July 22nd, 2019 (1440ذو القعدة19)

بیرون ملک سے دولت لانے کا منصوبہ غتربود

 

پی آئی اے حکومت کے منی بجٹ میں جو اقدامات کیے گئے ہیں ، اس کے اثرات اور پوشیدہ شقیں سامنے آنے میں وقت لگے گا ۔ اطلاع ملی ہے کہ فنانس بل میں بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کرنے والا ادارہ ختم کرنے کی تجویز پیش کردی گئی ہے ۔ جوں ہی اسمبلی سے فنانس بل کی منظوری ہوئی ، اس کے ساتھ ہی مذکورہ ادارہ قائم ہونے سے پہلے ہی اپنی موت آپ مرجائے گا ۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے فنانس بل 2017 میں ڈائریکٹریٹ جنرل آف ٹرانسفر پرائسنگ کی تجویز پیش کی تھی ۔ فنانس بل کی منظوری کے بعد یہ تجویز قانون بن گئی تھی اور حکومت کو ڈائریکٹریٹ جنرل آف ٹرانسفر پرائسنگ کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کرنے تھے جس میں مذکورہ ڈائریکٹریٹ کے قیام کے لیے ضروری انسانی وسائل کی فراہمی اور دفاتر کا قیام شامل تھا ۔ اس میں ڈائریکٹر جنرل ، ڈائریکٹروں ، ایڈیشنل ڈائریکٹروں ، ڈپٹی ڈائریکٹروں اور اسسٹنٹ ڈائریکٹروں سمیت دیگر افسران کی تعیناتی شامل ہے ۔ عمران خان کا نعرہ ہی بیرون ملک سے کالے دھن کی وطن واپسی تھا ۔ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد بجا طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کریں گے ۔ اب تک حکومت کے اقدامات صرف اور صرف ایک ہی سمت اشارہ کررہے ہیں اور وہ ہے رائٹ ٹرن اور پھر رائٹ ٹرن ۔ اس کی ایک مثال ڈائریکٹریٹ جنرل آف ٹرانسفر اینڈ پرائسنگ کے ادارے کا خاتمہ ہے ۔ بہتر تھا کہ وزیر اعظم عمران خان فوری طور اس ادارے میں بہترین اور لائق افسران کی تعیناتی کے احکامات جاری کرتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے اس ادارے کو قائم ہونے سے پہلے ہی خاموشی سے ختم کردیا ۔ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں جتنا بھی کالا دھن ہے وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے ۔ اس کے لیے ایک فعال ادارے کا قیام ازحد ضروری ہے جو بیرون ملک کالے دھن سے خریدی ہوئی جائدادوں اور ان کے مالکان کا باقاعدہ کھوج لگائے ۔ اس کے بعد ان کرپٹ لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ کالا دھن ملک میں واپس لانے کا بندوبست کیا جائے ۔ اگر ایسا کوئی ادارہ قائم ہوجاتا ہے اور وہ اس کی روح کے مطابق کام بھی شروع کردیتا ہے تو اس کے دہرے فائدے ہوں گے ۔ سب سے پہلا فائدہ تو یہی ہے کہ اس سے بیرون ملک بھیجے گئے کالے دھن کو وطن واپس لاکر ملکی معیشت میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے ۔ اس سے بھی اہم فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے بدعنوان عناصر کو کان ہوجائیں گے کہ وہ اپنے ایمان کا سودا کرکے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جو مال کما رہے ہیں ، وہ ان سے چھینے جانے کا خطرہ ہے جس کے بعد پاکستان میں کرپشن کے دیو کو قابو کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ کرپٹ عناصر کو کوئی خوف نہیں ہے ۔ انہوں نے رشوت، تاوان، چائنا کٹنگ ، کمیشن غرض جس طرح موقع ملا ، خوب لوٹ مار کر کے کروڑوں اور اربوں روپے بیرون ملک منتقل کردیے ۔ اسی مال کی بنیاد پر انہوں نے باہر کے ممالک کی شہریت بھی حاصل کرلی ۔ یہ عناصر پاکستان میں جیسے ہی صورتحال کو ناموافق دیکھتے ہیں ، خاموشی سے بیرون ملک منتقل ہوجاتے ہیں ۔ پانچ دس برس کے بعد صورتحال موافق ہونے پر نہ صرف ملک واپس آجاتے ہیں بلکہ اتنے عرصے کی سرکاری نوکری کی تنخواہ کی وصولی کے ساتھ ساتھ ترقی بھی لے لیتے ہیں ۔ تحریک انصاف کی تبدیلی کے نعرے سے امید ہوچلی تھی کہ اب صورتحال تبدیل ہوگی تاہم اب تک کی صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پرنالا وہیں گر رہا ہے بلکہ صورتحال بدتر سے بدترین کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اگر بدعنوانی کے خاتمے اور کالے دھن کی وطن واپسی میں ذرا بھی سنجیدہ ہیں تو بہتر ہوگا کہ نعرے بلند کرنے اور تڑی مارنے کے بجائے اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات کریں ۔ قوم کو ایک مسیحا کی توقع دلائی گئی تھی ۔ توقع کا خاتمہ مایوسی پر منتج ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو پھر ملک میں انارکی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

                                                                                                                                                                                 بشکریہ جسارت