February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

اب حج بھی پرائیوٹائز

 

وفاقی وزیر مذہبی امور جناب نور الحق قادری نے دو ٹوک اعلان کردیا ہے کہ رواں برس حج اخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ خبر بھی دے دی ہے کہ اگلے چار برس میں حج نجی شعبے کو دے دیا جائے گا کیوں کہ سعودی حکام کی خواہش ہے کہ حج کا سرکاری کوٹا ختم کیا جائے اور نجی ٹور آپریٹرز کو منتقل کردیا جائے۔ ہمیں ان کی بات ماننا پڑے گی۔ یہ ایک ایسی بات کہی گئی ہے جو بین الاقوامی تعلقات، تجارت یا لین دین کے اصولوں کے بھی منافی ہے اور جو روایات ہیں ان کے بھی خلاف ہے۔ جو ملک حاجیوں اور معتمرین کی تعداد کے اعتبار سے پہلے اور دوسرے نمبر پر رہتا ہو اور جس کی وجہ سے سعودی عرب کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہو وہ اپنی شرائط اور ضرورت کی بنیاد پر اپنے حاجیوں اور معتمرین کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے رعایتیں حاصل کرتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ہی اُلٹا ہے۔ ادھر سے ایک حکم آتا ہے اور ہمارا وزیر کہتا ہے کہ ماننا پڑے گا۔ ایک مرتبہ پاکستانی حکومت اپنے لاکھوں معتمرین کے حوالے سے صرف سعودی ائر لائن کا بائیکاٹ کردے یا اس میں کسی کو سفر نہ کرائے یا ایک سال ایسا بھی آجائے کہ پاکستان سے کسی کو عمرہ ویزا لینے نہ دیا جائے تو سعودی حکام کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی پشت پر بھی کوئی والی وارث ہے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ سب نے پیسے کو خدا بنا رکھا ہے۔ وزیر مذہبی امور نے بے سوچے سمجھے کہہ دیا کہ مدینے کی ریاست میں حج اور عمرہ مفت نہیں ہوتا تھا۔ ذرا وہ بتائیں کہ مدینے کی ریاست میں داخلے اور حج اور عمرے کے لیے ویزا فیس کون سے خلیفہ یا ملوک کے کس دور میں یا کس سلطان کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ دنیا بھر سے کسی ویزے کی اجازت نامے کے بغیر حجاج آتے تھے۔ حکام تو ان کے لیے سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ سب سے بڑی خدمت تو حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ لیکن وزیر موصوف سورۂ توبہ ہی پڑھ لیں جس میں اس عظیم خدمت کی حقیقت بتادی گئی ہے کہ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کو اللہ اور آخرت پر ایمان کے برابر سمجھ رکھا ہے۔۔۔
مدینے کی ریاست میں تو حج و عمرہ ہی نہیں بہت کچھ مفت تھا۔ کبھی مدینے کی ریاستوں کا حال تو پڑھ لیں۔ اسی مدینے کی ریاست میں بچے کی پیدائش کی اطلاع کے ساتھ ہی اس کا وظیفہ مقرر ہوجاتا تھا۔ جس کے نعرے پر حکومت اقتدار میں آئی ہے۔ اگر اس نعرے کا پاس نہ رکھ سکتے تھے تو یہ لگانا نہیں چاہیے تھا اور اب ریاست مدینہ کی من مانی تعبیریں کرکے اس ریاست کی بے حرمتی نہ کریں۔ وفاقی وزیر کا یہ اعلان بھی ایک اور یوٹرن ہے کہ اب رواں برس کے حج اخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ جب کہ وہ مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ میں تو اخراجات کم کرنے کے حق میں ہوں، تو کیا وہ غلط کہہ رہے تھے یا حقیقت یہی ہے جو اب کہی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ن لیگ نے الیکشن کی وجہ سے حج اخراجات میں کمی کی تھی۔۔۔ گویا اگر الیکشن سر پر ہوں تو آپ بھی یہی کریں گے؟۔ ویسے بلدیاتی انتخابات اور حج قریب قریب ہی ہوں گے۔ اس بارے میں بھی سوچ لیں۔ ایک اور دلچسپ بات وزیر موصوف کی زبانی سننے کو ملی ہے کہ عمران خان کہتے ہیں کہ بدحال معیشت میں سبسڈی دینے کو دل نہیں مانتا۔ وزیراعظم نے دبئی میں بھی اس سے ملتی جلتی بات کی ہے کہ پاکستانی خیرات دینے میں آگے اور ٹیکس دینے میں پیچھے ہیں۔ اب سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے لوگ یہاں آکر پیسہ بنانے کا موقع ضائع نہ کریں۔ لیکن جناب وزیر اعظم ایک جانب آپ عوام کو ٹیکس نہ دینے کا طعنہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف خیرات دینے میں نمبر ون ہونے کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ جناب خان صاحب اور ان کی ٹیم کے لیے عرض ہے کہ یہ اعتماد کا معاملہ ہے۔ عوام کو جس ٹیکس کے صحیح جگہ پہنچنے کا یقین اور ایمان پختہ ہے وہ ٹیکس دل کھول کر دیتے ہیں کیوں کہ اس ٹیکس یا زکوٰۃ، صدقات و خیرات کی رسید وصول کنندہ کو نہیں پہنچتی، اس کے پاس تو نیت پہنچتی ہے اور نیت کا معاملہ بھی وہی ہے جو ٹیکس ایف بی آر اور بدنیت عملے کا ہے۔ بدنیت تاجر و مالدار لوگ بدنیت عملے کو بدنیتی سے کم ٹیکس دیتے ہیں جو حکومتی خزانے تک نہیں پہنچتا۔ رسید پکی ہوتی ہے، لیکن اللہ کے نام پر دینے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ جتنی خالص نیت ہوگی ان کا دیا ہوا اتنی ہی تیزی سے پہنچے گا، قبول ہوگا اور سات سو گنا واپس ملے گا۔ تو خان صاحب وزیر مذہبی امور اور حکومت پاکستان کے ماہرین معیشت کے لیے یہ مشورہ ہے کہ اپنی نیت ٹھیک کرلیں، معیشت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ مدینے کی ریاست کے بارے میں اُلٹے سیدھے تبصرے نہ کریں۔ ایک جانب تو یہ صورتِ حال ہے اور دوسری طرف پرائیویٹ ٹور آپریٹرز نے عزیزیہ حج 2019 کے نام سے حکومت کے مقابلے میں سستے حج پیکیج کا اعلان کردیا ہے ان کا پیکیج 3 لاکھ 70 ہزار روپے کا ہے۔ جب کہ حکومت نے 4 لاکھ 36 ہزار کا حج پیکیج دیا ہے۔ گویا پرائیوٹ آپریٹرز 66 ہزار روپے کم کا پیکیج دے سکتے ہیں لیکن حکومت اپنے پیکیج میں کمی لانے پر تیار نہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کے پیکیج اور سہولتوں کا جائزہ لیا جائے اور جن لوگوں نے 3 لاکھ 70 ہزار کا دعویٰ کیا ہے اور کوٹا مانگا ہے ان کی سہولتیں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ پھر عوام بھی فیصلہ کریں۔۔۔ دو تین باتوں کے لیے ارکان پارلیمنٹ کی توجہ نہایت ضروری ہے۔ اس قسم کے دعوؤں اور حکومتی سہولتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ان عوامی نمائندوں کا کام ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان پرائیویٹ آپریٹرز کو اس دعوے کی بنیاد پر کوٹا دے دیا گیا اور عوام پھر لٹ جائیں۔ ارکان پارلیمنٹ بھی وزیراعظم کے اس دعوے کو سنجیدہ لیں کہ معیشت بدحال ہے، اس لیے سبسڈی دینے کا دل نہیں چاہتا۔۔۔ بہت خوب، حج پر سبسڈی نہیں دیں گے اور عوام کو لوٹنے والے اداروں کو ایمنسٹی دے دیں گے۔ یہ کام ارکان پارلیمنٹ کا تھا کہ حکومت کو ایسی باتیں اور اقدامات کرنے سے روکیں۔ لیکن یہ سارے ہی لوگ ایجنڈے کے تحت ذاتی جھگڑوں، جملے بازیوں اور اسمبلیوں میں بڑھکیں مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عوام کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ چور ہیں یا پرویز الٰہی ڈاکو، زرداری منی لانڈرنگ کرتے ہیں یا علیم خان اور علیمہ خان نے ناجائز جائدادیں بنا رکھی ہیں۔ عوام کے مسائل تو روزگار، امن، عزت نفس اور تحفظ صحت، تعلیم وغیرہ ہیں۔ اب تو سی ٹی ڈی سے تحفظ کا الگ محکمہ بنانا پڑے گا۔ ارکان پارلیمنٹ ان کاموں پر توجہ دیں، عوام کو بے وقوف نہ بنایا جائے۔

                                                                                                                                                                             بشکریہ جسارت