September 24th, 2020 (1442صفر6)

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان

 

عالمگیر آفریدی

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جب پاکستان پہنچے تو وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کا نورخان ائر بیس پر شاندار استقبال کیا۔ سعودی پرنس کو نہ صرف 21توپوں کی سلامی دی گئی بلکہ وزیر اعظم عمران خان انہیں اپنی گاڑی میں پی ایم ہاؤس لے کر گئے جہاں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دو روزہ دورہ اسلام آباد میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر مبنی مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے جن میں گوادر میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک آئل ریفائنری کا قیام بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب براہ راست سی پیک کے عظیم الشان اقتصادی منصوبے سے منسلک ہوجائے گا۔ دراصل پاکستان کی خواہش ہے کہ سعودی ولی عہد کے اس دورے کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس دورے کو ہر سطح پر انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ دوسری جانب ولی عہد محمد بن سلمان بھی سعودی عرب کی معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے تیزی سے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے وژن 2030 کے نام سے ملک میں ایک منصوبہ متعارف کروایا ہے جس کے تحت 2030 تک سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کردیا جائے گا اور متبادل ذرائع سے سعودی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس منصوبے کا اعلان محمد بن سلمان نے اپریل 2016 میں کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیویلپمنٹ افیئرز کے صدر کی حیثیت سے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق سعودی ولی عہد قدرے قوم پرستانہ خیالات رکھتے ہیں، اپنے عوام میں مقبول ہیں، اور ان کا سیاست کے متعلق رویہ قدامت پسندانہ ہے جبکہ اقتصادی اور سماجی مسائل کے متعلق بھی وہ بہت لبرل واقع ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ان کے ناقدین ان کے حکومت کرنے کے طریقے کو بہت سفاک اور آمرانہ قرار دیتے ہیں اس ضمن میں وہ سعودی صحافی جمال خاشق جی کی استبول میں سعودی سفارتخانے میں قتل کے واقعے کو قرار دیتے ہیں لیکن سعودی عرب کے اقتصادی اور منصوبہ بندی کے وزیر محمد التویجری کے مطابق اس سال ملک میں عالمی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ ہوا ہے جو شہزادہ محمد کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب سے ولی عہد محمد بن سلمان منظرِ عام پر آئے ہیں اس وقت سے سعودی عرب میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شاید ہی کوئی سعودی شہزادہ عالمی سطح پر اتنی تیزی سے ابھرا ہو جس طرح محمد بن سلمان کا عروج ہوا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق جب وہ 2013 میں جدہ میں محمد بن سلمان سے ملے تھے تو انہوں نے اپنا تعارف محض ایک وکیل کے طور پر کروایا تھا لیکن آج وہ وکیل نہیں بلکہ عرب دنیا کے سب سے طاقتور شخص نظر آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ انہیں 2009 میں اپنے والد کا مشیرِ خصوصی مقرر کیا گیا تھا جو اُس وقت ریاض کے گورنر تھے۔ شہزادہ محمد کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ اپریل 2015 میں اُس وقت آیا جب شاہ سلمان نے اپنی جانشینی کی قطار میں نئی نسل کو شامل کرتے ہوئے اپنے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ہٹا کر اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد جب کہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کیا تھا۔ محمد بن سلمان کے پاس نائب وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کا عہدہ بھی ہے۔ وہ 29 برس کی عمر میں دنیا کے سب سے نو عمر وزیر دفاع بنے تھے۔ محمد بن سلمان کے وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالتے ہی سعودی عرب نے ہمسایہ ملک یمن میں جنگی کارروائیاں شروع کر دیں تھیں جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ولی عہد مقرر ہونے کے بعد یمن جنگ کے علاوہ انہوں نے دوسرا دھماکا مئی 2017 میں اس وقت کیا تھا جب ان کے حکم پر درجنوں شہزادوں، امراء اور سابق وزراء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک بہت بڑا جوا تھا جس سے شاہی خاندان کے رشتوں میں دراڑ بھی پڑ سکتی تھی لیکن ولی عہد محمد بن سلمان نہ صرف اس دراڑ پر قابو پانے میں کامیاب رہے بلکہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے گرفتار شہزادوں سے اربوں ڈالر نکلوا کرملکی معیشت کو بھی کافی حد تک مستحکم کیا ہے جس سے ان کی اپنی پوزیشن بھی کافی مضبوط ہو گئی ہے اور اب تقریباً سارے حریف ان کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں سعودی قدامت پسند معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت کے علاوہ بغیر مرد کفیل کے کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔ ان ہی کے دور میں پہلی دفعہ ایک خاتون سعودی عرب کی اسٹاک ایکسچینج کی سربراہ بھی بنی ہیں۔ اسی طرح اپریل 2018 میں 35 برس بعد سعودی عرب کے کسی سنیما میں فلم کی نمائش اور سعوی عرب میں پہلے انٹرٹینمنٹ سٹی کے منصوبے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ محمد بن سلمان سعودی معاشرے اور امور مملکت کو پرانے روایتی ڈگر کے بجائے جدید مغربی طرز پر چلانے کے متمنی ہیں لہٰذا ان کے دورہ پاکستان کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔