March 25th, 2019 (1440رجب18)

نریندر مودی کی ایک اور دھمکی

 

پاکستانی قوم کی مرضی اور خواہش کے برعکس وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو پوری عزت اور احترام کے ساتھ بھارت کے حوالے کردیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کے لیے خیر سگالی کا پیغام ہے ۔ اس خیر سگالی کے پیغام کا جواب بھارتی وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو ایک اور دھمکی کی صورت میں دیا ۔ بھارتی سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ سرحد پار حملہ پائلٹ پروجیکٹ تھا اور ابھی حقیقی حملہ کرنا باقی ہے ۔ پاکستان کی امن پسندی کی دعوت کے جواب میں مودی کا یہ موقف غیر متوقع نہیں ہے ۔ ہٹ دھرمی ہمیشہ بھارتی قیادت کا خاصہ رہی ہے ۔ حدیث ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا مگر پاکستان ہے کہ بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے پر مصر ہے ۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کے مطابق گزشتہ 72 برسوں میں پاکستان نے بھارت کے 13 پائلٹ گرفتار کیے اور سب کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ بھارت کے حوالے کردیا ۔ اسی عرصے میں بھارت نے پاکستان کے 12 شاہینوں کو گرفتار کیا ۔ ان میں سے ایک کو بھی نہ تو واپس کیا گیا اور نہ ہی ان کی لاش پاکستان کے حوالے کی گئی ۔بھارتی رویے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ غلطی سے سرحد پار کرجانے والے پاکستانی شاکرا للہ کوپلوامہ واقعے کے بعد راجستھان جیل میں قتل کے لیے انتہا پسند بھارتیوں کے حوالے کردیا گیا اور انہیں پتھر مار مار کر شہید کردیا گیا ۔ اس سے دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا کیا رویہ رہا ہے اور اس کے جواب میں بھارت کا کیا جواب رہا ہے ۔ بھارتی قوم کے ناپاک عزائم کا اندازہ بھارتی میڈیا سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ آخر پاکستانی حکومت چاہتی کیا ہے اور کس قیمت پر امن چاہتی ہے ۔ جب کوئی جارحیت پر اتر آئے تو دفاع کے سوااور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا ۔ اگر بھارت کو اپنا پائلٹ درکار تھا تو کم از کم اس کی طرف سے حوالگی کی باقاعدہ درخواست تو موصول ہونے دیتے ۔ بھارتی پائلٹ سے پوچھ تاچھ تو کرلیتے اور اسے بھارتی حکومت کے حوالے اس وقت کیا جاتا جب مودی حکومت خود بھی امن پر آمادہ ہوتی ۔ یہاں پر تو یہ صورتحال ہے کہ اس وقت مودی حکومت نے کو پورے بھارت کو جنگی بخار میں مبتلا کررکھا ہے ۔ مودی اور اس کے ہمنوا روز پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہنے اور ان کا مثبت جواب دینے کے بجائے ننگی جارحیت پر آمادہ ہیں ۔ کنٹرول لائن پر واقع گاؤں مسلسل بھارتی گولہ باری کی زد میں ہیں اور کئی معصوم دیہاتی بھارتی حملوں کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں ۔ بھارتی جارحیت کے اندیشوں کے پیش نظر پاکستان میں شہری ہوابازی معطل ہے اور پاکستانی کئی روز سے بیرون ملک ائرپورٹوں پر بیٹھے اپنے وطن آنے کے منتظر ہیں ۔ جمعہ کو پاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر کھول دی گئی ہیں ۔ صرف چار ائرپورٹوں پر جہازوں کی آمدو رفت کی اجازت ہے جبکہ لاہور سمیت دیگر ائرپورٹ اب بھی بند ہیں ۔ بھارت کی جانب کی فضائی حدود اب بھی بند ہیں اور اس کے بارے میں چار مارچ کو فیصلہ کیا جائے گا۔بھارتی حملوں کے خطرات کی وجہ سے پاکستان کے اوپر سے گزرنے والے جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اس سے بھارتی عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس سے مسافر بردار طیاروں کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ جب دو ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ عروج پر ہوتی ہے تو اس وقت بھی مسافر بردار طیاروں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے مگر بھارت سے کچھ بعید نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اپنی فضائی حدود میں غیرملکی پروازوں پر بھی پابندی عائد کرنا پڑی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی عزائم اور بیانات سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے مگر پاکستانی حکومت کا سارا زورصرف اور صرف بھارتیوں کی مہمان نوازی پر ہے ۔ پاکستانی حکومت نے ایک مرتبہ بھی بھارت کے سامنے منہ کھولنے کی زحمت نہیں کی کہ بھارت کی جیل میں قید پاکستانی قیدیوں کو اسی عزت و احترام کے ساتھ پاکستان کے حوالے کیا جائے ۔ بھارتی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ امن کی ضرورت جتنی پاکستان کو ہے ، اتنی ہی اس کی ضرورت بھارتیوں کو بھی ہے ۔ اگر بھارت جنگ مسلط ہی کرنا چاہتا ہے تو پاکستان بھی تیار ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستانی حکمرانوں کو بھی لکیر کھینچ دینی چاہیے کہ اس حد سے نیچے نہیں گریں گے ۔ پاکستان کی جانب سے بھارتیوں کو یکطرفہ امن کے سندیسے پاکستانیوں میں اضطراب پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں ۔ اب بھارت کو واضح الفاظ میں پیغام دینے کا وقت آگیا ہے کہ بس اب بہت ہوگیا ۔ اگر اب مودی یا اس کے یاروں نے مزید پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کی تو اس کا عملی طور پر مسکت جواب دیا جائے ۔ لفظی طور پر دندان شکن نہیں بلکہ عملی طور پر اس جواب کی بھارت کو ضرورت ہے ۔ دو بھارتی طیاروں کی تباہی نے ہی بھارتیوں کے دماغ درست کردیے تھے مگر پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی گرمجوشی کے ساتھ مہمان نوازی اور ایک دن بعد ہی وطن واپسی نے بھارت کو غلط پیغام دیا اور اب وہ دوبارہ پٹری سے اتر چکے ہیں ۔ اور بھارتی وزیراعظم مودی ناکام حملے کو پائلٹ پروجیکٹ قرار دے کر ’’حقیقی‘‘ حملہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان پر حملہ آور بھارتی پائلٹ کی ابھی کچھ دن اور مہمان نوازی کی جاتی تو مودی کو مذکورہ دھمکی دینے کی جرأت نہ ہوتی۔ مودی فرماتے ہیں کہ اپنی افواج کے حوصلے پست نہیں ہونے دیں گے۔ انہیں شاید ابھی تک اپنی افواج کے پست حوصلوں کا اندازہ نہیں ہوا۔ بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں ہی پر شیر ہیں اور پلوامہ حملے کے بعد اتنے خوف زدہ ہوگئے ہیں کہ مقبوضہ علاقے کی سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کررہے اور مطالبہ ہے کہ انہیں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ادھر ادھر لے جایا جائے۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا افغانستان پر قابض امریکا اوراس کے حواریوں کی فوج کو رہا۔ نریندر مودی حقیقی حملہ بھی کرکے دیکھ لیں لیکن اس سے پہلے اپنے ہی ملک کی 21 سیاسی جماعتوں کی سن لیں۔     

         بشکریہ جسارت