان دونوں پہلوؤں سے قطع نظر مودی کی ساری حکمت عملی کو ان کے اپنے فوجی اور سیاسی رہنما سیاسی ڈراما قرار دے رہے ہیں۔ بات صرف بیانات تک نہیں رہی بلکہ بھارت کے سابق نیول چیف ایڈمرل رام داس نے بھارتی الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے کہ مودی نے صرف ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حملہ کرایا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو لکھا ہے کہ حالیہ واقعات سے فوج میں ہندو انتہا پسندی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ سیاسی فوا ئد کے لیے فوج کے استعمال کو روکا جائے ورنہ آگ سب کو جلادے گی۔ بھارت کا اصل رویہ تو وہی ہے کہ وہ خود کو علاقے کا چودھری سمجھتا ہے اسے کشمیریوں سے نہیں کشمیر کی زمین سے غرض ہے۔ پھر مودی جیسا دہشت گرد وزیراعظم بیٹھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت میں بہر حال ہندو انتہا پسندی اپنا بھرپور رنگ دکھارہی ہے۔ ان خبروں کو سامنے رکھیں اور حقائق کا مشاہدہ کریں۔ بھارتی طیارے آئے اور بم اورپے لوڈ گراکر چلے گئے۔ پاکستانی طیاروں نے بھارتی طیاروں کو جال میں پھنسایا پاکستان لائے اور دو طیارے مار گرائے۔ پائلٹ پکڑا اور جلد بازی یا گھبراہٹ میں دے دیا پھر دونوں ملکوں میں زبانوں کی توپیں چل پڑیں۔ خوب جلے اور مظاہرے ہوئے دونوں طرف حکومت اور فوج کے ساتھ یکجہتی کا اعلان ہوا اور اب دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز کام پر واپس چلے گئے۔ اور کشمیری کہاں گئے؟؟ساری دنیا مذاکرات اور مصالحت کی بات کررہی ہے لیکن دنیا بھی جانتی ہے کہ بھارت مصالحت چاہتا ہے نہ مذاکرات خود چینی وزیر خارجہ نے بیان دیا ہے کہ بھارت عالمی ثالثی سے گریز کرتا ہے اور پاکستان اس کا خیر مقدم کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے چاہییں۔ اسی طرح کا بیان یورپی ارکان پارلیمنٹ نے دیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور نریندر مودی کو خطوط لکھے ہیں اور کہاہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی پر ہمیں تشویش ہے۔ دونوں ممالک فوراً مذاکرات کریں۔ کشمیریوں کو شامل کیے بغیر معاملات حل نہیں ہوسکتے۔ یورپی پارلیمنٹ چین، امریکا، او آئی سی، اقوام متحدہ سب ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ مذاکرات کرو اور مذاکرات کیسے ہوں گے اس پر کوئی عملی حل تجویز نہیں کیا گیا۔ یہ ادارے اور ممالک اس کا عملی حل دے بھی نہیں سکتے۔ ہر معاملے کو طاقت سے حل کرنے والے امریکا نے 17 برس اپنی پٹائی کروانے کے بعد طالبان سے مذاکرات شروع کیے ہیں اور طالبان بھی مذاکرات افغانستان کے سیاسی نظام، انتخابات یا دوسرے مسائل پر نہیں کر رہے صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے غیر ملکی افواج کا انخلا۔ بھارت کی پٹائی ابھی نہیں ہوئی۔ صرف چھیڑچھاڑ ہوتی رہتی ہے۔ جب تک کشمیریوں کے ہاتھوں بھارت کی اسی طرح پٹائی نہیں ہوگی جس طرح افغانوں نے غیر ملکی افواج کی کی ہے اس وقت تک بھارت مذاکرات یا مصالحت کی بات نہیں کرے گا۔ لہٰذا مسئلہ موجود رہے اور کشیدگی کم ہوجائے۔ یہ تو کسی طور ممکن نہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر کشیدگی کم ہوگی نہ سرحدی چھیڑ چھاڑبند ہوگی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس چیز کو کشیدگی کم کرنا کہا جارہاہے اور اقدامات ناکافی قرار دینے کے بیانات آرہے ہیں وہ کیا ہے اگر ہائی کمشنرز واپس پہنچ گئے ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند، جماعت اسلامی پر پابندی ختم اور گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ کشیدگی تو ان اقدامات سے ختم ہوگی۔ پاکستانی وزرا اور حکومت کے منہ میں زبان نہیں ہے یا ہمت نہیں کہ بھارت سے یہ مطالبات کریں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ بھارت سے تین جنگیں لڑچکے چوتھی بھی لڑسکتے ہیں۔ ذرا وہ تین جنگوں کے نتائج تو بتادیں۔ وہ پاکستانی عوام کو کیا بتارہے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کررہاہے اس کے ثبوت لے کر دنیا کے پاس کیوں نہیں جاتے۔ وزیر خارجہ آئی سی سی سے کرکٹرز کے فوجی ٹوپی پہننے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ششانک منوہرآئی سی سی چیف ہے وہ خود اندر اور باہر سے انتہا پسند ہے پی ایس ایل میں نہیں آیا۔ اس سے مطالبات کے کیا معنی ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ بھی کسی سے پیچھے نہیں وہ بھی بھارت کو ایف اے ٹی ایف کی ایشیا پیسیفک گروپ کے شریک چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا بیان دے رہے ہیں۔ یہ سب زبانی توپیں ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔

                                                                                                                                                                        بشکریہ جسارت