August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

سازش کا نظریہ

 

پاک فوج نے سازش کا نظریہ مسترد کردیا۔ ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے پاناما کیس کے حوالے سے کسی قسم کی سازش کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ فوج آئین کی عملداری چاہتی ہے۔ پہلے ملکی مفاد دیکھنا ہے۔ فوج کا جے آئی ٹی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، عدالت عظمیٰ کے حکم پر ایمانداری سے کام کیا۔ ان کی پریس کانفرنس کے دو حصے ہیں۔ دوسرے حصے کا تعلق آپریشن خیبر فور کے آغاز سے ہے لیکن پہلے اور دوسرے حصے کو ملاکر پڑھیں تو بات ذرا عجیب لگتی ہے۔ ایک طرف قومی مفاد اور استحکام کی باتیں ہیں تو دوسرا حصہ بتارہا ہے کہ آپریشن خیبر فور کیوں شروع کیاگیا ہے۔ایک دن قبل امریکی سینیٹ نے پاکستان کی امداد حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کردی اور اگلے ہی دن آپریشن خیبر فور کے آغاز کا اعلان ہوا جس میں بتایا گیا کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ پاناما کیس میں سازش کا الزام لگایا جارہاہے اور پاک فوج کی وضاحت بھی کافی ہے لیکن اسے کیا کہیں کہ امریکی سینیٹ میں شرائط پیش ہونے کے اگلے دن حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔ کیا آپریشن خیبر فور کے آغاز کے لیے امریکی سینیٹ کی شرائط کی خبر کا انتظار تھا یا یہ سب کچھ ایک ساتھ تیار تھا اور ’’مناسب‘‘ وقت پر دونوں چیزیں ظاہر کردی گئیں۔ پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے دونوںحصے الگ الگ موضوعات ہونے کے باوجود خوامخواہ سازش کے نظریے کی طرف توجہ مبذول کرارہے ہیں۔ اس حوالے سے جنرل پرویز کا دور تو نہایت افسوسناک رہا ہے۔ اس دور میں جنرل پرویز از خود ڈ مور کے لیے تیار رہتے تھے۔ اب تو مطالبات کیے جاتے ہیں لیکن اب افغانستان اور خطے کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ پاکستانی حکام کو اس حقیقت کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہییں۔ لیکن امریکی اشارے پر تازہ آپریشن سے ظاہر ہورہاہے کہ ابھی تک معاملات پوری طرح پاکستانی حکام کے قابو میں نہیں آئے ہیں۔ جہاں تک جے آئی ٹی کے معاملے میں سازش کے نظریے کی بات ہے تو اس کو بلاوجہ نہیں کہا جاسکتا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ آخر وہ کون تھا، کس ادارے سے تعلق رکھتا تھا جس نے حسین نواز کی تصویر لیک کردی تھی، اس کا نام کیوں نہیں بتایا جارہا۔ اب تک عدالت کو بھی اس نام سے آگاہ کیا گیا نہ اس کے ادارے کے نام سے۔ اس کے بعد بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ سازش کا نظریہ کار فرما ہے۔ عموماً ملکی معاملات کو چلانے والے اپنی مرضی سے حکومتوں کو چلتا کرتے ہیں اور نئی حکومتیں بناتے ہیں لیکن کبھی کبھی معاملات ان کے قابو سے باہر ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی مسالہ تیز ہوجاتا ہے۔ اس پوری جے آئی ٹی، اس کی کارروائی، اس کے اجلاسوں اور اس کی رپورٹ کے صفحات کی تعداد کے اعتبار سے ایک تجزیہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس طرح ہر رکن کو دن میں 12 گھنٹے سے زیادہ تو اپنے حصے کی رپورٹ لکھنے میں لگے ہوںگے تو پھر تفتیش، کھانا پینا، سونا، سفر وغیرہ کن اوقات میں کیے گئے۔ جس طرح پاناما لیکس کے صفحات کی تعداد اور ان کی تصدیق کرنے کے معاملے میں سازش کا نظریہ واضح تھا کہ ایک کروڑ صفحات کو ایک ماہ میں کن لوگوں نے کیسے پڑھ کر تصدیق بھی کرلی۔ اسی طرح جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحات کی تعداد اور اس ٹیم کے ارکان کی تعداد ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں لگتیں۔ رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق یا تردید سے قطع نظر سازش کا نظریہ مسترد ہونے کے باوجود بو باقی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی ایک یا کئی ٹیمیں بٹھا کر دھڑادھڑ رپورٹیں تیار کرکے فراہم کردی گئیں۔ گویا سازش نہیں تو اس کی بو ضرور ہے۔ کہنے والے تو بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کردی ہے جب کہ جاوید ہاشمی اور حاصل بزنجو بھی جے آئی ٹی کی جے آئی ٹی کرچکے ہیں۔ حاصل بزنجو نے تو جے آئی ٹی ارکان کو بد دیانت اور رپورٹ کو بد نیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ اب عدالت عظمیٰ کے سامنے شریف خاندان کا موقف بھی آرہا ہے۔ عدالت تمام فریقوں کو سنے گی پھر کہیں جاکر کوئی فیصلہ ہوگا۔ آئی ایس پی آر سمیت تمام اداروں کو سازش کے ہر قسم کے امکان کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ یوں تو اس سارے معاملے میں صادق اور امین کی شرط کے خلاف بھی سازش کی بو محسوس کی جارہی ہے۔ جاوید ہاشمی،عاصمہ جہانگیر، حاصل بزنجو اور کئی دیگر لوگ دفعہ 63،62 ہی کو ختم کرنے پر تُل گئے ہیں۔ جرنیلوں کے پروردہ لوگ ہی کہہ رہے ہیں کہ جنرل ضیا الحق نے مخصوص لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے دفعہ 63،62 شامل کرائی تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ جنرل ضیا الحق کے دور میں یہ بروئے کار لائی گئی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا صادق اور امین کی شرائط غلط ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران، ارکان اسمبلی و سینیٹ کو صادق اور امین نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے خلاف سازش بھی بند کی جائے۔اب تو تیر کمان سے نکل چکا ہے اور فوج کے ترجمان کی وضاحت سے ظاہر ہے کہ ہدف پر لگا ہے چنانچہ اب حکمران طبقے کو مشورہ دینا لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ چودھری نثار علی خان سے یہ جملے منسوب ہیں کہ نواز شریف نے اپنا مقدمہ ڈھنگ سے نہیں لڑا اور ایسے لوگوں کے مشورے پر عمل کیا جو نا اہل ہیں اور انہوں نے معاملات کو یہاں تک پہنچادیا۔ میاں صاحب اور ان کی ٹیم کو چاہیے تھا کہ اپنی لڑائی عدالت میں لڑتی اور چومکھی لڑنے کے شوق میں مبتلا نہ ہوتی ۔ آئی ایس آئی اور بالواسطہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے سے اپنے خلاف ایک اور محاذ کھولنے کی غلطی کی گئی ہے۔ اداروں سے محاذ آرائی خود حکمرانوں کے حق میں نہیں۔ ایسا نہیں کہ حکمران طبقے کے اشارے کسی کی سمجھ میں نہیں آئے۔ ایسا ہوتا تو فوج کے ترجمان کو وضاحت کرنے کی ضرورت نہ پیش آتی۔