March 25th, 2019 (1440رجب18)

بھارتی جارحیت اور او آئی سی کی مہربانیاں

 

اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 2مارچ کو ابو ظہبی میں طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طور پر دعوت دینے پر کشمیر کے دونوں جانب کی قیادت اور کشمیری تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سید علی گیلانی یہ اظہار افسوس نہ کرتے تو بھی یہ واقعی افسوس اور حیرت ہی کا مقام ہے کہ پوری امت کشمیر میں بھارتی مظالم پر افسردہ ہے بھارتی فوج کھلم کھلا انسانیت کی تذلیل کررہی ہے، پیلٹ گنوں کا استعمال کررہی ہے۔ بھارت 70برس سے فوج کے ذریعے کشمیر پر قبضہ سچا دعویٰ پر جھوٹا کے مصداق مسلط ہے اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے بنائے گئے ادارے میں عین اس وقت بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت دے دی گئی جب کہ بھارت پاکستان پر حملے کرنے اور سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ اس کے طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی بھی کی،پاکستانی علاقے میں گھس آئے اور دعوے کررہا ہے کہ ہم نے 350لوگوں کو جنہیں وہ دہشت گرد قرار دے رہا ہے ہلاک کردیا ہے جبکہ بھارتی طیارے جوں ہی پاکستان میں داخل ہوئے پاک فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی سورما فرار ہوگئے بھاگتے ہوئے اپنے طیاروں کے فیول ٹینک گرا گئے تاکہ بھاگنے میں آسانی ہو۔ ان ٹینکوں کے گرنے کے دھماکوں کو پاکستان پر حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم پاک فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کے طیاروں نے بم بھی گرائے ہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ بھارتی طیارے تین چار منٹ تک پاکستانی حدود میں رہے تو ان طیاروں کو گرا کیوں نہیں لیا گیا ایک منٹ میں تو ایم ایم عالم نے سات بھارتی طیارے تباہ کردیے تھے۔ لیکن اس خلاف ورزی سے زیادہ خطرناک بات بھارتی وزیر خارجہ کو ابو ظہبی اجلاس میں معزز مہمان بنا کر بلانا ہے۔ سید علی گیلانی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امت مسلمہ کے نمائندہ ادارے کو اس درد و کرب کا احساس کرنا چاہیے تھا جس سے امت مسلمہ اور خصوصاً مسلمانان جموں و کشمیر گزر رہے ہیں، بھارت70برس سے فوجی طاقت کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جمائے ہوئے ہے خواتین کی بے حرمتی کررہا ہے پیلٹ گنوں کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو بینائی سے محروم اور زخمی گر چکا ہے۔ اور اب آبادی کا تناسب بھی تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اسے پاک بھارت کشیدگی کے موقع پر مہمان بنانا امت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سید علی گیلانی نے اس صورت حال کو امت کی بدنصیبی قرار دیا ہے۔ واقعی یہ بدنصیبی ہے یہ صورت حال تو رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں نئے عالمی حالات کے تناظر میں یہ ہوگا کہ جب فلسطینی اسرائیل کے مظالم پر احتجاج کریں تو او آئی سی اسرائیلی وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کو اپنے اجلاس میں بلا لے اور ایغور مسلمانوں کے مسئلے پر چینی حکومت کو معزز مہمان بنا لیا جائے یا برما کے فوجی حکمرانوں کو مسلمانوں کے قتل عام کی وضاحت کے لیے بلا لیا جائے۔ یہ حالات نہایت ہولناک مستقبل کی عکاسی کررہے ہیں۔ اس ادارے کی افادیت اور اس کے قیام کے مقاصد ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ اگرچہ حریت قیادت کے علاوہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس دعوت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ اور سخت احتجاج کیا ہے اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجا محمد فاروق نے بھی بھارت کو دی جانے والی دعوت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن بات صرف احتجاج یا مطالبے سے ٹھیک نہیں ہوگی جس طرح جنرل یحییٰ خان نے 1969ء میں کاسا بلانکا کانفرنس میں بھارت کو مدعو کرنے پر بائیکاٹ کردیا تھا اسی طرح ہماری حکومت بھی اس کانفرنس میں جانے سے انکارکردے۔ یحییٰ خان تو فوجی حکمران تھا کیا آج کی منتخب حکومت ایسا قدم اٹھائے گی۔ بات صرف اجلاس میں جانے اور بائیکاٹ وغیرہ کی نہیں ہے۔ منگل کے رابطہ گروپ کے اجلاس میں بھی اتنا ہی تو ہوا ہے کہ بھارت اور پاکستان سے معاملات اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کہہ دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی قرار داد 70برس سے التوا میں کیوں پڑی ہوئی ہے اسے بروئے کار کیوں نہیں لایا جاتا؟ کیوں اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہمارے خیال میں پاکستان کے رویے میں بے جا لچک اور بھارت کے مذاکرات کے وعدوں پر ریجھ جانے کے نتیجے میں یہ کیس خراب ہوتا جارہا ہے۔ موجودہ کشیدگی تو کم ہو جائے گی لیکن مسئلہ کشمیر اسی وقت حل ہوگا جب پاکستان سخت موقف اختیار کرے گا۔