February 19th, 2019 (1440جمادى الثانية13)

نئے پاکستان کا نعرہ‘بزرگوں کی توہین ہے

 

راشد منان

پاکستان کو نیا پاکستان کہنا ہی غلط ہے اور اس قومی نظریہ کی توہین بھی ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا۔میرے خیال میں جب بھی ہم پاکستان کو نیا پاکستان کہتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ گویا ہم اپنے ان اکابرین اور بزرگوں کو گالی دے رہے ہیں جن کی انتھک محنت اور جدوجہد نے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہمیں عطا کیا۔ گویا اس سے قبل کا پاکستان کچھ اتنا ہی برا تھا جسے تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آگئی اور یہ کہ خدانخواستہ ہمارے بزرگوں کا علم و عمل آج کے فطینوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا۔ جب ہم نیا پاکستان کہتے ہیں تو یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس کی تاریخ 1906 میں ڈھاکا میں مسلم لیگ کے قیام سے اسکندر مرزا تک بے شمار مرد آہن پاکباز اور سعید روحوں سے شروع ہوتی ہے یہ وہ لوگ تھے جن کی محنت اور جذبہ خدمت نے ہمیں ایک نام اور مقام عطا کیا دنیا بھر میں ہمیں پہچان عطا کی۔ یہاں اس پر بھی بات کرنا ضروری ہے کہ کچھ اصطلاحیں بالکل مخصوص ہیں اسے کہیں اور استعمال کرنا ان اصطلاحوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اور نئے پاکستان میں دھڑلے سے یہ کام ہو رہا ہے اور ہر بات پر سو موٹو ایکشن لینے والے بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہے مثلاً ریاست مدینہ اور لفظ صادق اور امین کی بار بار تکرار۔
یہ مقدس اور معتبر اصطلاحیں آقائے دو جہان اور ہمارے پیارے نبی کی ذات سے منسوب ہیں جن پر ہمارے ماں باپ قربان مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جن دنوں الطاف حسین سنگ مر مر اور کروٹن کے پتوں پر نمودار ہو رہے تھے انہی دنوں میں ایک بینر محسن انسانیت کے نام سے پورے کراچی شہر میں لگایا گیا تھا اور اس پر آشوب دور میں جب ان لوگوں کے خلاف کچھ بولنا ممکن نہ تھا جماعت اسلامی کی قیادت نے اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی تھی نتیجتاً ایم کیو ایم کو تمام بینرز اتارنا پڑے تھے اور جب الطاف حسین نے خدیجۃالکبری جیسی اہلیہ کی خواہش کا اظہار کیا تو بھی ان پر لعن طعن کی گئی کیوں کہ محسن انسانیت یا لفظ سرکار مدینہ جب کبھی کہا جائے گا تو اس سے مراد ہمارے پیارے نبی کی ذات اقدس تصور کی جائے گی مگر آج کے نئے پاکستان میں ان اصطلاحوں کا بار بار استعمال اور اس پر خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔
ریاست مدینہ کی بات کرنے والے اپنے گریبان میں جھانک تو لیں کیا ان کاکوئی ایک عمل بھی والی مدینہ سے قریب تر ہے؟ ریاست مدینہ کا حکمران تو بوریہ نشین تھا پیٹ بھر کھانا اسے میسر نہیں تھا سچ اور حق کی حکمرانی پر قائم کہتا تھا کہ فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے گی تو سزا میں ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ مسجد کے لیے زمین درکار ہوگی تو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے گی۔ جس کے ساتھی اس کی تربیت کا عملی نمونہ ہوں اس کی تعلیمات پر پوری طرح کاربند جس کے قاضی اس کی منشاء کے مطابق نہیں بلکہ اس کی تعلیمات کے مطابق بے لاگ عدل فراہم کرنے کے ذمے دار ہوں۔ معذرت کے ساتھ ریاست مدینہ کی تکرار کر کے پاکستان کہ غیور مسلمانوں کی غیرت اور اسلامی حمیت کا مذاق بند کیا جائے۔
یہ کیسی مدینہ کی ریاست ہے جہاں ہر وقت جھوٹ اور دروغ کی سیاست ہو جہاں کہ وزراء اور مشیر جب زبان کھولیں تو بے تکی بولیں ان کے ہر عمل سے انتقام کی بو آتی ہو اور جہاں کے عدلیہ حاکم وقت کو تو اپنی زمین ریگولرائز کرانے کا مشورہ دے اور دیگر تجاوزات کے فی الفور خاتمے کا بیک وقت حکم بھی صادر کرے۔ جو خود اپنے آنکھوں سے شراب کی بوتلوں میں شراب دیکھے اور پھر اسے تیل اور شہد سے تشبیہ دینے والے دہرے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی سے باز رہے، جو ہر احتساب اور تنقید سے بالا تر ہو اور جس کے خلاف بولنا توہین عدالت ہو جسے توہین عدالت کی تو فکر ہو مگر توہین رسالت اسے برداشت ہو۔ کیا آئین پاکستان میں ہم جیسوں کے لیے یہ گنجائش موجود ہے کہ ہم اپنی معزز عدلیہ سے یہ سوال کر سکیں کہ گزشتہ 22سال کی سیاسی تاریخ میں عمران خان نے اپنے مخالفین کے خلاف جتنی بھی الزام تراشیاں کی ہیں، کیا ان میں سے کسی ایک کو بھی وہ سچ ثابت کر سکے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو پھر کس بنیاد پر انہیں صادق قرار دیا جارہا ہے اور رہی امین ہونے کی بات تو قوم نے تو اپنی امانت انہیں اب سپرد کی ہے، سابق حکمرانوں کے خلاف ہر چھوٹے بڑے واقعات پر استعفے کا مطالبہ کرنے والے ملک کے موجودہ وزیر اعظم کیا سانحہ ساہیوال پر جب کہ ان کا دل اس اندوہناک واقعے پر صدمہ سے دو چار ہے خود استعفا دے کر کوئی نظیر قائم کریں گے؟ اس بات پر کم از کم ان کا اپنا اختیار ہے مدینہ کی اسلامی ریاست میں اس طرح کے واقعات نہ پہلے ہوتے تھے اور نہ ہی اب۔