March 25th, 2019 (1440رجب19)

منہ توڑ جواب

 

پاک فضائیہ نے جمعرات کی صبح دو بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے بھارت کو عملی جواب دے دیا ہے کہ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری یا بزدلی نہ سمجھا جائے ۔ ایک بھارتی طیارہ پاکستان کی حدود کے اندر ہی تباہ ہوا جبکہ دوسرے طیارے کا ملبہ بھارتی حدود میں جا کر گرا ۔ پاکستان میں بھارتی طیارے کا ملبہ اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ بھارت ہی دراندازی کررہا ہے ۔ منگل کو بھی بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جنہیں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے واپس جانے پر مجبور کردیا تھا ۔ پاکستان کے اندر تیس چالیس ناٹیکل میل اندر آکر بھارتی طیاروں نے ویرانے میں بم برسائے اور اپنے جہازوں کی ایندھن کی اضافی ٹنکیاں پھینک کر فرار ہوگئے ۔ دن بھر بھارتی میڈیا راگ الاپتا رہا کہ بھارتی طیاروں نے کامیابی سے پاکستان میں آپریشن کرکے جیش محمد کے ٹریننگ کیمپ کو تباہ کردیا ۔ بھارتی میڈیا اپنے عوام کو بھی گمراہ کرتا رہا کہ اس حملے میں جیش محمد کے 350کارکنان کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں وہ یوٹیوب سے ڈاؤن لوڈ کرکے تین برس پرانی وڈیو بھی دکھاتے رہے ۔ مودی جی دن جشن فتح مناتے رہے اور اس سب کے زیر اثر بھارتی عوام بھی ترنگا لے کر سڑکوں پر گھومتے رہے ۔ شام تک بھارتی میڈیا اس پر آگیا تھا کہ جیش محمد کا کوئی ٹھکانا تباہ نہیں ہوا تو کیا ہوا ، پاکستان کے اندر جا کر پاکستان کو پیغام تو دے دیا ہے کہ بھارتی جب چاہیں پاکستان کے اندر آکر کامیاب کارروائی کرسکتے ہیں۔ دن بھر بھارتی پاکستان پر پھبتی کستے رہے کہ ایبٹ آباد کی طرح چاہے جب پاکستان کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں اور پاکستان منہ دیکھتا رہ جائے گا ۔ پاکستانی حکومت اور فوج نے اس کے مقابلے میں ذمے دارانہ رویہ اختیار کیا اور کسی بھی جارحیت سے گریز کیا ۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ضرور خبردار کیا تھا کہ پاکستان اس کا جواب دے گا مگر اسے بھی بھارت نے ہنسی مذاق میں اڑادیا ۔ جمعرات کی صبح پاکستان کی جانب سے دیا جانے والا جواب ترنت تھا جس کے بعد سے بھارت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پاکستان سے جنگ لڑنا بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔بدھ کوبھی بھارتی میڈیا جھوٹی خبریں دیتا رہا کہ بھارت نے ایک پاکستانی F16 طیارے کو مار گرایا ہے مگر حسب سابق اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ۔ جب بھارت سے اس کا ثبوت مانگا گیا تو کہا گیا کہ پائلٹ پاکستانی علاقے ہی میں جہاز سے کود گیا تھا۔ لیکن ملبہ کہاں گیا؟ اس حملے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب بھی پاکستانی تہذیب کا آئینہ دار ہے ۔ انہوں نے بالکل درست توجہ دلائی کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اسے پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ انہوں نے بدھ کو پاکستانی شاہینوں کی جانب سے سرانجام دیے جانے والے کارنامے کو بروقت قرار دیتے ہوئے صحیح نشاندہی کی کہ یہ اس لیے ضروری تھا کہ بھارت یہ نہ سمجھے کہ وہی پاکستان کی فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کرسکتا ہے ۔ تمام بھارتی تنصیبات پاکستانی شاہینوں کے نشانے پر ہیں مگر پاکستانی امن کے خواہاں ہیں اس لیے صرف پاکستان کی حدود میں ہی بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتیوں کو عقل سے کام لینا چاہیے اور بھارت کو مودی کی جنونیت کی بھینٹ چڑاہنے کے بجائے اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔ ایک شخص محض اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اس پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے اور بھارت کے اندر اس کے خلاف کوئی توانا آواز نہیں اٹھ رہی ۔ بھارتی میڈیا اپنے عوام کو بھی جنگ کے بخار میں مبتلا کیے ہوئے ہے اور جھوٹی فتح کے ترانے سنا کر انہیں ایک ایسے گڑھے کی طرف دھکیل رہا ہے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ اب سب کی سمجھ میں آجانا چاہیے کہ مودی اپنے پانچ سالہ اقتدار کی ناکامیوں کو پاکستان کے ساتھ جنگی جنون میں چھپانا چاہتے ہیں ۔ اس کی آڑ میں مودی نے انتہاپسند ہندوؤں کو پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ان کوسرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی بھرپور آزادی ہے ۔ مودی سمجھتا ہے کہ اس طرح انتہا پسندی کو بڑھاوا دینے سے اسے ہندو اکثریت کے ووٹ مل جائیں گے اور یوں وہ آئندہ پانچ سال مزید اقتدار کے مزے کرے گا ۔ اگر ایسا ہوا تو بھارتیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اجتماعی خودکشی کررہے ہیں کیوں کہ مودی کی پالیسیوں سے پاکستان کو تو کچھ نہیں ہوگا مگر بھارت ضرور تباہ ہورہا ہے ۔ پاکستانیوں میں لاکھ اختلافات ہوں مگر ملک کی حفاظت کے لیے یہ قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جو وطن کے دفاع کے لیے اپنا خون بہانا اعزاز سمجھتی ہے ۔ پاکستانی حکومت کو بھی اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کرنا چاہیے۔ یہ بھارت کا کشمیر میں تشدد اور خونریزی ہی ہے جس کے باعث پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا اور معاملات اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ خطے کے دو ایٹمی ممالک باقاعدہ جنگ کے دہانے پر ہیں۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل مسئلہ کیا ہے ۔ اصل مسئلہ نہ تو پاک بھارت جنگ کو روکنا ہے اور نہ مقبوضہ کشمیر میں جنم لینے والے انسانی المیے کی روک تھام ہے ۔ اصل مسئلہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے ۔ اگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے دیا جاتا تو معاملات یہاں تک پہنچتے ہیں نہیں ۔ ہمیں خبردار رہنا ہوگا کہ پاک بھارت جنگ کے شور میں کہیں مسئلہ کشمیر دب کر ہی نہ رہ جائے ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بھارت کی بڑی کامیابی ہوگی ۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا اجلاس بھی یکم اور دو مارچ کو ابو ظہبی میں ہونے والا ہے جس میں شرکت کے لیے بھارت کو خصوصی دعوت دی گئی ہے ۔ اول تو اسلامی کانفرنس کی تنظیم اسلامی ممالک کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے اس میں بھارت کو دعوت دینا ہی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اب اگر بھارت اس میں آ ہی رہا ہے تو اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہ صرف حل کرے بلکہ اس کا ٹائم فریم بھی دے ۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے کا مطلب بھارت کی سفارتی کامیابی ہوگی ۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت کو کشمیری مجاہدین نے ناکوں چنے چبوادیے ہیں اور پلوامہ کے واقعے نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، بھارت نے لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی کرکے کشمیری مجاہدین کی قربانیوں کو گرد میں چھپانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان لیے بھی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ پاکستانی دریاؤں کا پانی مقبوضہ کشمیر ہی میں روکا گیا ہے ۔ اگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے دیا جائے تو وہ بھارت کے چنگل سے آزاد ہوجائیں گے اور یوں پاکستان کا پانی بھی محفوظ ہوجائے گا بلکہ یہ بھارت کے لیے مشکل مرحلہ ہوگا کہ اب بھارتی پنجاب کو جانے والا پانی پاکستان کے رحم و کرم پر ہوگا۔ شر میں سے خیر یہ برآمد ہوا ہے کہ اس وقت پاکستان کی پوری حزب اختلاف اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئی ہے اور قوم بھی بھارت کے خلاف یک جان ہے۔ اس طرح مودی کی احمقانہ جارحیت کا فائدہ بالواسطہ طور پر عمران خان کی حکومت کو بھی پہنچا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکا، چین، یورپی یونین سمیت کئی ممالک اسلام آباد اور دہلی کو تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن جارحیت کا ارتکاب تو بھارت کی طرف سے ہو رہا ہے اور پاکستان نے محض اس کا جواب دیا ہے۔ جارح اور مجروح سے برابر کا سلوک نہیں ہوسکتا۔ عالمی برادری کو امتیاز کرنا چاہیے اور بھارت کو جنگی جنون سے باز رہنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔                                                                                                                                                                                                                                                       بشکریہ جسارت