December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

پورا ملک ہی گروی رکھ دیں

 

اب یہ کہنا درست نہیں کہ سابقہ حکومتوں کے فیصلوں کا نتیجہ نئی حکومت بھگت رہی ہے۔ اگر سابقہ حکومتوں نے غلط پالیسیاں اختیار کی تھیں تو اب تک ان غلطیوں کی اصلاح کر کے واپسی کا سفر شروع ہوجانا چاہیے۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے جو پالیسیاں اختیار کی تھیں ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی گئی ہے خصوصاً معاشی پالیسیاں تو وہی چل رہی ہیں۔ کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی بلکہ عام طور پر جو حربے اختیار کیے جاتے ہیں موجودہ حکومت بھی وہی اختیار کررہی ہے۔ ملک کے گردشی قرضے 1300 ارب روپے تک پہنچ گئے اور حکومت نے ان سے جان چھڑانے کے لیے وہی روایتی طریقہ اختیار کیا ہے جو سب کرتے ہیں یعنی یہ قرضے کم کرنے یا ان کی قسطیں ادا کرنے کے لیے اثاثے گروی رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ توانائی ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور پیداوار کمپنیوں کے اثاثے گروی رکھ کر 200ارب روپے حاصل کرے گی۔ جبکہ نجی بینکوں سے 36ارب روپے کا انتظام بھی کرلیا گیا ہے۔ حکومت مزید بندوبست میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہی سوال سامنے آئے گا کہ ایسے مشورے کون دے رہا ہے۔ قرض لے کر پھنس گئے۔ مزید قرض لے کر اس قرض کواتاریں گے اور ظاہری بات ہے یہ اثاثے گروی رکھ کر اور نجی بینکوں سے بھی ملا کر کل رقم 236 ارب روپے تک پہنچے گی اور قرضے 1300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ بھی ڈیم فنڈ کی طرح سے 15سو ارب روپے جمع کرنے ہیں اور دس ارب روپے بھی جمع نہیں ہوئے۔ اگر حکومت قیمتی اثاثے گروی رکھ کر صرف 236 ارب روپے حاصل کرسکے گی تو اس سے قرضے بھی نہیں اتریں گے اور جو ادارے کچھ کما کر دے سکتے تھے ان کی کمائی بھی حاصل نہیں ہوگی ایسے میں وہی راستہ رہ جائے گا جس کی طرف سارے وزرائے خزانہ ملک کو ہانکتے جارہے ہیں یعنی آئی ایم ایف۔ یہ صورت حال نہایت ہولناک ہے۔ اس وقت تو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ملکی معاملات کون چلا رہا ہے۔ ڈالر کس نے مہنگے کردیے۔ کیا اسٹیٹ بینک نے خاموشی سے کیے، یا کسی کو اعتماد میں لیا تھا۔ یا یہ بھی کسی کے کالے دھن کو سفید کرنے کا سیاہ دھندا تھا۔ چند گھنٹے ڈالر کو پر لگے کس کس نے فائدے اٹھائے کون تحقیقات کرے گا۔ بس چند خبروں اور تبصروں کے بعد یہ خبر آنے لگی کہ پہلے سے بہتر حالات ہیں۔ کون پاکستانی معیشت سے کھیل گیا۔ یہ فیصلہ کس نے کیا کہ اہم اثاثے گروی رکھے جائیں۔ یہ تو تباہ حال معیشت اور تباہ حال ذہنیت کی عکاسی ہے۔ ایسا کرنا ہے تو ایک ہی مرتبہ پورا ملک گروی رکھ دیا جائے۔ جب لوگ بہت پریشان ہوتے ہیں مہنگائی بڑھ جاتی ہے امن و امان کی صورت حال خراب ہوتی ہے تو عوام کی زبان پر ایسے ہی جملے آتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈالر مہنگا ہونے کا ذمے دار کون ہے۔ اس کے اثرات کس کس طبقے پر پڑیں گے، تازہ خبر ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے سے سرکاری حج اسکیم کے تحت حج کرنے والوں کے لیے اخراجات ساڑھے تین لاکھ روپے تک پہنچ جائیں گے۔ گزشتہ برس یہ اخراجات دو لاکھ 80ہزار تک تھے۔ اس سال حکومت حاجیوں کو سبسڈی نہیں دے گی۔ اس طرح وفاقی وزیر ریلویز نے ڈالر مہنگا ہونے پر عندیہ دیا ہے کہ ہم مزید ٹرینیں تو چلا رہے ہیں لیکن 40ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کریں گے۔ ان کے نزدیک بھی یہ تھوڑا سا اضافہ ہوگا۔ بالکل اسی طرح جس طرح پی ٹی آئی کے علی زیدی نے کہا تھا کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ سے تھوڑا سا اثر پڑا ہے۔ یہ جو تھوڑا سا اثر پڑا ہے۔ ان لوگوں کے لیے تو تھوڑا سا ہے جن کو نہ ٹرین میں بیٹھنا ہے اور نہ تنخواہ دار ہیں کہ آٹا دال خریدنے اور دو پیسے بچانے کے جھنجھٹ میں پڑتے ہیں۔ لیکن جو لوگ روزانہ کماتے ہیں اور تنخواہ دار ہیں، اول تو ان کا کوئی بجٹ نہیں ہوتا۔ پھر بھی آمد و خرچ کے حساب کی بنیاد پر کوئی بجٹ بنتا ہے تووہ بری طرح تباہ ہو جاتا ہے۔ اگر حکومت میں کوئی معاشی ماہر یا طالب علم بھی ہے تو وہ اب کابینہ کو مشورہ دے کہ خدا کے واسطے قرض لے کر قرض اتارنے اور پھر اثاثے گروی رکھ کر ملک کو بالکل ہی مفلوج کرنے کے فیصلے نہ کریں ۔ فضول خرچیوں کو روکیں اپنے وزیروں اور مشیروں کے اخراجات کو روکیں۔ سابق حکمرانوں نے تو اپنے دور میں فضول خرچی کی تھی اب تو آپ کے پاس ملک ہے۔ چند ماہ بعد بجٹ کی تیاری ہے۔ پلے میں کچھ ہوگا تو بجٹ بنے گا۔ بجٹ بھی گروی رکھ دیں گے کیا۔

                                         بشکریہ جسارت