December 13th, 2017 (1439ربيع الأول25)

سود پر قرآن کا حکم اور ہمارا ارویہ

 

اداریہ

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ عدالت ربٰواور انٹرسٹ کی تعریف کرنے کے بعد ان مقدمات کی سماعت کے بارے میں اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرے گی۔ دونوں الفاظ کی تعریف نہیں ہوئی اور مکمل تعریف آنے تک عدالتی دائرہ اختیار کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے کہا ہے کہ علما اور معاشی ماہرین اسلامی معیشت کے ذریعے ملکی و عالمی معاشی مسائل کے حل کے لیے عدالت کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے زوردیا کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی سے روکتا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ سود نے سارا نظام تباہ کردیا ہے۔ اسی روز جماعت اسلامی کے زیر اہتمام انسداد سود کنونشن بھی ہوا اور علمائے کرام نے رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیا اور مطالبہ کیا کہ سود کا خاتمہ قرآن و سنت اور آئین کا تقاضا ہے کہ حکومت اس کے خاتمے کا اعلان کرے اور اسٹیٹ بینک اس کے لیے ڈیڈ لائن دے ۔ لیکن جو کچھ شرعی عدالت نے سود کے حوالے سے کہا ہے کہ اس پر ہم کوئی تبصرہ خود نہیں کریں گے کہ پہلے ربا اور انٹرسٹ کی تعریف ہوجائے۔ پھر اختیارات کا تعین ہوگا۔ اس حوالے سے صرف اتنا کافی ہے کہ ’’ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں ۔ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں‘‘۔(سورہ بقرہ:۹۹)
’’جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوکر باولا کردیا ہو۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے(یہاں ربا اور انٹرسٹ کا مسئلہ حل ہوجانا چاہیے)حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حل کیا ہے اور سود کو حرام لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ پہلے کھاچکا سوکھا چکا۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھراسی حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے صدقات کو نشونما دیتا ہے۔ اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کوپسند نہیں کرتا ‘‘۔(سورہ بقرہ:275-76)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو(اور سود چھوڑ دو) تواپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ‘‘۔(سوۃبقرہ (278-79)
اب یہ جو مسئلہ ہے ربٰو کیا ہے ،انٹرسٹ کیا ہے ۔اور کیسے تمیز کریں یہ مسئلہ بھی بنی اسرائیل کے بچھڑے کو معبود بنائے والے مسئلہ کی طرح ہے۔اس پر بھی قرآن کا حکم سن لیں ۔پھر رہنمائی کی کوئی ضرورت ہو تو ضرور لے لیں۔
’’پھر وہ واقعہ یاد کروجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تو کہنے لگے کہ کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو۔ موسیٰ نے کہا کہ میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ بولے اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔’’(سورۃبقرہ:66)
آگے یہ لوگ گائے کا رنگ ،اس کی خصوصیات وغیرہ پوچھتے رہے اور اللہ نے صاف صاف ساری نشانیاں بتادیں۔ بالآخر اسے ذبح کرنا پڑا۔قرآن کہتا ہے کہ ورنہ وہ ایسا کرنے والے نہ تھے۔تو کیا ہم بھی اب 14سو سے زیادہ برس گزرنے کے بعد ایسے ہی سوالات کریں گے اور ایسے لوگوں میں شامل ہونا پسند کریں گے۔