September 24th, 2020 (1442صفر6)

تخفیف آبادی: مسائل کا حل یا خود ایک مسئلہ

 

سینیٹر سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان

آبادی ہمیشہ سے دنیا میں قوت و طاقت اور معاشی و سیاسی استحکام کا ذریعہ سمجھی گئی ہے لیکن آج ایک عالمی ایجنڈے نے بڑھتی ہوئی آبادی کو خوف کی علامت بنادیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے مخصوص مقاصد کے لیے ترقی پزیر اور معاشی طور پر کمزور ممالک کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی ان کی معیشت ہی نہیں، ان کے وجود کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے اسی ایجنڈے کے تحت 1973ء سے اقوام متحدہ نے کنٹرول آبادی کو ایک عالمی پالیسی بنا دیا ہے۔ اسی کے مطابق ترقی پزیر ممالک سے آبادی کنٹرول کرنے کی یقین دہانیاں لی جاتی ہیں اور قرض و ترقیاتی فنڈز کے لیے تخفیف آبادی کے اہداف کو بطور شرط منوایا جاتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ آبادی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ وسائل بھی خالق کائنات کے عطا کردہ ہیں اور خود اسی کی طرف سے آبادی کا کنٹرول بھی اس کی حکمت و مشیت کا اہم حصہ ہے اس لیے کہ ہر ذی روح کے رزق کا ذمہ اللہ ربّ العالمین نے خود لیا ہے اور دنیا میں کمانے والے ہاتھ اور کھانے والے منہ کتنے ہوں گے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے درمیان توازن و اعتدال کیسے ہوگا۔ شرح پیدائش اور شرح اموات کا فارمولا کیا ہوگا؟؟ یہ اس کی ہی تقدیر کے فیصلے ہیں اور انسانوں نے جب بھی ان معاملات میں مصنوعی مداخلت کی کوشش کی ہے اس سے اتنے بڑے معاشرتی بگاڑ پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے پورے معاشرے کے تارو پود بکھیر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نام نہاد کنٹرول آبادی مہم کے نتیجہ میں ورکنگ اور نوجوان لیبر فورس کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے۔ ساٹھ سال سے زاید عمر کی آبادی 1990ء میں 50 کروڑ تھی جو 2017ء میں 96 کروڑ ہوگئی اور 2030ء میں ایک ارب40 کروڑ ہو جائے گی۔ چین میں ایک بچہ پالیسی کی وجہ سے گزشتہ دہائیوں میں 40کروڑ کم بچے پیدا ہوئے ہیں اور لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد اتنی کم ہو چکی ہے کہ اب شادی کی عمر کے 5 نوجوانوں کے لیے محض ایک لڑکی موجود ہے جس کی وجہ سے جرائم اور فحاشی بڑھ گئی ہے۔ کنواروں کے گاؤں کے گاؤں سامنے آرہے ہیں۔ 1993ء سے مسلمانوں کی شرح پیدائش کو بالخصوص خطرہ ظاہر کر کے مسلمان ممالک کو خصوصی ہدف بنایا گیاہے۔ چونکہ پاکستا ن میں نوجوان آبادی کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے،اس لیے پاکستان کو بالخصوص نشانہ بنایا جارہا ہے۔
جب اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ دنیا کے 94 ممالک میں انسانی شرح پیدائش ضرورت سے کم ہونے کو انتہائی خطرناک قرار دے رہاہے اور ان تمام 94 ممالک کو اپنی اپنی آبادی میں اضافہ کی ہدایت جاری کر چکا ہے، پاکستان میں افسر شاہی، این جی اوز اور حکومتی سطح پر آبادی کو کنٹرول کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ پالیسی سازی اور شہریوں کو مراعات دینے جیسے معاملات زیر غور بتائے جارہے ہیں۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ وہ کون سے مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے اس طرح کی پالیسی بنائی جارہی ہے جسے خود اقوام متحدہ مسترد کر چکا ہے۔ ہم حکومتی شہ دماغوں کی توجہ اس جانب بھی مبذو ل کرانا چاہتے ہیں کہ چین میں ایک بچہ پالیسی کی ناکامی کے بعد چینی حکومت نے اس پالیسی کو واپس لے لیا ہے، البتہ اس پالیسی کے نتیجے میں چینی معاشرے میں جو توڑ پھوڑ ہوئی ہے، اس کے اثرات اس جدید ترقی یافتہ ملک کو کئی دہائیوں تک برداشت کرنا پڑیں گے۔
پاکستان میں غربت اور معاشی بدحالی کے اصل اسباب قومی وسائل پر ظالم اشرافیہ کا قبضہ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، کھربوں روپے کی بدترین کرپشن، قومی دولت کی لوٹ مار اور حقیقی نظام احتساب کی عدم موجودگی ہے اسی وجہ سے غریب پینے کے صاف پانی، دو وقت کی روٹی، سر چھپانے کے لیے چھت اور تعلیم و علاج سے محروم ہیں جبکہ لوٹ مار کرنے والا یہی طبقہ غریبوں کو ہی ان کے زیادہ بچوں کی وجہ سے اپنی غربت کا ذمے دار قرار دیتا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل اور جفاکش و محنتی لوگوں سے نوازا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے اپنا ایک مقام و وقار رکھتے ہیں لیکن اللہ کے نظام سے روگردانی کی وجہ سے آج ملک میں بھوک، غربت اور بے روزگاری ہے۔
کنٹرول آبادی کی اس مہم کے نتیجے میں اسقاط حمل کی شرح میں اضافہ ہونے سے خواتین کی زندگی و صحت کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ مانع حمل اشیاء کی سرکاری سطح پر دیہاتوں تک آسان دستیابی و رسائی نے معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام نے ماں بچے کی صحت کو یقیناًمد نظر رکھا ہے اور اسی مقصد کے لیے ماؤں کو کامل دو سال بچے کو دودھ پلانے کا حکم ہے۔ اسی طرح ماں بچے کی صحت اور بچوں کی تعلیم اور صحیح تربیت کے پیش نظر ایک فیملی بچوں میں وقفہ کا فیصلہ کر سکتی ہے لیکن یہ سب کچھ خالص فرد کے مسائل اور فیصلے ہیں۔ ریاست کو فرد کی ذاتی اور خاندانی زندگی میں مداخلت کا قطعاً کوئی حق نہیں۔ ملک و قوم کی فلاح اس میں ہے کہ حکومت آبادی پر کنٹرول کی پالیسی کو فوری طور پر ترک کرے اور نوجوان آبادی کو معیشت کے استحکام کے لیے ایک قوت بنانے کو قومی ترجیح بنائے اور اس کی موثر پلاننگ کی جائے۔ زچہ و بچہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مراکز قائم کیے جائیں تاکہ دوران زچگی ماں یا بچے کی اموات پر قابو پایا جاسکے۔ بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹرز کو جدید طبی سہولتیں فراہم کر کے اپ گریڈ کیا جائے۔
قومی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے زراعت میں فی ایکڑ پیداوار دوگنا کرنے، ایگرو بیسڈ انڈسٹری اور لائیو اسٹاک کو فروغ دینے، گھریلو صنعتوں اور اسمال و میڈیم انڈسٹری کو مستحکم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے۔ جاگیر داری نظام کے خاتمے، امارت و غربت میں تفاوت کو کم کرنے، کرپشن پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ سودی معیشت کے خاتمے اور اسلامی نظام معیشت کے نفاذ کے آئینی تقاضے فی الفور پورے کیے جائیں۔
کنٹرول آباد ی ایک مفاد پرستی پر مشتمل عالمی دہشت گردوں کا نظریہ ہے۔ مغرب خوف زدہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور آنے والے وقت میں دنیا پر وہی قوم حکومت کرے گی جس کی آبادی زیادہ ہوگی۔ ایک طرف ریاست کہتی ہے کہ انسان کے انفرادی معاملات میں دخل نہ دو، دوسری طرف اسے بچوں کی پیدائش سے روکتی ہے۔ برتھ کنٹرول کا اصل مقصد مسلمانوں کی آبادی کم کرنا ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان ترقی کرے تو اسے ساٹھ فی صد سے زائد بنجر پڑی زمین کو قابل کاشت بنانا ہوگا۔ پاکستان کے 95 فی صد وسائل دو فی صد اشرافیہ کے پاس ہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے۔ ملک کا بنیادی مسئلہ انصاف، تعلیم اور علاج کی سہولتوں کی عدم فراہمی، ملاوٹ اور کرپشن ہے۔ یہاں ریاست معصوم بچوں اور لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ تعلیم اور علاج کی فراہمی حکومت کے کسی پروگرام میں نہیں۔ جس طرح 5دسمبر 2018 کو سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام ’’الارمنگ پاپولیشن گروتھ ان پاکستان‘‘ کے عنوان سے سپریم کورٹ کے احاطہ میں آبادی پر کنٹرول کے لیے سیمینار کیا تھا، لیکن تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کا کسی کو موقع نہیں دیا گیا۔ حکمران غیر ترقیاتی اخراجات کم کرکے سادگی اختیار کریں اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرلیں تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے مگر حکمران عالمی استعمار کے خوف سے اس طرف تو قدم اٹھاتے نہیں اور آبادی زیادہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں۔ علمائے کرام اور آئمہ حضرات بھی معاشرے میں تعلیم و صحت کی اہمیت، بچوں کی پرورش و نگہداشت اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے منبر و محراب کی قوت کو بروئے کار لائیں۔