February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

عدالتوں پر بیرونی عوامل کے اثرات

 

آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو پورا ملک سراپا احتجاج تھا ۔ سیکڑوں مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کرلیے ہیں۔ آسیہ مسیح کا کیس ملک کے نظام انصاف کے لیے ایک آئینہ ہے ۔ پہلے دن سے لے کر اب تک اس کیس کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا گیا ہے وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان میں انصاف کس طرح ملتا ہے ۔ آسیہ کو دو مرتبہ عدالتوں نے موت کی سزا دی ۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ میں اپیل کے دوران آسیہ کو بری کردیا گیا ۔ اس کیس کی عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران میں جانبدارانہ تبصرے ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھے کہ عدالت کا جھکاؤ کس طرف ہے ۔ اس کے بعد آسیہ کیس پرنظر ثانی کی اپیل کی گئی جو عدالت نے مسترد کرکے آسیہ کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔ اس پورے کیس کو دیکھیں تو عجیب سی پیچیدگیاں ہیں ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے مطابق آسیہ معصوم ہے اور اس پر لگائے جانے والے الزامات میں صداقت نہیں ہے ۔ اس کیس میں پیش ہونے والے گواہوں نے غلط بیانی کی اور اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس کی رو سے آسیہ کو پھانسی دے دی جائے ۔ ہمارے سامنے آسیہ کیس کے فیصلے کے دو حصے ہیں ، پہلا حصہ سیشن کورٹ کا فیصلہ جس میں آسیہ کو پھانسی دی گئی اور ہائی کورٹ کافیصلہ جس میں آسیہ کی پھانسی کی سزا کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور دوسرا حصہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ جس میں پھانسی کی اس سزا کو کالعدم قرار دے دیااور نظر ثانی کی اپیل میں اس فیصلے کو برقرار رکھا ۔ یہ دونوں حصے ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ اگر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ درست ہے تو اس کی تحقیقاتی رپورٹ بنانے والے افسران کا ٹرائل ہونا چاہیے کہ انہوں نے غلط رپورٹ کیوں بنائی جس سے عدالت عظمیٰ کی نگاہ میں ایک بے گناہ شخص کو موت کی سزا دی گئی ۔ اس مقدمے کے گواہوں پر بھی جھوٹی گواہی اور غلط بیانی کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ ان میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ ایک گناہ گار اور بے گناہ میں تمیز کرسکیں ۔ جھوٹی تحقیقاتی رپورٹ اور جھوٹی گواہی کو وہ جانچ ہی نہیں سکے اور اس کی بناء پر انہوں نے آسیہ کو پھانسی کی سزا سنادی ۔ اگر یہ سب لوگ درست تھے تو پھر عدالت عظمیٰ میں یقیناًگڑ بڑ ہوئی ہے ۔ اس ایک کیس سے کوئی بھی جانچ سکتا ہے کہ عدل کے ایوانوں میں کیا کھیل ہوتا ہے ۔ اگر آسیہ بے گناہ تھی تو اس نظام کے تحت کسی کو بھی پھانسی کی سزا دلوانا اور پھانسی کی سزا پانے والے کو بری کروانا کتنا آسان ہے۔ اور اگر آسیہ بے گناہ نہیں تھی تو پھریہ امر انتہائی خوفناک ہے کہ بیرونی عوامل کس طرح سے انصاف فراہم کرنے والی سب سے بڑی عدالت پراثر انداز ہوتے ہیں اور کس طرح ایک منٹ میں سیاہ کو سفید سے بدل دیا جاتا ہے ۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ سے اس طرح کا تاثر ملا ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کا کیس ابھی ذہن سے محو نہیں ہوا ہے ، مصطفی کانجو اور شاہ رخ جتوئی کے کردار بھی سب کو یاد ہیں ۔ یہ واقعہ تو اب ضرب المثل بن چکا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی موجودگی میں برامد ہونے والی شراب اور دیگر مشروبات کس طرح سے زیتون اور شہد میں تبدیل ہوگئے تھے ۔ مسئلہ آسیہ مسیح کو رہائی دینے یا پھانسی دینے کا نہیں ہے ۔پاکستانی قوم کوئی خوں آشام نہیں ہے کہ اسے ایک عورت کو پھانسی دیے بغیر سکون نہیں آرہا ۔ مسئلہ نبی ﷺ سے عقیدت کا ہے ۔ عدالت عظمیٰ اور حکومت نے گرین سگنل دے دیا ہے کہ جس کے جی میں میں آئے وہ پوری مسلم قوم کی دل آزاری کرے ۔ اس دل آزاری کے عوض اس ملعونہ کو پورے اعزاز اور تکریم کے ساتھ بیرون ملک روانہ کردیا جائے گا ۔ اس کیس میں مغرب کی دلچسپی کا اندازہ لگانے کے لیے اس طرح کے وڈیو کلپ ہی کافی ہیں جن میں برطانوی اراکین پارلیمنٹ یہ بتارہے ہیں کہ انہوں نے آسیہ کی رہائی کے لیے کتنا فنڈ مختص کیاہے اور وہ فنڈ کس طرح پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرنے اور فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ آسیہ کیس مغرب کے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس تھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے عدالتی نظام اور حکمرانوں کے ہاتھوں اس کیس میں مجروح ہوئی ہے ۔ پاکستانی قوم نے تو حمیت کا ثبوت دیا ۔ دیگر جماعتوں کے ہمراہ جماعت اسلامی نے بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیے اور اپنا احتجاج رجسٹر کروایا ۔ کاش حکمراں بھی عوام کے ساتھ ایک صفحے پر ہوتے ۔ کاش پاکستان میں عدالتی فیصلے فرد کو دیکھ کر نہیں حقائق کو دیکھ کر کیے جاتے ۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                       بشکریہ جسارت