October 24th, 2017 (1439صفر3)

پانا مامقدمہ کا طوفان اور میڈیا!

 

سید تاثیر مصطفی

پانامہ مقدمہ اور اس پر ہونے والی سیاسی وعدالتی پیش رفت پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے جس نے پوری ملکی سیاست کو ایک سال سے زائد عرصہ تک اپنے گرد گھمایا ہے۔ اپریل2016ء میں انٹر نیشنل کنسورشیم فارانوسٹی جرنلسٹس (آئی سی آئی جے ) کے ذریعے کیے جانے والے انکشافات نے دنیا کے کئی ممالک میں طوفان اٹھائے، لیکن پاکستان میں اٹھنے والا یہ طوفان اب تک نہیں تھم سکا۔ کئی ممالک کے صدور،وزرائے اعظم اور دیگر عہد یداروں نے اپنے استعفے دے کر اپنے ملکوں کو بحران سے بچایا اور اپوزیشن نے معمول کی تحقیقات پر اکتفا کر لیا۔ لیکن پاکستان میں ایک طرف حکمرانوں الزامات کے باوجود جواقتدار سے چمٹے رہے، تو دوسری طرف اپوزیشن نے پالیمنٹ کے اندر اور باہر اس معاملے کو مردہ نہیں ہونے دیا۔  چنانچہ حکمرانوں کی ضد اور قابلِ قبول صفائی نہ دینے کے رویّے کے پیش نظر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان،  عموامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے امیرسینیٹر سراج الحق نے انصاف کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔  یہ اپنی بہت سی امیدیں اور اس سے زیادہ خدشات لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت گئے تھے، جس نے پہلے 5 رکنی بینچ بنا کر ایک فیصلہ سنایا اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی )کے ذریعے مزید تحقیق اور تفتیش کاحکم دیا۔ 6ملکی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اس جے آئی ٹی پر پہلے اپوزیشن اور پھر حکومت نے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔  لیکن وہ اپنا کام کرتی رہی اور 60 دن کی مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔  یہ پورٹ اب سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے ہے جس کو اس رپورٹ کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنانا ہے۔ اب اس رپورٹ کا بڑاحصہ میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے آچکا ہے۔ اگرچہ جے آئی ٹی نے ۱۰  جلدوں پر مشتمل  رپورٹ کی جلد نمبر ۱۰ عام نہ کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن لگتا یہ ہے ساری کی ساری رپورٹ میڈیا کے ہتھے لگ چکی ہے یا با آسانی میڈیا تک پہنچادی گئی ہے، جو 10جولائی کی سہ پہرسے اس رپورٹ کے مندرجات تسلسل کے ساتھ نشرکرہا ہے، اور اس پر اپنے
 تیارکردہ ماہرین سے تبصرے بھی آن ایئر کررہا ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ پر ٹاک شوز بھی ہورہے ہیں اور سیاسی ،معاشی ، قانونی ماہرین (جوزیادہ تر ماہرین کے بجائے کھلے فریق ہیں ) کی آرابھی نشر کررہا ہے۔ ا ور 11جولائی کے اخبارات جے آئی ٹی کی رپورٹ ،اس کی تفصیلات اور ان پر تبصروں اور رائے زنی سے بھرے پڑے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ میڈیا جس نے اس کیس کو اب تک اتنا اچھالا ہے اب اس رپورٹ کی تلاش میں ہوگا۔ لیکن پاکستانی صحافت سے وابستہ سینئرترین صحافی اور ملکی معاملات کو سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس ملک کے تمام صحابی اور تمام صحافتی ادارے مل کر بھی اگرایڑی چوٹی کا زور لگاسکتے تو وہ اس رپورٹ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، جو آج ان ہاتھوں میں ہے۔ یہ رپورٹ انہیں باقاعدہ فراہم کی گئی ہے۔ ورنہ اتنی جلدی ساری رپورٹ سامنے آجانا ممکن نہیں تھا۔ جو میڈیا گروپس اور بڑے بڑے رابطوں کے دعویدارصحافی 60 روزہ تفتیش کے دوران ایک اس طرح کی خبر نہیں نکال سکے وہ یک لخت اتنے ہوشیار اور پیشہ ور ہوگئے کہ ساری رپورٹ ہی لے آئے۔ پھر یہ رپورٹ کسی ایک کے نہیں ، سب کے ہاتھ میں ہے، جسے اب ٹی وی اسکرین پر لہرا لہرا کر عوام اور اداروں کو مرعوب کررہے ہیں ۔ جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران اندر کی خبریں بہت کم باہر آئیں،  جو باہر آئیں وہ کسی فریق خصوصاََ طلب کیے گئے افراد کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھیں ۔ یہاں ایک اور اہم بات غور طلب ہے کہ جی آئی ٹی نے اپنی رپورٹ10جولائی کی دوپہرسپریم کورٹ میں جمع کرائی لیکن یہ رپورٹ ایک بڑے میڈیا گروپ نے اسی صبح یعنی جمع کرانے سے بھی چھ سات گھنٹے قبل اپنے اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع کردی، اور اس سے پہلے اپنے ٹی وی چینلز پر نشر کی۔ یہ بائی لائن اسٹوری یہ تفصیلات بتاتی ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کیا لکھا ہے۔ اس میڈیا گروپ میں اس خبر کی اشاعت اور نشر کیے جانے کا سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا ہے اور متذکرہ اخبارات کے چیف ایڈیٹر ، پرنٹر ، پبلشر اور متعلقہ بورڈ کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ اب شاید اس گروپ کے طلب گردہ افراد کو یہ بتانا پڑے کہ انہوں نے یہ رپورٹ کہاں سے حاصل کی ہے یا کس نے انہیں کن مقاصد کے لیے فراہم کی ہے۔ شاید اس موقع پر اس میڈیا گروپ کو یہ  بھی بتانا پڑجائے کہ وہ جے آئی ٹی میں ہونے والی کاروائیوں کی رپورٹ کہاں سے حاصل کرتے تھے یا یہ خبریں انہیں کون فراہم کرتاتھا۔ واٹس ایپ اور ریکارڈ میں ٹیمپر نگ کی اسٹوری بھی اسی گروپ کی تھی جس کے بارے پوری صحافتی برادری کا اتفاق ہے کہ یہ کسی رپورٹر کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ فراہم کردہ خبر ہے۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس طرح کی انتہائی حساس خبریں یہ میڈیا گروپ اپنے رپورٹرز کے نام سے کیوں شائع کرتا رہا ہے؟ جبکہ یہ ان کی اوقات سےبڑی خبریں تھی۔ ماضی میں کسی غلط یا مشکوک خبرکی اشاعت پر یہ گروپ اپنے رپورٹرز کے ساتھ جو کچھ کرتا رہا ہے وہ پوری صحافتی برادری جانتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے نوٹس کے یہ معاملہ کس انجام تک پہنچا تو یہ ایک اور ڈان لیکس یا شاید اس سے بڑا اسکینڈل ہوگا ،جس کا پس پردہ بادی النظر میں ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنا ہی ہوسکتا ہے۔
بہر حال جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آچکی ہے، حکومت اور حکمران جماعت اسے ماننے سے انکار کرچکی ہے اور ملک کی بڑی اپوزیشن جاعتیں وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں ، تاہم ابھی سپرہم کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے جس کو پہلے مرحلے پرجے آئی ٹی رپورٹ کو قبول یا مسترد کرنا ہے۔ بظاہر امکانات یہی ہیں کہ سپریم کورٹ اپنی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو قبول کر لے گی اسی کی بنیاد پر فیصلہ دے گی۔ اس دوران حکمران جماعت ،شریف خاندان اور حکومت بھی سپریم کورٹ میں مختلف درخواستیں لے کر جائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ ان پر کیا اقدامات کرتی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ ، حکومت کا واویلا اور دوسرے قرائن سے یہی لگتا ہے کہ فیصلہ حکومت کے خلاف ہوگا۔ ا یسی صورت میں کم از کم نوازشریف کو اقتدار سے  علیحدہ ہونا پڑے گا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ  باب بند ہوجائے گا جو بنیادی طور پر کرپشن اور بدعنوانی کا باب ہے، یا کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ مزید اقتدمات تجویزکرے گی۔اور ملک سے اس لعنت کہ جڑ سے کھاڑنے کا حکم دے گی۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا تعلق ہماری موجودہ ہی نہیں ، آنے والی نسلوں کے بھی مستقبل سے ہے۔ پاناماکیس بنیادی طور پر ایک کرپشن کیس ہے کہ دنیا بھر کے امیر کبیر اور برسراقتدار افراد نے اپنی دولت پاناما کی آف شوز کمپنیوں میں لگائی ہوئی تھی۔ یہ دولت نہ صرف غیر اعلانیہ اور خفیہ تھی بلکہ ہ نا جا ئز ذرائع سے حاصل بھی کی گئی تھی۔
ملک میں جاری سیاسی ہنگامہ لگتا ہے کہ شریف خاندان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد تھم جائے گا۔ کیوں کہ ہم بطور قوم معاملات کو انجام تک پہنچانے کے عادی نہیں۔ جذباتی طور پرکسی ایشو کو اٹھاتے ہیں اورا س کے جزوی انجام پر اکتفا کر لیتے ہیں ، اور بسا اوقات تو اس انجام کے خلاف ہی کچھ عرصہ بعد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ہماری تاریخ اس طرح کے معاملات سے بھری پڑی ہے۔
معاشرے کا سوچنے سمجھنے والا طبقہ اب زیادہ فکر مند ہے۔ مگر سیاسی قیادت اب بھی سطحی معاملات کو دیکھ رہی ہے۔ حکمران خاندان کے خلاف فیصلہ آنا یا اس کا اقتدار سے الگ ہوجانا مسئلے کا حتمی حل نہیں ہے۔ یہ اس کا بالکل ابتدائی مرحلہ ہے۔ محض اقتدار سے علیحدگی کوئی سزا نہیں ہے، ان کے خلاف مکمل تحقیقات کے بعد کاروائی ہونی چاہیے ، ملزمان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس آنی چاہیے اور حکمرانوں کو ا س لوٹ مار میں مدد دینے والے تمام افراد اور ادارے بھی اس انکوائری اور تفتیش سے گزرنے چاہئیں کہ وہ یہ غلط کام کرنے پر مجبور تھے یا انہوں نے بھی خدمت کے عوض مراعات،ترقیاں اور مالی و سیاسی فوائد حاصل کیے ہیں ۔ کیوں کہ اگر یہ افراد اور ادارے سزا سے بچ گئے تو یہ سلسلہ تھوڑے وقفے بعد پھر شروع ہوجائے گا۔ اس مرحلے پر یہ تحقیقات بھی ہونی چاہئیں کہ جن سرکاری افسروں کی بیگمات، بیٹیوں ، بہوؤں اور بہنوں کو مخصوص نشستوں پر منتخب کرایا جاتا ہے یا ان کے جن بھائیوں ،بیٹوں دامادوں اور بھتیجوں کو عام انتخابات میں ٹکٹ دیے جاتے ہیں کہیں یہ ان کی انھی قسم کی خدمات کا عوضانہ تو نہیں !شریف خاندان ، اُن کے وزرااور کاروباری شرکرات داروں اور ان کے سرکاری مددگاروں کے خلاف کاروائی ہی پر یہ معاملہ بند نہیں کرنا چاہیے بلکہ امیر جماعت اسلامی سینٹیر سراج الحق کے اس مطالبے کو قوم کی آواز سمجھنا چاہیے کہ پانامہ کیس کے تمام کرداروں کا بے رحمانہ احتساب کیا جاناچاہیے۔ پاناماکیس میں پاکستان کے 450 سے زائد افراد کا نام آیا ہے۔ جن کی کمپنیاں ہیں اس میں سیاست دان ،حکمران ،سرکاری افسران ،اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ،ڈپلومیٹس، کاروباری اور تجارتی خاندان اور میڈیا مالکان بھی شامل ہیں ۔ ان سب کے معاملات کی تفتیش ہونی چاہیے اور انہیں اور ان کی مددگاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچناچاہیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث دوسرے افراد اور خاندان چاہے ان کے نام پانامامیں نہیں ہیں، کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے۔ گویا اب سپریم کورٹ مستقل بنیادوں پر کرپشن کے معاملات کو انجام تک پہنچائے اور ان کے مددگاروں اور سرپرستوں کو کیفر کردارتک پہنچائے۔یہی وقت کا تقاضا ہے ورنہ ہم اس گرداب میں چکر لگاتے رہیں گے۔