March 25th, 2019 (1440رجب18)

غصے اور انتقام کا اینٹی کلائمکس؟

 

عارف بہار 

وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام ایک وڈیو پیغام میں پلوامہ واقعے کے پس منظر میں بھارت کو ہر قسم کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش بھارت کی طرف سے ثبوت کی فراہمی کے ساتھ مشروط تھی۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان نے بھار ت پر واضح کر دیا کہ حملے کی صورت میں سوچنے کے بجائے پاکستان بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان کے اس پیغام کو بھارت میں پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھا گیا ہے۔ بھارت نے پلوامہ میں فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد جس طرح جنوبی ایشیا کی فضاؤں کو دھمکیوں اور دشنام طرازی سے مکدر کر دیا تھا اس دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جنگ دو قدم اور ایک حماقت اور معمولی سی غلط فہمی کی دوری پر ہے۔ روزانہ درجنوں کشمیری بچوں کو قتل کرنے والوں کو اپنے ساڑھے تین درجن فوجیوں کی اکٹھی ہلاکت سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اب دنیا ہی ختم ہو گئی ہے اور برصغیر کا مستقبل مکمل تاریک ہوچکا ہے۔ شاید بھارت کو جلد ہی اس بات کا احساس ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک کا یوں اُجڑی ہوئی بیواؤں کی طرح ماتم کرتے چلے جانا اچھا نہیں۔ سعودی عرب کی قیادت جو اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے کی طرف سے بھارت کو رونا دھونا چھوڑ کر حقیقت پسندی کا سامنا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہوگا۔ سعودی ولی عہد کے دورoۂ پاکستان کے برعکس دورۂ بھارت بے رنگ اور پھیکا سا رہا۔ نریندر مودی نے پرٹوکول کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ائرپورٹ پر ولی عہد کا استقبال تو کیا اور دونوں کے درمیان سرمایہ کاری کے عہد وپیماں تو ہوئے مگر یہ سب کچھ رسمی سا معلوم ہورہا تھا۔ بی بی سی نے پہلے ہی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ بھارت محض لین دین کی حد تک ہی رہے گا۔ اس کے برعکس ان کے دورہ پاکستان پر زیادہ جوش اور والہانہ پن غالب رہے گا۔ بی بی سی کا یہ تجزیہ دورہ بھارت کے بعد درست ثابت ہوا۔ پاکستان میں جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ بھی بھارت کے دورے پر سایہ فگن رہا۔ عمران خان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بات پہلے ہی کر دی گئی تھی۔ بھارت کی پوری کوشش اور خواہش تھی کہ نریندر مودی اور شہزادہ محمد بن سلمان کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ بریکٹ کیا جائے مگر سعودی عرب نے ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ فی الوقت یہ کہنا کافی ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے اس جدید دور کے حکمت کار جنرل (ر) راحیل شریف ہیں اور راحیل شریف کے گھر میں دو نشان حیدر اور دو شہید ہیں اور دونوں بھارت کے ساتھ جنگیں لڑتے ہوئے کام آئے ہیں۔
اب اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے مودی پر ولی عہد کا ائر پورٹ پر استقبال کرنے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کیا مودی ولی عہد سے پاکستان کے ساتھ جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ واپس لینے کا کہیں گے۔ کانگریسی کے ایک لیڈر نے ولی عہد کے ائرپورٹ پر استقبال کو پلوامہ میں مارے جانے والے فوجیوں کی توہین قرار دیا۔ دورے کے بعد موجود عالمی عدالت انصاف میں پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے بھارتی سربراہ کلبھوشن یادیو کے مقدمے کی سماعت بھی عین انہی لمحات میں اپنے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی اور پاکستان کے وکیل خاور قریشی نہایت مہارت کے ساتھ مدلل انداز میں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد کے ساتھ بتایا کہ کلبھوشن عام شہری نہیں بلکہ دہشت گردوں کا سرپرست تھا۔ ان دلائل کے بعد بھارتی وفد کے سربراہ سر پکڑ کر بیٹھے دکھائی دیے۔ بہت کھل کر کہا کہ سانحہ اے پی ایس پشاور کے ڈانڈے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ پاکستان کے وکیل نے کلبھوشن کیس پر نہ صرف دنیا بلکہ خود بھارت کے عوام کو بتایا کہ مظلومیت کی جو کہانی بھارت سنا رہا ہے یک طرفہ اور تصویر کا ایک رخ ہے۔ حقیقت میں بھارت خود بھی پراکسی جنگ اور کرداروں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ بھارت نے فوجیوں پر حملے کے بعد پلوامہ ہی میں ایک تصادم کے دوران میں ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے مارے جانے کا اعلان کیا۔ یہ ماسٹر مائنڈ کون تھا؟ بھارت کی طرف سے یہ واضح نہیں ہوا مگر گمان یہی ہے کہ یہ وہی عبدالرشید غازی ہیں جو برسوں پہلے اسلام آباد میں ایک خونین تصادم میں جاں سے گزر گئے تھے۔ خود بھارتی میڈیا نے عبدالرشید غازی کے ساتھ جو تصویر منسوب کی تھی وہ لال مسجد میں مارے جانے والی مشہور شخصیت ہی کی تھی۔ چوں کہ بھارت نظری?ۂ ’’آوا گون‘‘ پر یقین رکھتا ہے اس لیے عبدالرشید غازی کے معاملے میں بھی انہوں نے یہ نظریہ لاگو کر لیا۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو ختم کرنے کا اعلان کر کے اپنی اس رائے عامہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جسے مودی نے انتخابی ضرورت کے تحت بھڑکایا تھا۔
ماسٹر مائنڈ کے خاتمے کی بات غصے، انتقام اور جھجلاہٹ کی کہانی کا اینٹی کلائمکس ہے۔ نریندر مودی نے پلوامہ واقعے کو جس طرح انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی سعودی ولی عہد کے علاقے کے دورے کے بعد یہ بات ان کے گلے پڑ گئی ہے۔ خود بھارت کے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک تجزیہ نگار ریگو رامن نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑے نہ سرجیکل اسٹرائیکس کرے۔ وہ یہ بات نہ بھولے کہ سرجیکل اسٹرائیکس کی صورت میں اگر کشمیر کے پہاڑوں میں فوجی پھنس کر زندہ گرفتار ہو گئے تو یہ ایک نئی مشکل ہوگی۔ تجزیہ نگار نے یہ بات تو نہیں کی ایک کلبھوشن یادیو کی زندہ گرفتاری سے بھارت ابھی نکلا نہیں کہ کئی اور فوجیوں کی زندہ گرفتاری نئی مشکل کھڑی کرے گی مگر بین السطور وہ یہی کہنا چاہتا ہے۔ تجزیہ نگار نے کہا پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی صورت میں چین شمال مشرقی ریاستوں میں جواب دے سکتا ہے۔ جنگ کی صورت میں پاکستان اور دونوں کا خسارہ ہے اور فائدہ اسلحہ سازی کی صنعتوں کے مالک امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کا ہوگا۔ تجزیہ نگار نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی خواہش تو یہ ہے کہ وادی کے عوام بھارت سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے چلے جائیں۔ اگر پلوامہ واقعے میں چند افراد کی سزا لاکھوں کشمیریوں کو دے گا تو اس سے پاکستان کے مقاصد کی تکمیل ہوگی۔ عادل ڈار نے اکتالیس فوجیوں کو مار ا مگر یہ سخت گیر پالیسی انڈیا کے تصور کو مار ڈالنے کا باعث بنے گی۔ خدا جانے اس آخری جملے سے تجزیہ نگار بھارت کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ شاید وہ اپنے انداز سے اور لہجے میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مزید جبر وتشدد کی پالیسی کشمیر کو الگ کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آخر ہندوستان کے تصور کی موت واقع ہونے سے اور کیا مراد لیا جا سکتا ہے؟۔