December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

کہیں توہین عدالت نہ ہو جائے

 

راشد منان
ہمارے چیف جسٹس صاحب جو جج کم اور مستقبل کے سیاسی لیڈر کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں تندہی سے مصروف ہیں اور ان کے تابڑ توڑ سیاسی فیصلے بڑی تیزی کے ساتھ آرہے ہیں اور انتظامیہ کی چابک دستی کے ساتھ ان فیصلوں پر عمل درآمد نے ملک و قوم کو ایک ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے جس میں سر فہرست تجاوزات کے نام پر غریبوں کے گھر، ان کے کاروبار اور املاک کی تباہی ہے۔ پچاس لاکھ گھر بنانے کی دعویدار نو منتخب حکومت کو ظاہر ہے کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کے لیے ایک وسیع رقبہ اور زمین کی ضرورت ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے ملک میں تمام قوانین کے اطلاق کا مرکز و محور غریب ہوتا ہے جس کی واضح مثال چیف جسٹس کا تبدیلی سرکار عمران خان کے بنی گالہ کی ناجائز زمین کو ریگولرائز کرانے کا مشورہ اور فیصلہ ہے۔
ہمارا مقصد تجاوزات کی حمایت ہرگز نہیں مگر اس کو ختم کرنے کے حکم نامے سے قبل ہم محترم چیف جسٹس سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے دہرے میعار کے فیصلے میں شاید چند جملوں کا ضرور اضافہ کریں گے جس طرح انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر اعظم بنی گالہ کی زمین ریگولرائز کرا کر اپنی نیک نامی کا ثبوت آپ پیش کریں جو اس بات پر بھی مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ عمران خان کو اب بھی اچھا بننے اور دکھنے کے لیے کس اقدام کی ضرورت ہے، مگر چیف جسٹس صاحب نے غریبوں کے لیے متبادل دینا تو درکنار انہیں اتنی مہلت بھی نہ دی کے وہ اپنی محنت کی کمائی کا مال واسباب کسی دوسری محفوظ اور متبادل جگہ منتقل کرتے یہاں اس سوال کا حق محفوظ رکھتے ہوئے کہ کیا عمران خان کو مدینہ کی فلاحی ریاست کا سربراہ ہونے کے باعث یہ موقع فراہم کیا گیا جب کہ ہماری معلومات کے مطابق مدینہ کی فلاحی ریاست میں ایک عام شخص کو بھی اس بات کا اختیار دیا گیا کہ وہ خلیفہ وقت سے یہ سوال کر سکتا تھا کہ اپ نے جو کرتا زیب تن کیا ہوا ہے وہ مال غنیمت کی ایک چادر میں تو نہیں بن سکتا تھا ذرا جواب تو دیں کہ یہ کس طرح ممکن ہوا۔
کراچی اور ملک بھر سے تجاوزات کا خاتمہ ضرور ہونا چاہیے مگر اس سے قبل اس بات کی بھی تحقیق اور اس پر بھی کوئی دور رس فیصلہ دیا جانا چاہیے کہ ان تجاوزات کو قائم کرانے میں جو قوتیں، افراد اور ادارے شامل تھے ان ذمے داران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی۔ یہ تجاوزات راتوں رات قائم نہیں ہوئیں اور نہ ہی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ انہیں ان کے قیام کا علم نہیں تھا بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ یہ بات ہمارے اداروں اور ہماری فرض شناس پولیس کے علم میں نہ آئی ہو جو کسی گھر کی تعمیر شروع ہونے سے لیکر اس کی چھت پڑنے تک اپنے حصے کی مٹھائی لینے بروقت پہنچ جایا کرتی ہے یا جنہیں ہر لمحے اس بات کی آگاہی رہتی ہے کہ ان کے علاقے میں کون سا نیا ٹھیلا یا پتھارا لگا ہے اور اس کے افتتاح کی مٹھائی انہیں ابھی تک نہیں ملی۔ دوسری بات یہ کہ اداروں نے یہ جاننے کے باوجود کے جن علاقوں کو وہ گیس، بجلی، ٹیلی فون کی سہولت فراہم کر رہے ہیں یا سڑکوں کے جال بچھائے جارہے ہیں وہ سارے کہ سارے تجاوزات کے زمرے میں تو نہیں آتے؟ ممکن ہے یہ سہولتیں اگر فراہم نہ کی جاتیں تو ان آبادیوں میں تزین وآرائش سے بھر پور بلند و بالا عمارتوں کا وجود بھی ممکن نہ ہوتا۔ لہٰذا مودبانہ گزارش ہے کہ چیف جسٹس صاحب ایک اور سوموٹو لیں اور ان افراد کو بھلے وہ حاضر سروس ہوں یا سبک دوش۔ وہ حال کے ہوں، ماضی یا ماضی بعید کے ہی کیوں نہ ہوں انہیں اس کا فریق بنایا جائے اور انہیں ملکی املاک کی تباہی اور بربادی کا ذمے دار ٹھیرا کر قرار واقعی سزا دی جائے کیوں کہ ان کے عالی شان بنگلوں اور کوٹھیوں کی بنیاد میں ان غریبوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ بغیر اس کے کوئی فیصلہ صائب نہیں کہلائے گا اور نہ ہی اس کی پزیرائی ہوگی۔
چیف جسٹس کے ایک اور فیصلے کے مطابق کراچی کی مردہ سرکلر ریلوے کے جسم میں دوبارہ جان ڈالی جارہی ہے جس پر ایک بار پھر ہمارے دیے ہوئے ٹیکس کا زر کثیر خرچ کیا جائے گا۔ مختصراً جناب فیصلہ ساز جس مردہ جسم میں آپ نے جان ڈالنے کا حکم دیا ہے ذرا ماہرین سے اس پر ایک سروے اور کرا لیا جائے کہ کیا آپ کا یہ فیصلہ کراچی کے رہائشیوں کی سفری ضروریات کو پورا کرسکتا ہے یا نہیں کیا ہی اچھا ہوتا بجائے اس کے کراچی میں سفری سہولت فراہم کرنے کے واحد منصوبے گرین لاین کو فی الفور مکمل کرنے کا حکم دیا جاتا تاکہ کراچی کی کثیر آبادی کا ایک چوتھائی حصہ کم ازکم اس سے استفادہ شروع کر دیتا جب کہ دیگر تین چوتھائی یعنی حب چوکی براستہ اورنگی تا کیماڑی، دوسری چوتھائی ہائی وے براستہ صفورہ حسن اسکوائر تا ٹاور اور کیماڑی اور تیسری چوتھائی گھگر پھاٹک تا قائد آباد شاہرہ فیصل تا ٹاور و کیماڑی کے لیے کسی نئے منصوبہ کا آغاز کیا جاتا۔ فیصلے بولتے اور تاریخ میں درج ہوتے ہیں آپ کا عہدہ آپ کو تاریخ ساز فیصلوں کی کتاب مرتب کر کے زندہ و تابندہ رکھ سکتا ہے نہ کہ سیاسی ہوکر لوگوں کے ملے جلے القابات کے نذر کرنے کا سبب۔