July 22nd, 2019 (1440ذو القعدة19)

امریکا سے پاکستانی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ

 

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بروقت یاد دہانی کرائی ہے کہ امریکا افغانستان سے انخلا سے قبل پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے ۔ نائن الیون سے قبل پاکستان ایک پرامن زندگی گزار رہا تھا اور ترقی کی راہ پر گامزن تھا ۔ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت افغانستان پر چڑھائی کردی اور پاکستان کو جبری طور پر اس جنگ میں گھسیٹ لیا ۔ افغانستان کا تو جو حال ہوا سو ہوا ، پاکستان کا بھی کچھ کم نقصان نہیں ہوا۔ اس عرصے میں صرف پاکستان کے 70 ہزار سے زاید افراد اس جنگ کی نذر ہوئے جس میں فوجی بھی شامل ہیں اور شہری بھی ۔ پاکستان کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں حالات مسلسل ابتر رہے اور کئی نسلوں کو اپنے ہی ملک میں جبری خانہ بدوشی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس عرصے میں پاکستانیوں کو پوری دنیا میں دہشت گردوں کے روپ میں پیش کیا گیا ۔ پاکستان امریکا کے باعث جس دہشت گردی کا شکار رہا ، اس کے باعث غیرملکی کرکٹ ٹیموں تک نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا ۔ پاکستان کی بحری تجارت بری طرح متاثر ہوئی اور انشورنس کمپنیوں نے پاکستان کے لیے زاید پریمیم وصول کرنا شروع کردیا ۔ ناٹو کے لیے بھاری بھرکم ٹینک اور دیگر سازو سامان سے لدے ٹرالر پاکستانی علاقے سے گزرنے سے سڑکیں تباہ ہوگئیں ۔ امریکا نے کبھی بھی اس کا ازالہ نہیں کیا ۔ امریکا نے تو پاکستانی فضائیں استعمال کرنے اور ائرپورٹ استعمال کرنے کا معاوضہ بھی ابھی تک پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ادا نہیں کیا ۔ اس سب کا تخمینہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زاید لگایا جاتا ہے ۔قیمتی جانوں ، سرحدی اور قبائلی علاقوں سے پوری کی پوری آبادیوں کا انخلااور بچوں کی تعلیم سے محرومی اس کے علاوہ ہے ۔ باجوڑ جیسے ہزاروں ڈرون حملے الگ سے پاکستانیوں نے اپنے سینے پر سہے ۔ اس سب کا تو کوئی حساب کتاب بھی نہیں ہوسکتا ۔ مگر امریکا معاشی نقصان بھی پورا کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اگر امریکا پر واجب 150 ارب روپے کی ادائیگی ہوجائے تو پاکستان پر سے بیرونی قرضوں کا بوجھ ختم ہوسکتا ہے ۔ اس وقت وفاقی بجٹ کا ایک تہائی سے زاید حصہ قرضوں کے سود اور اس کی اقساط پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر قرض و سود کی ادائیگی ختم ہوجائے تو اس ایک تہائی رقم کو پاکستان اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرسکتا ہے ۔ یہ امریکی دہشت گردی ہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کو پہلی مرتبہ افغان سرحد پر اپنی فوج متعین کرنی پڑی ہے اور یہاں پر آہنی باڑھ لگانے کے اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کے فوجی بجٹ پر بھی اثرات پڑے ہیں جبکہ فوجی نفری مشرقی سرحد سے ہٹانے کی بناء پر بھارتی جارحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان کو افغان سرحد سے فوج ہٹانے کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن پر ایک نئے خطرے کا سامنا ہوگا ۔نیٹو کی غیر ذمہ داری یا لاپروائی کے نتیجے میں اس کے 8 ہزار سے زاید ہتھیاروں اور اسلحے سے لدے ٹرالر پاکستان میں ہی کہیں غائب ہوگئے ۔ یہ ہتھیار پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں اور دیگر دہشت گردوں کے پاس پائے گئے ہیں ۔ اس سے پہنچنے والے نقصان کا تو ابھی پوری طرح تخمینہ بھی نہیں لگایا گیا ہے ۔ پاکستانی علاقوں سے امریکی طیاروں کی پرواز اور امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی وجہ سے افغانوں کے دل میں پاکستان کے لیے اچھے جذبات نہیں رہے اور وہ اپنی ابتلاء و آزمائش کا ذمہ دار بھی پاکستان کو سمجھنے لگے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکا اس سب کو کھلے دل سے تسلیم کرتا اور ہونے والے نقصان کا بھرپور ازالہ کرکے پاکستان کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ادا کرتا ۔ اس کے بجائے امریکی رہنماؤں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق پاکستان ہی کو مطعون کرتے رہتے ہیں ۔ یہ درست وقت ہے کہ پاکستان امریکا سے مطالبہ کرے کہ وہ افغانستان سے اپنے انخلاسے قبل پاکستان کو پہنچنے والے معاشی نقصانات کا ازالہ کرے اور انسانی جانوں کے نقصان پر معذرت کرے اور ان کے اہل خانہ کو اس کی تلافی کے لیے ادائیگی کرے ۔ اس کی نشاندہی تو ضرور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کی ہے مگر اس پر تمام پارٹیوں کو یک زبان ہونا چاہیے اور حکومت کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سینیٹر سراج الحق اس مسئلے کو ایوان بالا میں جس کے وہ رکن بھی ہیں ، ضرور اٹھائیں گے تاکہ امریکا تک درست انداز میں پیغام پہنچ سکے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھی بھی معذرت خواہانہ انداز ترک کریں اور امریکا سے ایک غیر ت مند قوم کے وزیر اعظم بن کر بات کریں ۔ امریکا کو افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی مدد کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی افغانستان میں رہنے کے لیے ۔ اگر اب بھی امریکا سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی بات نہیں کی گئی تو پھر کبھی بھی یہ ممکن نہیں ہوسکے گا ۔

                                                                                                                                                                            بشکریہ جسارت