April 24th, 2019 (1440شعبان19)

سرمایہ کار واپس آرہے ہیں ؟

 

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خوشخبری دی ہے کہ ملک سے جانے والے سرمایہ کار واپس آرہے ہیں کرپشن کی وجہ سے بڑی کمپنیاں ملک چھوڑ گئی تھیں اب ملک اوپر اٹھ رہا ہے ہر لیڈر عوام کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ خوش خبری قوم میں امید پیدا کرنے والی ہے اور ہر ایک محب وطن کی خواہش ہے کہ ایسا ہی ہو۔ اس امر سے قطع نظر کہ کس کی ہمدردیاں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور کس کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے کہ پاکستان میں سرمایہ آئے خوشحالی آئے کرپشن دور ہو۔ عوام کو اور حکمرانوں کو اپنے دل میں یہ خواہش بھی پختہ کرلینی چاہیے کہ اپنا آدمی بھی کرپشن کرے یا قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے نمل یونیورسٹی کے کانووکیشن میں خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے ہم اپنی غلطیوں اور سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن کیا ایسا ہی ہے کہ سرمایہ کار آرہے ہیںیا آئی ایم ایف کا ایجنڈا۔ وزیر اعظم نے مسائل کا درست تجزیہ کیا ہے لیکن آج کل کے سیاستدانوں کی طرح یہ نہیں دیکھا کہ کون سی بات کہاں کہنی چاہیے یونیورسٹی کے کانووکیشن میں وہ سیاست پر شروع ہوگئے اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی تعریفوں کے وہ پل باندھے کہ دنیا حیران رہ گئی وہ ساتھ ساتھ شہباز شریف پر بھی برہم تھے لیکن انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار بہترین وزیر اعلیٰ بنیں گے شہباز شریف نے ان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی ان کی قابلیت کیا ہے۔ بھٹو کو ایوب اور نواز کو ضیاء الحق لائے۔ وزیر اعظم نے کانووکیشن میں ایسی باتیں کرنے کا جواز یہ دیا کہ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جاتا۔ اس لیے یہاں کہوں گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا مقصد پیسے بنانا نہیں۔ وہ فیکٹریاں بنائیں گے نہ شوگر ملز اور نہ بیٹوں کو ارب پتی اور نہ رشتے داروں کو نوازیں گے۔ عثمان بزدار میں عاجزی ہے۔ یہاں باپ بیٹا کاغذ لیے پھر رہے ہیں کہ ہمیں وراثت میں سیاسی جماعت ملی ہے۔ کیا جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے۔ ظاہرسی بات ہے یہ سیاسی باتیں ہیں۔ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں نہیں کہنی چاہیے تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کتنے اچھے آدمی ہیں ان کی تعریفوں کے پل باندھنے سے پتا نہیں چلے گا ان کے کردار ، عمل، فیصلوں اور اندازحکمرانی سے اس کا پتا چلے گا اور اس حوالے سے بزدار اپنے صوبے کے عوام کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو ایک بزدار کرتا ہے۔ حالاں کہ اسے رکھوالا بھی ہونا چاہیے لیکن وہ صرف ہانکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جس سادگی کا ذکر وزیر اعظم نے کیا ہے کہ وہ پروٹوکول بھی نہیں لیتے صرف 38گاڑیاں ا ن کے آگے پیچھے دوڑتی ہیں۔ شہباز شریف نے جو زبان استعمال کی وہ یقیناًقابل اعتراض ہے لیکن اس کا جواب یونیورسٹی میں نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ اگر کوئی جواب میں اس جملے کو مکمل کردے کہ بھٹو کو ایوب لائے ، نواز کو ضیاء اور عمران کو۔۔۔ ۔ تو پھر مزید برا لگے گا۔ ویسے عمران خان وزیر اعظم ہیں انہیں پارلیمنٹ میں بات کرنے سے کون روکتا ہے۔ اکثریت ان کے پاس ہے۔ سارے طاقت ور لوگ ان کے ساتھ ہیں طاقت کے مراکز موجود ہیں۔ شیخ رشید ، فواد چودھری، شاہ محمود قریشی جیسے لوگ موجود ہیں ان کی موجودگی میں انہیں کون روک سکتا ہے، اسپیکر سب کے مائیک بند کردیں سب کچھ اپنا ہونے کے باوجود یہ عذر قابل قبول نہیں۔ اسی دن کے لیے ان کو مشورہ دیا تھا کہ پارلیمنٹ کو اہمیت دیں لیکن خان صاحب نے کنٹینر کو اہمیت دی کیوں کہ اس وقت بھی انہیں پارلیمنٹ میں نہیں بولنے دیا جاتا۔ انہوں نے میڈیا کی مدد سے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا تھا آج اسی پارلیمنٹ میں ان کے لیے مشکلات ہیں بہرحال جتنی بھی مشکلات ہوں پارلیمنٹ کو وقت دیں گے تو انہیں بھی ملے گا۔ایک دو مرتبہ جانے سے انہیں بولنے کا موقع نہیں ملے گا پارلیمنٹ جانے کی عادت ڈالیں۔ جہاں تک ان خوش خبریوں کا تعلق ہے جو انہوں نے سنائی ہیں۔ سب کی دعا ہے کہ ایسا ہی ہو جائے۔ لیکن آئی ایم ایف نے مزید ٹیکس وصولی کے اقدامات کا حکم دیا ہے اس سے آمدنی میں فوری اضافہ ہو جائے گا۔ اور یہ اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔ نتائج مزید خطرناک ہوں گے۔ پھر اچھی اچھی باتیں بھی کام نہیں آئیں گی۔
               بشکریہ جسارت