December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

تجاوزات کے خلاف آپریشن پر اشتعال

 

بالآخر وہ دن آگیا جس کا خدشہ تھا۔ کورنگی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران شہری مشتعل ہو گئے کئی گاڑیاں اور دکانیں نذر آتش کر دی گئیں پولیس کی کارروائی میں 5افراد زخمی ہوگئے درجن بھر لوگ گرفتار بھی کر لیے گئے۔ اب الزام تراشیوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ معاملہ صرف مہران ٹاؤن کورنگی کا نہیں ہے بلکہ پورے شہر کا ہے۔ جن لوگوں کی دکانیں برنس روڈ اور جوہر میں توڑی گئی ہیں ان ہی کے گھر والوں اور رشتہ داروں کی دکانیں کورنگی میں توڑی جارہے ہیں یہ اچانک بلڈوزر اور شاول کا استعمال اندھا دھند طریقے سے کیوں شروع ہوگیا عدالت عظمیٰ اپنے احکامات کو دیکھے کیا اس نے یہی حکم دیا تھا کہ میئر کراچی جس نے تین سال بے اختیار ہونے کی دہائی دی اسے اتنے اختیارات مل گئے ہیں کہ اعلان کر کے تباہی پھیلائے جارہا ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ راستوں میں رکاوٹیں، ناجائز تعمیرات، قبضہ وغیرہ کسی طور قابل معافی نہیں۔ لیکن اگر حکومتی ادارہ بلدیہ کراچی، سٹی گورنمنٹ، حکومت سندھ لیز، الاٹمنٹ وغیرہ سب کچھ دے رہی ہے چالیس چالیس برس سے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ان عمارتوں اور دکانوں کو بھی مسمار کردیا گیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں انتقامی کارروائی بھی جاری ہے۔ کراچی میں 2018ء کے انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے تمام دھڑے ملا کر بھی اپنی سیٹیں نہیں نکال سکے۔ ان کے ووٹ بھی کم ہوگئے اور ان کو صاف نظر آیا کہ ان کی جگہ پی ٹی آئی نے لے لی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ جن جن علاقوں کے لوگوں کے بارے میں شبہات تھے وہاں بھی آپریشن شروع کردیا گیا ہے کہ اور دوووٹ کسی اور کو ہم نے کہا تھا نہ کہ ووٹ اپنوں کے لیے ۔ یہ خیال محض خیال نہیں ہے۔ جب قلعہ الطاف کے علاقے سے 2001ء کی سٹی گورنمنٹ میں الخدمت کو اور 2002ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں مجلس عمل کو ووٹ ملے تو اس کا انتقام نعمت اللہ خان کے جانے کے بعد مصطفی کمال کے دور میں لیا گیا۔ حسین آباد میں دکانوں اور فلیٹوں کے سامنے فٹ پاتھ تک توڑے گئے تھے۔ اب پھر ایسا لگ رہا ہے ۔ وسیم اختر صاحب سے یہ سوال کون کرے کہ آپ تو بے اختیار تھے صرف توڑ پھوڑ اور شہر کو ملبہ بنانے کا اختیار کب سے آگیا۔ حکومت سندھ تو پیپلز پارٹی کی ہے وہ اس صورت حال کا نوٹس لے جماعت اسلامی تنہا متاثرین کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے متاثرین کے لیے شہری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ یہ سارا معاملہ گہرائی سے جائزے کا متقاضی ہے۔ عدالت عظمیٰ خود اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے غیر قانونی الاٹمنٹ کرنے والوں کو بھی گرفت میں لے۔ جن لوگوں کو سرکاری اداروں سے الاٹمنٹ ملی ہے ان کے لیے پہلے متبادل انتظام کرے اس کے بعدہی کوئی کارروائی کی جائے۔ ضروری ہے کہ عوامی احتجاج اور پتھراؤ کے بعد آپریشن روکا جائے۔                   

                                                                                                                                          بشکریہ جسارت