December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

پرائی جنگ۔ اب واپسی بھی شروع کریں

 

وزیراعظم پاکستان نے اس عزم کو پھر دہرایا ہے کہ اب پاکستان پرائی جنگ پھر کبھی نہیں لڑے گا۔ اگر ساری باتیں دہرائی جائیں تو وہی نکلیں گی جو پہلے بھی وہ کہہ چکے ہیں اور پاکستانی سیکورٹی اداروں سے بھی کہتے آرہے ہیں کہ اس جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی نے کردار ادا نہیں کیا۔ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان پاکستان نے اٹھایا۔ اس کے اعداد و شمار کو بھی دہرانا غیر ضروری ہے البتہ اصل معاملہ یہ ہے کہ صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’آئندہ پرائی جنگ نہیں لڑیں گے‘‘۔ اس جنگ کو ’’پرائی‘‘ کہنے پر پاک فوج کے ترجمان اور نابالغ الیکٹرانک میڈیا سید منور حسن کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ انہیں غدار تک قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ بات جنرل پرویز مشرف کو قاضی حسین احمد بھی سمجھاتے رہے لیکن جنرل پرویز نے جس انداز میں یہ جنگ پاکستان کے سرمنڈھ دی تھی اس سے جان چھڑانا اب تک ممکن نہیں رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب وزیراعظم وہی بات آرمی چیف کے ساتھ کھڑے ہو کر بار بار کہہ رہے ہیں کہ امریکا کی جنگ ہماری نہیں تھی جو قاضی حسین احمد‘ سید منور حسن‘ مولانا نورانی اور ساری مذہبی قیادت کہہ رہی تھی۔ اتنی سی بات سمجھنے میں ہمارے حکمرانوں اور ذمے داران نے تقریباً 19 برس لگا دیے لیکن بات 19 برس کی نہیں ہے‘ 70 ہزار شہدا کی ہے۔ کھربوں ڈالر کے نقصان کی ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لوگوں کے ریاست پر اعتماد کو متزلزل کرنے کی ہے۔ ان کا یہ اعتبار ایسی تقریریں نہیں لوٹا سکتیں جو کبھی کبھار عمران خان یا کوئی اور لیڈر کر دیتا ہے۔ پھر یہ بھی ہوا ہے کہ اس پرائی جنگ کی مخالفت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر لاپتا کر دیا گیا‘ بہت سے لاپتا افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس پرائی جنگ کے مخالف تھے۔سرعام اس کی مخالفت کرتے تھے۔ ہاں کسی نے اس سے آگے بڑھ کر قانون ہاتھ میں لیا ہو‘ پاک فوج کو نشانہ بنایا ہو تو بھی اسے لاپتا کرنے کے بجائے گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے اب جب کہ وزیراعظم عمران خان بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی جنگ پرائی تھی‘ یقیناًوہ یہ بات پاک فوج کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کہہ سکتے، تو پھر بہت ساری چیزوں کود وبارہ اپنی جگہ پر واپس لانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو جس قسم کی تحریکیں ابھی سر اٹھانا شروع کر رہی ہیں وہ قوت پکڑیں گی اور نئی مصیبت سر پر آجائے گی۔ جن لوگوں اور علاقوں کو پرائی جنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ان کے نقصانات کو پورا کیا جانا چاہیے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ معافی مانگی جائے لیکن اس میں کوئی ہرج بھی نہیں البتہ جن علاقوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا‘ وہاں کے لوگوں کے کاروبار تباہ کر دیے گئے‘ ان کو بڑے پیمانے پر بحالی پیکج دیا جائے۔ وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کو فلاحی پیکج دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن یہ فلاحی پیکج اس تباہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ان علاقوں پر گزر چکی۔ قبائلی عوام تو غیرت مند ہوتے ہیں انہیں‘ ان کے علاقوں میں فلاحی پیکج ضرور دیں لیکن وہ اس پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ ان کو وہ اعتماد لوٹانا ضروری ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے کشمیر آزاد کرایا تھا۔ یہ قبائل پاکستان کے دفاع کی صفِ اوّل ہیں۔ وزیراعظم نے جو اعلانات کیے ہیں اگرچہ وہ کافی نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ درست سمت میں پیش قدمی کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایک جانب امریکی جنگ کو پرائی قرار دے دیا جا چکا ہے تو دوسری جانب امریکا سے تعلقات کی بحالی کا لولی پاپ بھی دیا جارہا ہے۔ امریکا یا کسی بھی ملک سے تعلقات خراب کرنا ضروری نہیں بلکہ اب تو امریکا سے اس جنگ کا حساب کرنا زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ اربوں ڈالر بھی وصول کرنے ہیں‘ نقصان کا ازالہ بھی کرنا ہے اور شہدا کے لواحقین کی اشک شوئی بھی کرنا ہے اور اس پرائی جنگ کے مخالفین کو باعزت رہائی بھی دلوانی ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف چونکہ اس معاملے میں ایک پیچ پر نظر آرہے ہیں اس لیے ایسا لگتا ہے کہ اس میں بظاہر کوئی قباحت نہیں۔ یہ بات بہرحال ملحوظ رہے کہ امریکی جنگ سے نکل کر کوئی اور جنگ یا کوئی اور بیڑی اپنے پاؤں میں نہ ڈال لی جائے جیسا کہ خدشات نظر آرہے ہیں۔ گولہ بارود کی تباہی اپنی جگہ لیکن معاشی زنجیریں اس سے زیادہ تباہی لاتی ہیں۔ اس کے لیے بیدار مغز اور جرأت مند قیادت ضروری ہوتی ہے۔

                                         بشکریہ جسارت