December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

ایک صفحہ دو کہانیاں

 

عارف بہار

عالمی اور علاقائی منظر میں پاکستان کی قدر واہمیت کا پوری طرح احساس ہے شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا کسی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ نائن الیون کے بعد افغانستان سمیت کئی دوسرے معاملات میں پاکستان کو غیر متعلق اور بارہواں کھلاڑی بنانے کی بھرپور کوششیں ہوئیں مگر وقت نے اس پالیسی کو ناکام ثابت کیا اور پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع، نظریاتی شناخت اور ایٹمی صلاحیت کے باعث دنیا کے لیے اہم اور متعلق ہی رہا۔ اس کا اعتراف امریکا میں ہونے والے ایک سیمینار میں کیا گیا ہے۔ واشنگٹن کے ’’بروکنکز انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ پالیسی‘‘ میں عمران خان حکومت کے سو دن کے موضوع پر ہونے والے سیمینار کا سب سے اہم خطاب بروس ریڈل کا تھا۔ بروس ریڈل سی آئی اے کے سابق عہدیدار ہیں اور اب جان ہاپکن اسکول آف ایڈوانس انٹرنیشنل اسڈیز میں پروفیسر اور مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشائی امور کے ماہر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ بروس ریڈل نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان سے باعزت طور پر نہیں نکل سکتا۔ عمران خان کی حکومت اس سلسلے میں امریکا کے لیے واپسی کا ٹکٹ ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھایا جا نا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پہلے دورے میں عمران خان کو کچھ حاصل نہیں ہوا لیکن جمال خاشق جی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کو دوستوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں عمران خان دوبارہ سعودی عرب گئے تو چھ ارب ڈالر لے کر لوٹ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کو پاکستان کی ضرورت ہے اور وہ اسے نظرا نداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا اور جلد ہی امریکا بھی پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹاتا نظر آئے گا۔ برطانیہ سے زیادہ تین سو سے زاید ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تیزی سے ترقی کرتا ہوا پاکستان وائٹ ہاؤس اور دنیا کے لیے اہم اتحادی ہے۔ بروس ریڈل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت پر تنقید کرنا آسان ہے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان ان چند مسلم ممالک میں سے ایک ہے جہاں مشرق وسطیٰ کے برعکس انتخابات ہوتے ہیں اور جمہوری روایات موجود ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ذمے دار نہ سہی مگر آزاد ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کچھ شائع کرنا آسان نہیں مگر اس کے باوجود بہت کچھ لکھا اور شائع کیا جا سکتا ہے۔ بروس ریڈل کا کہنا تھا اس وقت عمران خان حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی ٹیکنو کریٹس حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔
امریکا کے ایک اہم تھنک ٹینک سے وابستہ ایک صاحب الرائے شخص کی پاکستان کے بارے میں یہ سوچ پاکستان کی قدر واہمیت کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ اس کے قعطی برعکس سوچ ہے جس کے پرچارک امریکا میں حسین حقانی جیسے پاکستانی اور زلمے خلیل زاد جیسے افغانی رہے ہیں۔ جن کے پیچھے اصل میں کوئی اور ہوتا تھا۔ ان لوگوں کے مطابق پاکستان میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ یہاں چہار سو دہشت گردوں کے کارخانے ہیں جو کسی بھی وقت پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اس لیے امریکا کو افغانستان کی طرح پاکستان پر چڑھ دوڑنا چاہیے۔ بروس ریڈل بین الاقوامی امور پر کئی بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی یہ سوچ امریکا میں سرایت کرجائے تو پاک امریکا تعلقات کا موجودہ بگاڑ کم ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں فوج اور سویلین حکمرانوں کا ایک صفحے پر ہونا جسے ملک کے اندر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے بیرونی دنیا میں پاکستان کا مجموعی کریڈٹ بن رہا ہے۔ محمد خان جونیجو کے دور ہی سے پاکستان کسی نہ کسی شکل میں سول ملٹری کشمکش شکار رہا ہے۔ جونیجو کی وزارت عظمیٰ چوں کہ جنرل ضیاء الحق کے تخلیق کردہ نظام کی پیداوار تھی اور انتخابی عمل سے باہر رہ جانے والی جماعتیں بالخصوص پیپلزپارٹی ان پر بے اختیار ہونے کی پھبتی کس رہی تھی اس لیے جونیجو بے اختیاری کا داغ دھونے کے لیے کچھ زیادہ ہی بااختیار بننے کی راہ پر چل پڑے۔ یوں جنرل ضیاء الحق کا تخلیق کردہ غیر جماعتی سول نظام خود اپنے تخلیق کار کے ہاتھوں ہی غت ربود ہوا اور جنرل ضیاء الحق بھی نئے نظام کی تخلیق کی خواہش اور مخمصے میں دنیا سے چلے گئے۔ اس کے بعد میاں نواز شریف کا تجربہ بھی ابتدائے سفر میں اسٹیبلشمنٹ کے گلے پڑ گیا۔ اس کے بعد کشمکش اور کشیدگی کے ایک نہ ختم ہونے کا سفر کا آغاز ہوگیا جس کا ایک پڑاؤ جنرل پرویز مشرف کی صورت اسٹیبلشمنٹ کے براہ راست اقتدار کی صورت میں نکلا۔ اسٹیبلشمنٹ براہ راست اقتدار کا یہ بوجھ تھوڑی ہی مدت کے لیے اُٹھاپائی اور کچھ ہی عرصے بعد یہ اسٹیبلشمنٹ کی جگہ صرف جنرل مشرف کا اقتدار ہو کر رہ گیا یہاں تک کہ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جنرل مشرف کی خواہشات کے برعکس ان سے اختیار اور طاقت کی اصل علامت ڈھائی فٹ کی کمانڈ اسٹک اور وردی جسے وہ اپنی کھال قرار دے کر بہت گہرے اور معنی خیز انداز میں مستقبل کے عزائم کا اظہار کر رہے تھے ان سے عزت اور احترام کے ساتھ ایک تقریب میں واپس لے لیے گئے اور یوں کورے کاغذ پر ایک نئے کرداروں پر مشتمل نئی کہانی رقم ہونے لگی۔
سول اور عسکری کھینچا تانی نے ملک میں جمہوریت کو کمزور کیا۔ اس سے سول حکومتوں کی بین الاقوامی ساکھ قائم نہیں ہو سکی اور فوج بھی زیادہ اعتبار اور احترام حاصل نہ کر سکی۔ جو حکومت گھر ہی میں کھینچا تانی اور تنازعات کا شکار ہو اس کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر قائم نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں میں یہی ہوا۔ چند دن قبل چودھری نثار علی خان نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ق لیگ سے زیادہ اچھی فیلڈ ملی ہے۔ یہ اچھی فیلڈ تنی ہوئی رسی کا سفر ہے۔ بروس ریڈل کی باتوں میں بہت سی امیدوں کا تعلق سول اور ملٹری کی اسی ہم آہنگی سے ہے یہاں تک کہ وہ عمران خان کو افغان مسئلے کی کنجی قرار دے چکے ہیں۔ عمران خان کی اس حیثیت سے بین الاقوامی قوتیں زیادہ پرامید ہونے لگیں تو اس سے نئی مشکلات بھی کھڑی ہو سکتی ہیں۔ عمران خان کو جس قدر مضبوط بنا کر پیش کیا جائے گا اس سے کہیں زیادہ مضبوطی کا تاثر اور تصور جنرل مشرف کا بھی تھا وہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ کا حصہ اور وردی پوش تھے۔ حکومت اور فوج بڑی مدت کے بعد ایک صفحے پر ضرور ہیں مگر اس سے کسی ’’ٹارزن‘‘ کی شبیہ بھی نہیں بن رہی۔ مسائل، مشکلات، تلخ زمینی حقائق، ہمسائیوں کے رویے، خطرات، خدشات، ماضی مستقبل کے امکانات اور چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ ٹرمپ، مودی، اشرف، حسینہ سب وہی ہیں تو عمران خان تنہا کیسے اور کس حدتک ٹرانسفارم ہو سکتے ہیں؟۔ جب ہر منظر اور ہر چہرہ، ہر آستین وہی ہے تو پھر یہ کہنا خواہ مخواہ بانس پر چڑھانے کے مترادف ہے کہ عمران خان کی حکومت افغانستان سے امریکا کے باعزت واپسی کا ٹکٹ اور مسئلے کے حل کی کنجی ہے۔ ایک صفحے پر ہونا جادو کی چھڑی نہیں بارہا ایک صفحے پر دو کہانیاں اور کئی کردار بھی رقم ہوتے ہیں۔ مشرف کا عروج ایک صفحے سے شروع ہوکر دو کہانیوں میں بٹ کر زوال کا شکار ہو گیا تھا۔