May 19th, 2019 (1440رمضان15)

بھارت کا بڑھتا جنگی جنون

 

بھارت میں جنگی بخار کو بڑھانے کے لیے مودی سرکار ہذیان کی حدود سے بھی باہر نکل گئی ہے ۔ اہم ترین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار نے پوری بھارتی قوم کو پاکستان دشمنی میں لگا دیا ہے ۔ انتہا پسند ہندوؤں کا پہلے بھی پسندیدہ کام تشدد رہا ہے اور اب بھی سرکاری سرپرستی میں انہیں اس کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ پلوامہ کے واقعے کے اگلے ہی روز جموں میں سو سے زاید مسلمانوں کو پرتشدد حملوں میں شہید کردیا گیا ۔ ان میں سے کئی افراد کو تو زندہ جلایا گیا ۔ انتہا پسند ہندوؤں کے یہ گروہ کوئی آج سے ان کارروائیوں میں مصروف نہیں ہیں ۔ گجرات کے خونیں فسادات اس کے گواہ ہیں ۔ جس زمانے میں ان خونی ہندوؤں کو مسلمان نشانہ بنانے کو نہیں ملتے، یہ لوگ یہی سلوک نچلی ذاتوں کے ہندوؤں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ دنیا میں کہیں پر بھی کوئی حکومت اس طرح اپنے ہی ملک اور قوم کو جنگی جنون میں مبتلا نہیں کرتی جس طرح مودی نے سارے سرکاری وسائل اس میں جھونک دیے ہیں ۔ پہلے دن ہی پاکستان سے تجارتی روابط منقطع کردیے گئے ہیں اور بھارتی تاجروں کو پاکستان سے تجارت پر باقاعدہ دھمکایا جارہا ہے ۔ جس طرح سے پورے بھارت سے کشمیری شہریوں کوبھارت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور جس طرح کشمیری طلبہ و طالبات کو بھارتی یونیورسٹیوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں تعلیم منقطع کرنے پر مجبور کیا گیا ، وہ قابل مذمت ہے ۔ اس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے ۔ کشمیر میں بھارت جو مظالم کرتارہا ہے ، وہ پوری دنیا کے سامنے ہے ۔ پلوامہ میں جو کچھ بھی ہوا ، اس کا ذمے دار خود بھارت ہے ۔بھارت اگر کشمیر میں استصواب رائے کرادیتا تو کشمیر میں اس طرح خون نہ بہہ رہا ہوتا ۔ کشمیرمیں بھارتی فوج جو کچھ تشدد کے ذریعے بو رہی ہے ، اس کے نتائج پلوامہ کی صورت میں ہی نکلیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ بھارتی قیادت کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرے ۔ اس کا فائدہ کشمیر کو تو ہوگا ہی ، خود بھارت کو بھی ہوگا ۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہی ہوگا کہ بھارت کو ہر برس جو اربوں ڈالر اسلحے کی خریداری پر خرچ کرنا پڑتے ہیں ، وہ بھارتی عوام پر خرچ کرنے کے لیے دستیاب ہوں گے ۔ بھارت کشمیر میں 7 لاکھ فوج کو رکھنے پر مجبور ہے اور اس پر ہر برس اسے بھاری اخراجات کرنے پڑتے ہیں ، اس سے بھارتیوں کو نجات ملے گی ۔ اس وقت بھارت میں صورتحال یہ ہے کہ ہر طرف خوف کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ حماقت آمیز بیان دیے جارہے ہیں ، راجستھان کی حکومت نے پاکستانیوں کو48گھنٹے کے اندر اندر بھارت چھوڑنے کے احکامات جاری کردیے ہیں ۔ بھارت شروع ہی سے پاکستان کے خلاف ہے ۔ پاکستان کے خلاف آبی جنگ ہی بھارتی جارحانہ پالیسی کو بتانے کے لیے کافی ہے ۔ اب پاکستان کو سبق حاصل کرلینا چاہیے اور بھارت کے خلاف ہر محاذ پر سرگرم عمل ہوجانا چاہیے ۔پاکستان بھارت سے درآمدات کے بغیر مر نہیں جائے گا مگر بھارت سے درآمدات نہ ہونے پر بھارتیوں کی معیشت پر ضرور برے اثرات پڑیں گے ۔ پاکستان کو چاہیے کہ بھارت میں صرف مسلمانوں ہی پر نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی جو مظالم ہورہے ہیں ، انہیں پوری دنیا کے سامنے لایا جائے تاکہ پوری دنیا بھارت کے خوفناک چہرے کو پہچان سکے ۔ بھارت کا ایک چہرہ آبرو ریزی کا بھی ہے ۔ دہلی کو پوری دنیا میںآبرو ریزی کے دارالحکومت کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ یہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے۔ ہمیں اپنی فوج کے جوانوں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے ۔ یہ پاکستانی فوج کی صلاحیت ہی ہے جس نے بھارت کو پاکستان پر کسی جارحیت سے باز رکھا ہے ۔ تاہم یہ حکومت اور اس سے بھی زیادہ پاکستانی عوام کی ذمے داری ہے کہ ہم بھارت کا ہر محاذپر بائیکاٹ کریں ۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ بھارت ثقافتی محاذپر پاکستان کو فتح کرچکا ہے ۔ یہ بھارتی ڈرامے اور فلمیں ہی ہیں جنہوں نے بھارت کو آبرو ریزی کے دارالحکومت میں تبدیل کردیا ہے ۔ اگر پاکستانی بھارتی فلموں اور ڈراموں ہی کا بائیکاٹ کردیں تو پاکستانی معاشرہ بھی اس سے محفوظ ہوجائے گا اور بھارتی فلم انڈسٹری کو بھی جھٹکا لگے گا ۔ بھارت سے ثقافتی طائفوں کی آمد کو ہمیشہ کے لیے روک دیا جائے بھارت نے آبی جارحیت کے نتیجے میں پہلے ہی سے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ پاکستان ابھی یا پھر کبھی نہیں والی پالیسی بنائے اور ڈرائیونگ سیٹ خود سنبھالے ۔ یہ درست کے کہ مودی نے یہ سب کھٹ راگ انتخابات کے لیے پھیلا یا ہے لیکن پاکستان کو اب اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور کشمیر و دریاؤں کے مسئلے کے حل کے بغیر بھارت کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ جانا چاہیے ۔ لیکن تحریک انصاف حکومت کے نفس ناطقہ فواد چودھری کچھ دن پہلے بھارتی فلموں اور ڈراموں کی درآمد کو پاکستانی ٹی وی چینلوں کے لیے’’ لائف لائن‘‘ قرار دے چکے ہیں تاہم وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ منگل کو بھارت کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ جوابی حملے کے لیے سوچ بچار نہیں کریں گے ، سوچ لیں کہ جنگ شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے ۔پلوامہ حملے کا فائدہ بھارت کو ہوا ہے ، پاکستان کو نہیں ۔                                                                                                                                                                                                                     بشکریہ جسارت