March 25th, 2019 (1440رجب18)

فیصلہ پاکستان کا یا بھارت کا ؟

 

 

پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی فرمائشوں المعروف ڈوزیئر کے بعد عمرانی حکومت نے مزید اقدامات کرتے ہوئے پہلے جماعت الدعوۃ اور اس کی سماجی و فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت کئی دیگر تنظیموں پر پابندی عائد کر کے انہیں کالعدم قرارد یا، ان کے اثاثوں کو منجمد کردیا اور اب ان کالعدم تنظیموں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے ۔ تازہ ترین کارروائی میں مولانا مسعود اظہر کے بیٹے اور بھائی سمیت 44 افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے روایتی بیان جاری کیا ہے کہ یہ پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے اور کوئی بھی فیصلہ کسی کے دباؤ میں آکر نہیں کررہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی بیان ہے کہ جب پیٹرول، بجلی و گیس وغیرہ کے نرخوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس سے عام آدمی بالکل متاثر نہیں ہوگا ۔ بھارت کی جانب سے دی جانے والی فہرست پر عملدرامد سے قبل حکومت میں بیٹھے بزرجمہر کم از کم یہ بات تو سمجھتے کہ اس طرح ہم بھارت کے تمام الزامات کو درست قرار دے کر عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مستحکم کررہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ پاکستان کم از کم وہ موقف ہی اپنا لیتا جو مولانا مسعود اظہر کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بھارتی قرارداد کو ویٹو کرتے وقت چین اپناتا ہے کہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف واضح اور ٹھوس ثبوت دیے جائیں ۔ پاکستان میں تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے پاکستان اگر بھارت سے یہ کہتا کہ فرمائشیں کرنے کے بجائے ٹھوس ثبوت دیں تو بہتر ہوتا ۔ عمران خان کے فیصلوں کے نتیجے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف حریت پسندوں کے لیے ایک جیسی ہی صورتحال ہے ۔ بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے خلاف کریک ڈاؤن کررہا ہے ۔ اس نے بھی جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر پر پابندی عائد کردی ہے اور اس کے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کرنا شروع کردیا ہے ۔ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کردی ہیں ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی ہے ۔ جن افراد یا تنظیموں کو بھارت اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا تھا ، ان کے خلاف حکومت پاکستان نے کارروائی شروع کرکے پہلے قدم کے طور پر ان پر پابندی لگائی ، ان کے اثاثے منجمد کیے اور اب ان کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے ۔ سیدھی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ ایک قوم کا ہیرو دشمن ملک کا ولن ہوتا ہے ۔ ایم ایم عالم پاکستان کے ہیرو ہیں تو بھارت کے ولن ہیں ۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کا فخر ہیں تو بھارت کے لیے دشمن کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ابھی منگل ہی کو پاکستان نے سمندری حدود میں بھارتی دراندازی کو ناکام بنایا ہے اور پاکستانی پانیوں میں موجود تین بھارتی آبدوزوں کو پاکستانی حدود چھوڑنے پر مجبور کیا ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کی سوچ کیا ہے ۔ اس کے جواب میں عمران خان اور انہیں حکومت میں لانے والے بھارت کے سامنے کتنا اور کس حد تک جھکیں گے ۔ بھارت کے ساتھ یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں ہے کہ جب تک اسے جوابی طمانچہ رسید نہ کیا جائے ، اس کے دماغ ٹھکانے نہیں آتے ۔ 12 مئی 1998 کو جب بھارت نے باقاعدہ ایٹمی دھماکے کرکے اپنی ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تھا ، اُس کے بعد بھارتی نیتاؤں کے بیانات تو دیکھیں ۔ ایسا لگتا تھا کہ اب تب میں پاکستان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیں گے ۔ اس کے بعد 28 مئی کو جب پاکستان نے جوابی دھماکے کیے تو ایک سیکنڈ کے بعد ہی بھارتی نیتاؤں کا لب و لہجہ اور الفاظ سب بدل چکے تھے اور وہ امن کی بات کرنے لگے تھے ۔ اس وقت بھی یہی صورتحال ہے ۔ جب پاکستان نے بھارت کے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرایا اور اس کے ایک پائلٹ کو قیدی بنالیا تو بھارت کا لہجہ تبدیل ہوچکا تھا اور سشما سوراج کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ بھارت جنگ نہیں چاہتا مگر جیسے ہی پاکستان نے اعلان کیا کہ بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جارہا ہے ، اسی لمحے سے بھارت کا لہجہ دوبارہ جارحانہ ہو گیا ۔ امن کی خواہش کوئی بری بات نہیں ہے مگر اس کا اظہار اس وقت اچھا ہے جب سامنے والے بھی اس کی خواہش رکھتے ہوں ۔ اگر بھارت جارحیت ہی پر آمادہ ہے تو بہتر ہوگا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اپنائی جائے ۔ بہتر تھا کہ جس طرح بھارتی پائلٹ کو قیدی بنایا گیا تھا ، اسی طرح بھارتی آبدوزوں کو بھی قیدی بنالیا جاتا ۔ اس طرح دنیا کو بتانا آسان ہوتا کہ جارحیت کون کررہا ہے ۔ اس سے بھارتیوں کو بھی سمجھ میں آجاتاکہ سامنے والوں کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھنا جائے ۔ بھارت بار بار اپنے حجم سے ڈرانے کی کوشش کررہا ہے ۔ بھارتی حجم سے ڈرنے والوں کومعرکہ بدر یاد رکھنا چاہیے۔

                                                                                                                                              بشکریہ جسارت