February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

کراچی میں تجاوزات، عدالت عظمیٰ کی برہمی

 

کراچی کی بگڑی ہو ئی صورت کو سنوارنے پر عدالت عظمیٰ کی خاص توجہ ہے۔ بلاشبہ بے ہنگم تجاوزات نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ رہی سہی کسر عدالت ہی کے حکم پر اندھا دھند دکانیں اور مکانات گرانے والوں نے پوری کردی کہ ہفتوں سے سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے اور دوسری طرف برسوں سے آباد لوگوں کو اپنی چھت سے محروم کیا جارہا ہے۔ اس پر جگہ جگہ احتجاج ہور ہے ہیں۔ شہریوں میں ایک خوف کا عالم ہے۔ گزشتہ جمعرات کو خوف زدہ شہریوں نے گھنٹوں ماڑی پور روڈ بند رکھی اور اس کے ساتھ خبر ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے کمر کس لی ہے۔ اطلاع ہے کہ خلاف قانون تعمیرات میں ملوث متعدد ریٹائر اور حاضر سروس افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ریٹائرڈ افسران تو اب نجانے کہاں ہوں گے لیکن شہر کے سابق اور موجودہ میئر موجود ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں معزز جج حضرات نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں کا کہنا تھا کہ شہر تباہ کردیا گیا۔ کوئی خوبصورت مقام نہیں چھوڑا۔ سندھ حکومت اصل پلان بحال کرے، فوجی زمینوں پر کمرشل سرگرمیاں ختم کی جائیں، کم از کم 500 عمارتیں گرانی ہوں گی۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی والے تو سمندر کو بھی بیچ رہے ہیں، ان کا بس چلے تو سڑکوں پر بھی شادی ہالز بنا ڈالیں۔ کنٹونمنٹ ایریاز میں تمام سینما، کمرشل پلازے، مارکیٹیں گرانے اور سندھ حکومت کوشہر کی تباہی پر کابینہ کا اجلاس بلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا بینچ جناب جسٹس گلزار احمد اور جناب سجاد علی شاہ پر مشتمل تھا۔ جج حضرات ڈی ایچ اے پر سب سے زیادہ برہم تھے اور یہاں تک کہا کہ یہ لاہور سے بھارت میں گھسنے کا راستہ سوچ رہے ہوں گے۔ ان تبصروں میں اہم ترین بات کراچی کی مزید500 عمارتیں گرانے کی ہے۔ یہ کون سی عمارتیں ہیں، ان کی نشاندہی کون کرے گا۔ کیا یہ رہائشی عمارتیں ہیں یا سینما گھر، شاپنگ پلازہ اور شادی گھر ہیں؟ اگر یہ رہائشی عمارتیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مزید متعدد افراد بے گھر ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ کچی آبادیوں میں بنائے گئے گھر نہیں ہوں گے، یہ با اثر افراد کے ہوں گے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ عمارتیں قانونی تقاضے پورے کر کے بنائی گئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے احکامات کے ردعمل میں سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے تو عمل کرنے سے صاف انکار کردیا اور کہا ہے کہ اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا، عمارتیں نہیں گراؤں گا۔ اسی کے ساتھ فوج سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ جو علاقے فوج کے پاس ہیں جنہیں کنٹونمنٹ کہا جاتا ہے، وہاں لوگ رہتے ہیں تو ان کی ضروریات کے لیے اسکول، کالج، پیٹرول پمپ، شادی ہال اور فلمیں دیکھنے کے لیے سینما گھربھی درکار ہیں۔ فوج کے کاروبار یا تجارتی سرگرمیوں کے بارے میں کہا گیاہے کہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ فوج پر خرچ کیا جاتا ہے، کوئی جوان جاں بحق ہو جائے تو حکومت تو 25,20 لاکھ دیتی ہے، فوج کی طرف سے 75لاکھ تک دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ عدالت عظمیٰ کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔کراچی میں مزید 5سو عمارتیں گرانے سے کہرام تو مچے گا اور ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو عدالت کے اوپر رکھ کر مسجد تک گرا دیتے ہیں، بہرحال دیکھنا ہوگا کہ کراچی میں تجاوزات کا خاتمہ بھی ہو اور لوگوں کے سروں سے چھت بھی نہ چھینی جائے، دکانیں گرانے سے ہزاروں لوگ پہلے ہی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کو اصل پلان بحال کرنے کا حکم دیا ہے لیکن کون سا پلان ؟ اب تک تو متعدد پلان آچکے ہیں۔ ہر ٹاؤن کا الگ پلان ہے لیکن کسی پلان پر عمل نہیں ہوا۔

                                                                                                                                                                                  بشکریہ جسارت