March 25th, 2019 (1440رجب18)

کورکمانڈرزکاانتباہ

 

پاکستانی فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے آگ مزید بھڑک رہی ہے ۔ جمعرات کو ہونے والی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پلوامہ واقعے کے بعد سے مقبوضہ وجموں کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھ گئے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کی سیکوریٹی فورسز کنٹرول لائن پر معصوم عوام کو مسلسل نشانہ بنارہی ہیں ۔ اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی جارحیت سے خطے کی سلامتی کو خطرہ ہے ، عالمی برادری اس کا نوٹس لے ۔ بھارت جس طرح کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہندو انتہا پسندوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسایا جارہا ہے اور ان کی سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے وہ قابل تشویش ہے ۔ مودی ایسا پہلی مرتبہ نہیں کررہا ۔ یہ کھیل وہ گجرات میں بہت پہلے کھیل چکا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور ان کی املاک کو ہندو انتہا پسندوں نے جلا کر راکھ کردیا ۔ اکثر کیسوں میں مسلمانوں کی املاک پر قبضہ بھی کیا گیا ۔ اب اسی منصوبہ بندی کے ساتھ مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرگرم عمل ہے ۔ پلوامہ واقعے کے بعد سے پورے بھارت میں کشمیریوں پر حملے معمول بن چکے ہیں ۔ جمعرات کو لکھنؤ میں دو کشمیری خوانچہ فروشوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ جموں میں سری نگر جانے والی بس پر دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں 18 کشمیری شدید زخمی ہوگئے ۔ مقبوضہ جموں وہ علاقہ ہے جہاں بھارت سے لائے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کو بسایا گیا ہے اور باہر سے لائے ہوئے یہ ہندو اب وادی کے باشندوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ ضلع کپواڑہ میں بھی بھارتی فوج کے تشددسے متعدد افراد شہید و زخمی ہوئے ہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھی کررہا ہے اس کے نتیجے میں کشمیریوں کے پاس تنگ آمد بہ جنگ آمد کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام حریت پسندوں کے ساتھ ہیں ۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وادی میں تشدد کی کارروائیوں کے پردے میں کشمیر کے اصل مسئلے کو عالمی برادری کی نظروں سے اوجھل کردے گا ۔ لوگ صرف انسانی حقوق کی بات کریں گے اور اصل بات کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو بھول جائیں گے۔ بھارتی نیتاؤں کے سامنے بھوکے ننگے اور بنیادی حقوق سے محروم بھارتی عوام نہیں ہیں بلکہ ان کے سامنے صرف اور صرف چناؤ ہے ۔ بھارتی فوج بھی اس پورے کھیل میں بھارتی سیاستدانوں کے ساتھ ہے کیوں کہ فرسودہ ہتھیاروں کی تبدیلی کے نام پر انہیں بھی موٹی رقم کا آسرا دیا گیا ہے ۔ فرانس سے لیے جانے والے رافیل طیاروں کا اسکینڈل سب کے سامنے ہے ۔ یہ بات بھارتی عوام کے سمجھنے کی ہے کہ جنگ کی تیاری کے نام پر جو اربوں ڈالر وہ اسلحے کی خریداری پر خرچ کررہے ہیں ،ا سے بھارتی عوام کی بہبود پر خرچ ہونا چاہیے ۔ پاکستانی قیادت نے تدبر کا ثبوت دیا اور جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بھارتی قیادت اس جنگ کو دونوں ممالک کے عوام پر مسلط کیے بغیر ماننے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کے دانشوروں کو اس مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے کشمیر میں رہنے والوں کو اس امر کا حق دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور پھر اس فیصلے کو خوش دلی کے ساتھ قبول بھی کیا جائے ۔ تقسیم ہند کے وقت یہی فیصلہ کیا گیا تھا ۔ مقبوضہ جموں کی عدالت بھی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے ۔ یہ بات راجا ہری سنگھ کے بیٹے بھی کہہ رہے ہیں تو پھر بھارتی قیادت کیوں ہٹ دھرمی سے کام لے رہی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہے ۔ اس وقت بھارت کو صرف اور صرف اپنے ملک کے رقبے پر گھمنڈ ہے اور اس کا ایک یہ خیال ہے کہ وہ نسبتاچھوٹے ملک پاکستان کو با آسانی ہڑپ کرجائے گا ۔ بھارت کے پاس صرف فوج ہے جو لڑے گی مگر پاکستان کی تو پوری قوم ہی فوج ہے جو شہادت کے جذبے سے سرشار ہے ۔ اس جذبے کے مالک کشمیری تو بھارت کی دس لاکھ فوج کے قابو میں آ نہیں رہے تو پھر وہ کس طرح پاکستان پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔عالمی طاقتیں دیکھنے میں تو اس جنگ کے خلاف ہیں مگر اس خطے میں بے چینی اور جنگ ان کے مفاد میں ہے ۔ جنگ ہونے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ان کی اسلحے کی کمپنیاں دن رات لوہے کو سونے سے تبدیل کریں گی ۔ دو بھارتی طیاروں کو پاکستان کی جانب سے گرائے جانے کے بعد ان کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کے طیاروں کی فروخت کا راستہ کھل گیا۔ بہتر ہوگا کہ بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور اپنے عوام کو جنگ کا ایندھن بنانے سے گریز کرے ۔ بھارتی عوام کی خوشحالی کے لیے کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کرے اور شفاف استصواب رائے کو ممکن بنائے ۔

                                                                                                                                                                                                بشکریہ جسارت