October 24th, 2017 (1439صفر3)

پاک بھارت کشیدگی کے رنگ اور رُخ

 

عارف بہار

پاکستان اور بھارت تعلقات کی ایک ایسی بند گلی میں جاپھنسے ہیں جہاں سے مستقبل قریب میں باہر نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔ ماضی میں جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی درآتی اور مسائل لاینحل دکھائی دیتے تو امریکا سے ایک دہلی اسلام آبادکے لیے ٹیلی فون کالیں آتیں یا ایک دفد آکر دونوں کے تعلقات کی گاڑی کو دوبارپٹری پر ڈال دیتا۔ اب امریکا نے خود کو بھارت کے ساتھ مکمل طور پر بریکٹ کرکے پاکستان پر اثر اندازہونے کی صلاحیت محدودتر کردی ہے۔
بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ علاج کی غرض سے بھارت آنے والوں کو صرف اسی صورت میں ویزہ دیا جائے گا جب ان کانام پاکستان کے مشیربرائے امور خارجہ سرتاج عزیزکی طرف سے تجویزکیا جائے گا۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت کلبھوشن یادیوکی ماں کو ویزہ جاری کرنے کے لیے سرتاج عزیز کو ذاتی خط لکھا مگر سرتاج عزیز نے اس خط جواب بلکہ اسکی وصولی کی رسید تک دینا گوارا نہیں کیا۔ سشماسوراج کا کہنا تھا اب پاکستان کو اپنے شہریوں کے مفا د میں بھارت آنے کے خواہش مندوں کے نام تجویزکرنا چاہیے۔ یوں لگتا ہے گلبھوشن یادیوں کی گرفتاری سے بھارتیوں کے اوسان خطا ہوگئے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ ہر معاملے اور تعلق کو کلبھوشن یادیو کے ساتھ جوڑہاہے۔ پہلے ماہی گیروں کی رہائی کے لیے کلبھوشن یادیوں کی رہائی کی باتیں کی گئیں۔ پاک فوج ایک ریٹائرکرنل کوجھانسا دے کر نیپال بلایا اور وہاں سے غائب کردیا گیا۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ بھارت نے یہ قدم کلبھوشن یادیو کے مسئلے پر اپنی سودے بازی کی صلاحیت کومضبوط بنانے کی خاطراٹھایا تھا مگر اس میں بھی اب بھارت کو ناکامی ہوئی۔ اب بھارت سے علاج کرانے کے خواہش مند پاکستانیوں کے ویزے کے معاملے پر ایک بار پھر بھارت نے کلبھوشن کلبھوشن کھیلنا شروع کردیا ہے۔ یہ خالص ایک انسانی مسئلہ ہے جس پر ویزہ اس وقت تک کا معمول کا معاملہ ہے جب تک دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ ابھی دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات پر کوئی زدنہیں پڑی ۔ ایسے میں مریضوں کے ویزے کو وزیرخارجہ کے سفارشی خط سے مشروط کرنا اور ساتھ ہی اس انسانی مسئلے کے ساتھ کلبھوشن یادیوکوجوڑنا سراسربلیک میلنگ ہی ہے۔ کلبھوشن یادیوکوئی عام فرد نہیں ۔ اگر وہ عام جاسوس ہوتا تو بھی معاملہ اس قدر حساس نہ ہوتا۔ وہ ایک ایسے نیٹ ورک کا نگران اور سرپرست تھا جو پاکستان میں دہشت گردی کے لا تعداد واقعات میں ملوث ہے اور جس نیٹ ورک کی کاروائیوں کا مقصد پاکستان کو توڑناتھا۔ ا سطرح یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ کلبھوشن کے ساتھ وہی ہونا چاہیے جو دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے مگر بھارت ہر معاملے کو ایک خطرناک دہشت گردایک ہی ترازوں میں تلنے لگے ہیں یہ کشیدہ تعلقات کی آخری حد ہے۔
اس کشیدگی کا ایک پہلواس وقت سامنے آیا جب تاجکستان میں پاکستان ،تاجکستان ، افغانستان پر مشتمل سہ ملکی کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے بھارت کو افغانستان تک زمینی اور تجارتی راہ داری دینے کامطالبہ کیا۔ جس کے جواب میں وزیر اعظم میاں نوازشریف نے اشرف غنی کو ٹکا ساجواب دیتے ہوئے کہا تنازع کشمیر کے حل تک بھارت کو یہ سہولت نہیں سے سکتے۔ بھارت کشمیری بھائیوں پر ظلم کرے اور ہم اسے تجارتی راہ داری دیں ایسا ممکن نہیں ۔ اشرف غنی کا بھارت کو تجارتی راہ داری دینے کا مطالبہ درحقیقت بھارت اور را کی زبان بولنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو اپنا مال بھارت پہنچانے کی خصوصی اجازت اور سہولت دے رکھی ہے مگر بھارت کو جوابی طورپر یہ سہولت حاصل نہیں۔ افغانستان حکمران بھارت کے غم میں گھل رہے ہیں۔ انہیں بھارتی فائدے اور نقصان کی فکر کھائے جارہی ہے۔
امریکا نے بھارت کو افغانستان میں جس قدر مضبوط بنایا ہے اس صورت حال میں افغان حکومت کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر بھی بھارت کا غلبہ دکھائی دیتا ہے یو لگ رہا ہے کہ افغانستان کا اپنا کوئی نفع ونقصان ہی نہیں بلکہ وہ خطے کے تمام مسائل اور معاملات کو بھارت کی عینک سے مجبور ہے۔ اس دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مختصر عرصے میں دوسری بار کشمیر اور وہاں ہونے والے ظلم وستم کی بات کی ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلی بار عید الفطر کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے کشمیر میں مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ۔ اب دوسری بار انہوں نے اپنے ملک کی عدلیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کو کشمیر سمیت دوسرے عالمی مسائل کا قانونی انداز سے جائزہ لے کر ان پر ایک قانونی موقف اپنانا چاہیے۔ایرانی راہبر نے جب عیدالفطر کے موقع پر کشمیر میں مظالم کی بات کی تھی تو سری نگر سے اس آواز کا زبردست خیر مقدم کیا گیا تھا اور حریت لیڈروں نے پاکستان پر ایران سے اپنے تعلقات میں بہتری لانے پر زور دیا تھا۔ کئی دن کے وقفے کے بعد ہی سہی مگر پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران کے سپریم لیڈر کے کشمیر کے حوالے سے بیان کا خیر مقدم کیا۔ایران ایک مدت تک کشمیریوں کی تحریک آزادی کا کھلا موید اور حامی رہا ہے۔ بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کی زندگی میں ایران کی سرکاری کشمیر پالیسی بہت واضح اور دوٹوک تھی۔پاکستان کے بعد کشمیریوں کی حمایت کرنے والاملک ایران ہی تھا۔ ان کی رحلت کے بعد ایران کی پالیسی میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ ایران عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان سے دوراور بھارت کے قریب ہوتاچلا گیا۔  پاکستان اورایران میں دوریاں بڑھ گئیں۔ کم وبیش دوعشرے اسی ماحول میں گزرگئے۔اب ایک بار علاقائی اور عالمی منظر تبدیل ہورہا ہے ۔ ایران ،پاکستان اور سعودی عرب کا مخمصابھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ایران بھارت کے قریب ہے مگر بھارت امریکا کی گود میں بیٹھ چکا ہے ایران امریکا کے نشانے پر آچکا ہے۔ بھارت کے مقاصد کو تقویت دینا امریکا کے مقاصدکی ہی تکمیل ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے قریب ہے اور سعودی عرب امریکا ک اسٹرٹیجک شراکت دار۔ اسی طرح سعودی عرب پاکستان کواپنے ساتھ چلاناچاہتا ہے مگر پاکستان امریکی کیمپ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کرچکا ہے ۔ ان عجیب اور مخمصوں بھری صورت حال میں ہر ملک کچھ نئی پالیسیاں تشکیل دینے پر مجبور ہے۔ایران ازخود کشمیر سے بہت گہرے ثقافتی اور تاریخی روابط رکھتا ہے۔ ایران سے آنے والے میر سید علی ہمدانی جیسے مسلم اکابرین نے کشمیر کے اسلامی تشخص کو یہاں کے عوام ایمان وعقائد کی اصلاح می اہم کردارادا کیا۔  فارسی زبان نے بھی کشمیری زبان پر علم و ادب پر اپنے انمٹ نقوش قائم کیے ہیں۔ اس لیے طویل خاموشی کے بعد ایران سے سپریم لیڈر جیسی طاقتور شخصیت کی طرف سے کشمیر کا تذکرہ اس اہم اسلامی ملک کی کشمیر پالیسی کی تشکیل نواور ترتیب نو کا پتا دے رہا ہے ۔