February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر

 

جب بھی عسکری طاقتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ، ان کا صفایا کر دیا گیا ہے تو فوراً بعد ہی دہشت گرد اپنی موجودگی اور پوری طرح فعال ہونے کا ثبوت فراہم کر دیتے ہیں ۔ پاکستان کا صوبہ بلوچستان بڑا حساس علاقہ ہے جہاں نام نہاد قوم پرست عناصر اور علاحدگی پسند مختلف ناموں سے تخریب کاری میں مصروف ہیں ۔ کسی نے بلوچستان کے لیے لبریشن آرمی بنا رکھی ہے اور کوئی اسلحہ لے کر پہاڑوں پر جا چڑھا ہے جنہیں ’’فراری‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والے بڑی آسانی سے ملک دشمن طاقتوں کا آلہ کار بن جاتے ہیں اور بہکاوے میں آ کر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ وہ کس کے مفادات پورے کر رہے ہیں۔پاکستان کے اطراف میں دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہے جن کو خام مال بڑی آسانی سے مل جاتا ہے ۔ بظاہر تو وہ دہشت گرد مسلمان ہیں یا مسلمانوں جیسے نام ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام تو کیا کسی بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ۔ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ سمجھنے پر تیار نہیں کہ پاکستان سے باہر ان کی عزت ہے نہ تحفظ ۔ بلوچستان کی علاحدگی کی کوشش کرنے والوں کو کون سمجھائے کہ علاحدہ ہو کر دشمنوں کے دست نگر ہو جائیں گے اور وہ سہولتیں بھی نہیں ملیں گی جو وفاق کے ساتھ رہنے میں ہیں۔ بلوچستان قیام پاکستان سے پہلے مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور قبائلی نظام مسلط تھا جس میں عام آدمی کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ سرداروں نے اپنے لیے تو بہت کچھ حاصل کیا لیکن عام آدمی کی حالت نہیں بدلی ۔ بلوچوں کو بہت سی شکایات ہو سکتی ہیں لیکن شکایات کہاں نہیں ہیں۔ خود پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے باسیوں کو شکایات ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھا لیا جائے ۔ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو وہاں خاص طور پر بھارت اور افغانستان کی کار فرمائی زیادہ ہے ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا ۔ کبھی کبھی ایران کی طرف سے بھی ’’ مہر بانی‘‘ ہو جاتی ہے تاہم افغانستان کی طرف سے تخریب کاروں کی آمد کا سلسلہ رکا نہیں ہے ، گو کہ دونوں ممالک کی سرحد پر آہنی باڑھ نصب کر دی گئی ہے پھر بھی ان سرحدوں کے درمیان بہت سے ایسے راستے ہیں جن کو بند نہیں کیا جا سکتا چنانچہ تخریب کار داخل ہو جاتے ہیں ۔ انہیں آسانی سے پناہ بھی مل جاتی ہے ۔ ہر افغان تخریب کار نہیں ہوتا اور بیشتر محنتی ، غیور اور ایماندار ہیں لیکن کالی بھیڑوں نے سب کو مشکوک کر دیا۔ گزشتہ منگل کو بلوچستان کے علاقے لورا لائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر خود کش حملے میں 6 اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور21زخمی ہو گئے ۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے ۔ ممکن ہے کہ یہ پاکستانی طالبان ہوں جن کو پاکستان میں تباہی پھیلانے اور عدم استحکام کا کام سونپا گیا ہے ۔ اگر یہ ایسے ہی جی دار ہیں تو افغانستان پر قابض غیر ملکی قوتوں سے لڑیں ، لیکن شاید اس کی ہمت نہیں اور پاکستان کو آسان ہدف سمجھ کر یہاں کارروائیاں کرتے ہیں ۔ لورا لائی واقعہ میں حملہ آوروں نے خود کش دھماکا کیا یعنی اپنے آپ کو اڑا لیا ۔ یہ خود کشی ہے جو اسلام میں حرام ہے اور خود کشی کرنے والا جہنمی ہے خواہ کسی مقصد سے خود کشی کی ہو ۔ اس اقدام سے بھی واضح ہے کہ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں اور ان کی وجہ سے بے گناہ افراد ہلاک ہوتے ہیں تو یہ کام بھی ہمیشہ کے لیے جہنم واصل کر دیتا ہے کہ جس نے کسی بے گناہ کو قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا ۔ اس وقت پاکستان افغانستان کا مسئلہ حل کرانے میں اپنی سی کوشش کر رہا ہے اور افغان طالبان اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ بات بھارت کو ہرگز ہضم نہیں ہو گی ۔ اب یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی بیشتر وارداتوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ پاکستانی طالبان یا دوسرے تخریب کار خوب سجھ لیں کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔

بشکریہ جسارت