March 25th, 2019 (1440رجب18)

عمران خان نے درست کہا مگر۔۔۔؟

 

وزیر اعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ پاکستان اسلامی نظریے پر قائم نہ رہا تو ختم ہوجائے گا ۔ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جس کا قیام اسلام کے نام پر عمل میں لایا گیا تھا ۔ اصولی طور پر تو یہاں پر پہلے دن ہی سے اسلامی نظام پر عملدرآمد شروع ہوجانا چاہیے تھا مگر ہوا اس کے برعکس اور پہلے دن سے ہی پاکستان میں اسلامی نظریے کے خلاف کام شروع کردیا گیا ۔ سرمایہ دارانہ نظام سے لے کر سوشلزم تک ، ہر نظریے کو پاکستان میں نافذ کردیا گیا مگر نہیں کیا گیا تو وہ اسلامی نظام ہے ۔ ہم وزیر اعظم کے اس بیانیے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم اس ضمن میں بیان سے آگے بھی بڑھیں گے ۔ اسلامی نظام محض چند قوانین کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل طرز زندگی ہے جس میں انفرادی سے لے کر اجتماعی زندگی تک شامل ہے ۔ اب جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کر ہی دی ہے تو وہ ایک قدم آگے بڑھ کر کم از کم ان قوانین کا خاتمہ کریں جو اسلام سے براہ راست متصادم ہیں ۔ سود کی حرمت کے معاملے میں ہر مسلک متفق ہے مگر اس کے خاتمے میں حکومت ہی سد راہ بنی ہوئی ہے ۔ گزشتہ حکومتیں سود کو جاری و ساری رکھنے کے معاملے میں یکسر متفق تھیں بلکہ سابق صدر ممنون حسین نے تو اپنی ایک تقریر میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ علماء سود کو جائز قرار دینے کی کوئی ترکیب نکالیں ۔ ایسی ہی صورتحال نصاب تعلیم میں بھی ہے ۔ موجودہ نصاب تعلیم امریکی فرمائش پر فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ترتیب دیا گیا تھا اور اس امر کا بالخصوص التزام رکھا گیا تھا کہ معصوم بچوں کو کوئی ایسی چیز نہ پڑھائی جائے جس سے وہ اسلام یا نظریہ پاکستان سے قریب آجائیں ۔ اس کے بجائے جنسی تعلیم پر زیادہ زور دینے کی کوشش کی گئی ۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں اس کی نوجوان نسل ہی اہم ترین کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر یہ نوجوان نسل ہی بے راہ رو ہو تو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس قوم کی کیا سمت ہوگی ۔نصاب تعلیم کی اہمیت کا اندازہ خود امریکا ، برطانیہ اور چین و سنگا پور سے کیا جاسکتا ہے ۔ اسلامی نظام میں انصاف بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ انصاف کا اندازہ خود وزیر اعظم عمران خان کو بھی ہونا چاہیے کہ ان کی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے ۔ پاکستان میں تھانے سے لے کر کچہری تک ہر چیز ہے سوائے انصاف کے ۔جو بالادست اور طاقتور ہیں ، قانون اور پولیس ان کے گھر کی لونڈی ہیں اور جو زیر دست ، مجبور اور بے کس ہیں وہ انصاف کے نام پر در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے سانحات جن میں ساہیوال کا واقعہ اور رمشا وسان کا واقعہ بھی شامل ہے ، پاکستان میں انصاف کی صورتحال واضح کرنے کے کافی ہیں ۔ سانحہ ساہیوال میں معصوم بچی کو محض دو فٹ دور سے گولی ماری گئی اور کہا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کو مارا گیا ۔ جب کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا تو ڈرائیور ذیشان کا تعلق تو دہشت گردوں سے جوڑ ہی دیا گیا ۔ ہر سطح پر یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ ساہیوال کے واقعہ میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کسی کے کہنے پر پورے خاندان کو قتل کیا تب بھی روز ایک نیا تحقیقاتی کمیشن بن جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک مقتولین کے خاندان کے لوگ تھک کر نہیں بیٹھ جاتے اور عوام بھول نہیں جاتے ۔ اسی طرح رمشاء وسان کیس میں معصوم بچی کو پہلے اغوا کیا گیا اور پھر اس کے والدین کے سامنے قتل کردیا گیا مگر علاقہ پولیس قاتلوں کو جاننے کے باوجود صرف اس لیے معاملات الجھارہی ہے کہ اس میں علاقے کا لیڈر اور وسان قبیلے کا بااثر فرد ان قاتلوں کا پشتیبان ہے ۔ راؤ انوار کا کیس تو اپنی مثال آپ ہے ۔ عدالت عظمیٰ نقیب اللہ محسود اور دیگر کو بے گناہ قرار دے چکی ۔ نقیب اللہ محسود کے آبائی علاقے میں فوج نے گھر تعمیر کرکے نقیب اللہ محسود کے والد کے حوالے کیا مگر نقیب اللہ محسودکے قاتل راؤ انوار کو کوئی سزا نہیں ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال لاپتا افراد کی ہے ۔ ہزاروں لاپتا افراد کے وارث امید لے کر عدالت آتے ہیں ، عدالت حکم جاری کرتی ہے مگر انہیں لاپتا کرنے والے عدالت اور قانون سے بہت زیادہ طاقتور ہیں ، اس لیے کچھ نہیں ہوپاتا ۔ وزیر اعظم عمران خان تقریروں کے بجائے ملک کو اسلامی نظریے کے مطابق چلانے کے لیے چند بنیادی کام کرجائیے ۔ ویسے تو عمران خان کی شہرت یو ٹرن ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے درست نشاندہی کی ہے کہ حکومت غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے ۔ سراج الحق نے کہا ہے کہ اسمبلی میں قانون سازی کے بجائے دھینگا مشتی ہورہی ہے ۔ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور عوام مل کر وزیر اعظم عمران خان کو مجبور کریں کہ صرف بات نہ کریں بلکہ ملک میں عملی طور پر اسلامی نظام کا نفاذ کریں اور اسلامی نظام کے نفاذ کا آغاز سود کے خاتمے ، انصاف کی فوری اور بلا امتیاز فراہمی سے کریں ۔ نئی نسل کو درست سمت میں رکھنے کے لیے نصاب تعلیم کو درست بنیادوں پر استوار کیا جائے ۔ ان کاموں پر کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا کہ خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا جائے یا بیرونی امداد کا انتظار کیا جائے۔ حکمران عوام کو صرف انصاف فراہم کردیں تو ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر مل جائے گی۔ لیکن عمران خان کے حواریوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو نصاب تعلیم کو اسلامیانے کے مخالف ہیں۔                                                                                                                                                                                                                                                بشکریہ جسارت