April 24th, 2019 (1440شعبان19)

زمبیا: چین کا نیا شکار

 

مسعودانور

افریقی ملک زمبیا چین کا نیا شکار ہے۔ قرض ادا نہ کرسکنے کی پاداش میں چین نے افریقا کے چھوٹے سے ملک زمبیا کے دارالحکومت لوکاسا میں واقع لوکاسا انٹرنیشنل ائرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس سے قبل چین زمبیا میں قرض کے عوض زمبیا ہی کی قومی براڈ کاسٹنگ کمپنی ZNBC اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ZESCO کا کنٹرول بھی حاصل کرچکی ہے۔ افریقا میں یہ چین کی پہلی پیش قدمی ہے۔ اس سے قبل چین سری لنکا کی بندرگارہ ہمبنٹوٹا اور تاجکستان کی ایک ہزار مربع کلومیٹر زمین نادہندگی کے جرم میں حاصل کرچکا ہے۔ زمبیا براعظم افریقا کے جنوب میں واقع تقریباً پونے دو کروڑ افراد پر مشتمل ایک چھوٹا ملک ہے جس کے پاس کوئی سمندری راستہ نہیں ہے۔ جھیلوں، معدنیات اور جنگلات کی دولت سے مالا مال اس ملک نے 1964 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے قبل اس کا نام شمالی رہوڈیشیا تھا۔ اس کی سرحدیں کانگو، تنزانیہ، موزمبیق، زمبابوے، بوٹسوانا، نمیبیا اور انگولا سے ملتی ہیں۔ بیش تر افریقی ممالک کے برعکس زمبابوے ایک پرامن ملک ہے اور یہاں پر خانہ جنگی کی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ ڈاکٹر کانگو کے بعد زمبیا کا افریقی ممالک میں تانبے کی پیداوار میں دوسرا نمبر ہے۔ دیگر ممالک کی طرح زمبیا بھی چینی قرضوں کے جال میں 2000 کے عشرے میں پھنسا۔ زمبیا پر مجموعی طور پر 8.7 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ اس میں سے چین سے حاصل کیے گئے قرض کی مالیت 6.4 ارب ڈالر ہے۔ یہ سارا قرضہ one belt one road نامی جال میں پھنسا کر زمبیا کو دیا گیا۔
زمبیا کی کہانی بھی باقی ممالک سے مختلف نہیں ہے۔ چینی بینکوں نے دیگر شکار ترقی پزیر ممالک کی طرح زمبیا کی قیادت پر نوازشات کی بارش کردی اور بھاری کک بیکس کے عوض فراخدلانہ قرضے جاری کرنے شروع کردیے۔ یہ کک بیکس چینی بینک اپنی جیب سے نہیں دے رہے تھے بلکہ انہوں نے یہ قرض فراہم ہی غیرمعمولی شرح سود پر کیے تھے۔ ان چینی بینکوں نے اس امر کو بھی یقینی بنایا کہ دیے گئے قرض کسی ترقیاتی پروجیکٹ پر خرچ نہ ہونے پائیں اور ان پروجیکٹوں میں کرپشن کی شرح بھی بلند ہی رہے۔ سڑکوں، روڈ ٹرانسپورٹ وغیرہ جیسے پروجیکٹ میں فنانسنگ کی گئی۔ یہ پروجیکٹ ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی کم ہوتی ہے۔ مثلاً ایک سڑک دس بیس سال کے بعد طبعی موت مرجاتی ہے۔ اگر اس میں کرپشن کا تڑکا لگا ہو تو دس سال سے پہلے ہی سڑک کھنڈر کا نقشہ پیش کرنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ بغیر کسی فزیبلٹی کے بندرگاہوں کی تعمیر بھی قوموں کو جال میں پھنسانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس میں سرمایہ کاری بھاری ہوتی ہے اور آمد صفر۔ زمبیا بھی اس جال میں پھنس گیا اور اس کے لیڈر دیکھتے ہی دیکھتے اربوں ڈالر کے مالک بن گئے مگر ملک کی غلامی کی قیمت پر۔ ایک چیز جس کا میں بار بار تذکرہ کرتا ہوں، ایک مرتبہ پھر اعادہ کہ بینک کی شرح سود کم زیادہ ہوسکتی ہے مگر بینک دیے جانے والے قرض کی مالیت سے زیادہ کی جائداد گروی رکھے بغیر کسی صورت قرض نہیں دیتا۔ جیسے ہی کوئی ملک نادہندگی کے نقطے پر پہنچتا ہے، چینی بینک گروی رکھوائی ہوئی جائداد کی قرقی شروع کردیتے ہیں جیسا کہ سری لنکا کے کیس میں ہوا۔ یہ چینی بینک گروی رکھوائی ہوئی چیز کو مذاکرات کی میز پر من پسند چیز لینے کے لیے چھوڑ بھی دیتے ہیں جیسا کہ تاجکستان کے کیس میں ہوا۔ تاجکستان کے کیس میں چین نے اپنی سرحد سے ملحق تاجکستان کی ایک ہزار مربع کلومیٹر زمین چین میں شامل کرلی۔ اب چین کی افغانستان کی سرحد کے ساتھ تین سو کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔
یہ چینی بینک اس امر کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ قرض کے معاہدے کی شقیں اور گروی رکھی ہوئی جائداد کی تفصیل کسی بھی صورت میں منظر عام پر نہ آنے پائے۔ اٹھارویں صدی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی ملک دیگر ممالک کو اپنی کالونی بنا رہا ہے۔ تاہم اٹھارویں صدی میں کالونی بنانے اور آج کے کالونی بنانے کی چینی پالیسی میں واضح فرق ہے۔ اٹھارویں صدی میں برطانیہ، فرانس، پرتگال اور دیگر ممالک نے فوج کشی کے ذریعے پوری دنیا کو آپس میں بانٹ لیا تھا۔ اس وقت چین یہ کام قرض کے جال کے ذریعے لے رہا ہے۔ چین زندہ مینڈک کو ابالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کسی بھی زندہ مینڈک کو اگر ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا جائے تو وہ زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کرتا ہے اور اکثر کود کر باہر نکل جاتا ہے۔ زندہ مینڈک کو ابالنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اسے عام سادہ پانی کے برتن میں ڈال کر نیچے آہستہ آگ لگا دی جاتی ہے۔ شروع میں مینڈک اس پانی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ پانی گرم ہوتا جاتا ہے تو اتنے میں مینڈک کی مزاحمت بھی دم توڑتی جاتی ہے اور یوں زندہ مینڈک کو ابال لیا جاتا ہے۔
یہی طریق کار چینی حکومت نے اختیار کیا ہے۔ اگر چین فوج کشی کے ذریعے سری لنکا کی بندرگاہ کو حاصل کرنا چاہتا تو اسے نہ صرف سری لنکا سے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی بھاری مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ کچھ ایسا ہی تاجکستان کی سرحدی زمین پر قبضے کی صورت میں ہوتا۔ فوج کشی میں چین کو بھاری اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے اور جانی نقصان کی وجہ سے خود بھی عدم استحکام کا شکار ہوسکتا تھا۔ قرض دینے کی صورت میں نہ صرف کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اصل رقم سود سمیت واپس بھی مل گئی اور جائداد مفت میں ہاتھ آئی۔ بس کرنا صرف یہ پڑا کہ ہدف ملک میں کرپٹ حکمرانوں کو برسراقتدار لانے میں تھوڑی سی سرمایہ کرنا پڑی اور پھر ان کرپٹ حکمرانوں کو کک بیکس کے خوبصورت خواب دکھانے پڑے۔
پاکستان میں چوں کہ کرپٹ عناصر کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے چین کو پاکستان میں صورتحال ہر دور میں موافق ہی ملی ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان نے مجموعی طور پر کتنا قرض لیا ہے اور کس شرح سود اور کن شرائط پر لیا ہے، یہ سب مخفی ہے۔ ان بھاری قرضوں کے حصول کے لیے کیا کچھ گروی رکھا گیا ہے، یہ سب بھی پوشیدہ ہے۔ 2023 میں جب پاکستان نادہندگی کی لائن پار کرے گا تو کیا کچھ ہوسکتا ہے، یہ بھی کوئی بتانے کو راضی نہیں ہے۔
نادہندگی کے عوض قرقی کی چینی داستان جاری ہے۔ 

معاملات صرف اتنے ہی نہیں ہیں کہ چین ترقی پزیر ممالک کی کرپٹ لیڈر شپ کے ذریعے انہیں قرضوں کے جال میں پھنسا رہا ہے اور بتدریج ان ممالک کی سرزمین کو اپنے کنٹرول میں لے رہا ہے۔ ذرا سا اور گہرائی میں جائیں تو پتا چلتا ہے کہ چین ان ممالک میں اپنے باشندوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منتقل کررہا ہے۔ یہ باشندے ان ممالک میں چھوٹی دکان سے لے کر بڑے کاروبار میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یونیورسٹی آف نبراسکا کی ایک تحقیق کے مطابق اب تک ساڑھے سات لاکھ چینی افریقا میں سکونت اختیار کرچکے ہیں جبکہ آئندہ دس برسوں میں یہ تعداد کروڑوں میں پہنچنے کی توقع ہے۔ روانڈا، نیروبی اور انگولا جیسے علاقوں میں چینی سفارت خانوں کے علاوہ چینیوں کے نجی اسکول اور ثقافتی مراکز بھی قائم ہوتے جارہے ہیں۔ انگولا میں تو چائنا ٹاؤن کے نام سے ایک الگ قصبہ بھی بس چکا ہے۔ افریقی ممالک اور چین کے درمیان تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں یہ تجارت 50 لاکھ یوآن سے بڑھ کر 6 ارب یوآن پرپہنچ چکی ہے۔ اس تجارت کو دیکھیں تو مزید پتا چلتا ہے کہ چین سے افریقا کو کھیل کود کا سستا سامان جیسی چیزیں بھیجی جاتی ہیں جبکہ جواب میں افریقی ممالک سے قیمتی لکڑی، تانبا جیسی معدنیات اور ہیرے چین پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ چین قیمتی اشیاء افریقا سے لے جاتا ہے مگر توازن تجارت پھر بھی چین ہی کے حق میں ہے۔ افریقی ممالک میں چین کی جانب سے کیے جانے والے کام اس کی مصنوعات کی طرح ہی ناقابل اعتبار ہیں۔ چینی قرضوں کی اسکیم کے تحت ایک چینی کمپنی COVEC نے انگولا میں 2006 میں Luanda’s General Hospital تعمیر کیا تھا۔ تاہم تعمیر کے چار برس کے بعد ہی اس اسپتال کی عمارت کو خالی کرنا پڑ گیا کیوں کہ ناقص تعمیر کے باعث کسی بھی وقت اس کے گرنے کا خدشہ تھا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال چینی اسلحے کے ساتھ بھی ہے۔
چین صرف افریقا ہی میں مصروف نہیں ہے۔ یہ امریکا کے صحن لاطینی امریکا میں بھی پہنچ چکا ہے۔ ارجنٹینا، کوسٹا ریکا، چلی، پیرو اور وینیزویلا بھی چینی بینک اسی طرح مصروف عمل ہیں جس طرح افریقا اور ایشیا میں مصروف ہیں۔ زمبیا کے بعد اب کس کا نمبر ہے؟ ممکن ہے کہ یہ نام کینیا کا ہو۔ چین کا one belt one road نامی منصوبہ جو پاکستان میں آکر سی پیک بن جاتا ہے، کے تحت کینیا میں بھی انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے اربوں ڈالر قرض لیے گئے۔ انفرا اسٹرکچر کی اس بہتری میں کینیا کی ریلوے کارپوریشن بھی شامل تھی۔ کینیا ریلوے کارپوریشن نادہندگی کے کنارے پر کھڑی ہے اور جلد ہی دنیا سنے گی کہ چین نے نادہندگی پر کینیا کی ریلوے کارپوریشن کے ساتھ ساتھ ممباسا کی بندرگاہ کا بھی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چین کی دنیا بھر میں پیش قدمی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پوری دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے تو پھر چین کو روکنے کے لیے امریکا، روس، یورپ میں سے کوئی آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ اس سوال کا جواب بوجھنے سے پہلے ایک حقیقت کی دوبارہ تذکرہ۔ دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے نام پر جو بھی قرض دیے جارہے ہیں، یہ چینی حکومت نہیں دے رہی بلکہ چینی بینک دے رہے ہیں۔ چینی حکومت تو خود ٹریلین ڈالر کی ان بینکوں کی قرضدار ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو قرض دے رہا ہے وہی نادہندہ ممالک کی قرق کی ہوئی جائداد کا کنٹرول سنبھال رہا ہے۔ کینیا کی ریلوے کارپوریشن کا کنٹرول چینی حکومت نہیں سنبھالے گی بلکہ چین کا امپورٹ ایکسپورٹ بینک جو عرف عام ایگزم بینک کہلاتا ہے، وہ سنبھالے گا۔ برصغیر پر تاج برطانیہ نے قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا تھا جو اس نے بعد میں ایک تجارتی معاہدے کے بعد تاج برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔ یہ حقیقت جاننے کے بعد کہ دنیا بھر میں قبضہ چینی حکومت نہیں کررہی بلکہ چینی بینک کررہے ہیں، اس سوال کا جواب جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ امریکا، یورپ اور روس کیوں چین کی پیش قدمی پر خاموش ہیں۔
سیدھی سی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے بینکوں کے مالکان ایک ہی ہیں۔ اب چاہے برطانیہ کے بینک کسی علاقے پر قبضہ کریں یا چین کے، بات ایک ہی ہے۔ اس وقت دنیا کو احمق بنانے کے لیے چین کا کارڈ استعمال کیا جارہا ہے اور ایک پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو بتایا جارہا ہے کہ امریکا، یورپ اور روس کی استعماری طاقتوں نے پوری دنیا کو غلام بنایا، چین ان کا نعم البدل ہے جو دنیا سے غربت کے خاتمے کا عزم لے کر اٹھا ہے اور پرانی طاقتوں کو للکار رہا ہے۔ چینی للکار کی ہیبت سے امریکا، روس اور یورپ سب کی گھگی بندھ گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے قرضوں کا پھیلایا ہوا چینی جال جو موت کے جال میں بدلتا جارہا ہے، میں ان سارے ہی ملکوں کی آشیرباد شامل ہے۔
نیو ورلڈ آرڈر میں دنیا کو غلام بنانا شامل ہے۔ اب جب کسی ملک میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے مثلاً بجلی پیدا اور فراہم کرنے والا ادارہ کسی غیر ملکی کمپنی کے پاس ہو اور وہ اس کے جو چاہے نرخ مقرر کرے، تو اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ آج کے دور میں ایک بڑی آبادی کو عملی طور پر تعلیم حاصل کرنے، سفر کرنے اور مواصلات کی دیگر سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ اب ریاست جس فرد کو چاہے گی، وہ بجلی سے استعمال ہونے والی مصنوعات استعمال کرسکے گا اور جسے چاہی گی، وہ نہیں۔ دنیا کو نیوورلڈ آرڈر کے شکنجے میں کسنے کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2023 میں سی پیک کے تحت لیے گئے تقریباً ایک سو ارب ڈالر کے قرضے کیا گل کھلائیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سی پیک کے تحت لیے گئے قرضوں کی تمام تفصیلات بھی عوام کو بتائے اور ان قرضوں کے عوض رکھے گئے ملکی اثاثوں کی تفصیلات بھی۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔