March 25th, 2019 (1440رجب18)

او آئی سی کا یوٹرن

 

او آئی سی کی وزارتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کرلی جس میں پاکستان کی فضائی حدود کی بھارت کی جانب سے خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور پاکستان کے حق دفاع کی توثیق کی گئی۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ دھمکیاں دینے یا طاقت کے استعمال سے باز آجائے۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اجلاس میں موجودگی پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اجلاس کی ایک بڑی پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان کو جنوبی ایشیا سے او آئی سی کا مستقل رکن برائے انسانی حقوق کمیشن منتخب کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تجدید اسلحہ اور تخفیف اسلحہ پر بھی پاکستانی قراردادیں منظور کی گئیں۔ تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے وقت پاکستان کے مندوب کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کا اظہار پاکستانی مندوب نے اختتامی سیشن میں کھڑے ہوکر احتجاج کی صورت میں کیا۔ قابل تشویش امر او آئی سی کا یوٹرن ہے۔ اب تک تو او آئی سی کی جانب سے اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر بات کی جاتی تھی اور عالم اسلام کی نمائندگی کی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ خصوصاً کشمیر کے حوالے سے اعلامیہ کی زبان یہ واضح کررہی ہے کہ اعلامیہ بھارت نے تیار کرایا ہے یا امریکی اثر و رسوخ استعمال ہوا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام رکن ممالک اپنے تنازعات کا تصفیہ سفارتی کوششوں سے کریں۔ یعنی کشمیر کا نام گول کردیاگیا اور بھارت کو رکن ملک تصور کیا گیا ۔ مذاکرات کی بات تو امریکا اور اقوام متحدہ بارہا پاکستان سے کرچکے اور بھارت ہے کہ کشمیر پر مذاکرات اور سفارتکاری کرنے کو تیار ہی نہیں۔ او آئی سی نے بھارت کو جو سفارتی کامیابی دی ہے اس کا ذمے دار کسے قرار دیا جائے۔ جس وقت بھارتی وزیر خارجہ کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اس وقت تک بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔ اگر پاکستانی حکومت اسی وقت سخت ایکشن لیتی، ترکی، ایران اور دیگر عرب ممالک پر دباؤ ڈالتی کہ بھارت کی شرکت کا مطلب آنے والے اجلاسوں میں اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے تو شاید ایک دو ممالک دباؤ ڈالتے یا پاکستان کے بائیکاٹ کا ساتھ دیتے۔ لیکن سفارتی سطح پر اس ناکامی کے باوجود پاکستانی وزیر خارجہ ہیرو بننے کی کوشش میں ہیں۔ او آئی سی میں بھارت کو معزز مہمان بنایا جانا پاکستان کے لیے الارم ہے۔ بھارت کو اہمیت دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سوا ارب کی مارکیٹ کی اہمیت دوست اسلامی ملک اور او آئی سی کے مستقل رکن پاکستان سے زیادہ ہے۔ بھارت کا انداز اور ہٹ دھرمی توبرقرار ہے بھارت کی جانب سے ثالثی کی پیشکش بھی مسترد کردی گئی ہے بلکہ ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ روس میں متعین بھارتی سفیر ونکاتش شرما نے صاف کہہ دیا کہ روس نے ثالثی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور اگر کی بھی تو قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی ہورہی ہے۔ بھارتی ڈھٹائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی جانب سے او آئی سی اعلامیے کو بھی مسترد کیا جانا چاہیے اور اسے درست کیے بغیر تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ بھارت نہ تو او آئی سی کا رکن ہے اور نہ وہ کشمیر پر بات کرنے کو تیار ہے تو پھر رکن ممالک کے تنازعات سفارتی کوششوں سے کیسے حل ہوں گے، مشکل تو یہی ہے کہ بھارت سفارتی زبان نہیں سمجھتا اسے صرف دباؤ سمجھ میں آتا ہے۔ اسلامی ممالک کی اکثریت خلیج سے تعلق رکھتی ہے اور سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین وغیرہ میں لاکھوں بھارتی ملازمت کرتے ہیں اگر ان کی ملازمتوں یا ویزوں کی بنیاد پر ان کے ملک پر دباؤ ڈالا جائے تو بھارت کا رویہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ اب پاکستان انسانی حقوق کمیشن کا مستقل رکن بنا ہے تو او آئی سی میں یہ قرارداد پیش کی جائے کہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ان پر تشدد کرنے والے کسی ملک کے لوگوں کو او آئی سی کے رکن ممالک کا ویزا نہیں دیا جائے گا۔ باہمی مذاکرات کوئی چیز نہیں ہوتے۔ او آئی سی کی قرارداد خود تضاد کا شکار ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                                بشکریہ جسارت