December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

چیف جسٹس کی ایک اور مہم

 

عدالت عظمیٰ کے سربراہ جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ اب آبادی کنٹرول مہم چلاؤں گا۔ بچے دو ہی اچھے مہم کا آغاز اپنے گھر سے کروں گا۔ امید ہے کہ پاکستان کے عوام معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بھرپور تعاون کریں گے۔ اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کروں گا۔ چیف جسٹس صاحب نے پاناما لیکس کے مقدمات عدالت میں آنے کے بعد سے کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائی اور پورے ملک میں عدالت عظمیٰ، عدالت عالیہ لاہور،نیب، ایف آئی اے،بتعاون میڈیا اینٹی کرپشن مہم چلارہے ہیں۔ یہ مہم بہت کامیاب بتائی جارہی ہے۔ لیکن اس کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ چیف صاحب کا پاؤں پوری قوت سے ایکسلریٹرپر ہے اور کسی قوت نے اس سے زیادہ طاقت سے بریک دبا رکھے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کرپشن کے خلاف مہم کی گاڑی کا زور و شور بہت ہے اس دو طرفہ دباؤ کے نتیجے میں دھواں بھی بہت نکل رہا ہے اور شور شرابا بھی بہت ہے لیکن اس دھویں کے مرغولوں میں صرف شریف خاندان اور کچھ زرداری صاحب اور ساتھیوں کے ہیولے نظر آرہے ہیں۔ پاناما کے دیگر چار سو سے زیادہ لوگ غائب ہیں۔ اسی طرح اسپتالوں، سرکاری اداروں، جامعات وغیرہ میں صلاحیت سے زیادہ تنخواہ اور کم اہلیت والوں کو اعلیٰ مناصب دینے کے خلاف مہم چلی ہے ابھی یہ مہم بھی جاری ہے۔ اس کے نتائج بھی آرہے ہیں لیکن لپیٹ میں اہل و نااہل سب ہی آرہے ہیں۔ بہر حال اس مہم کے اثرات دیگر مہمات کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹسوں کی ایک مہم بھی شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں۔ بعض نوٹسز ابھی زیر التوا ہیں ہماری معزز عدالت نے تجاوزات کے خلاف احکامات بھی دیے ہیں آج کل کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم چل رہی ہے۔یہ مہم بھی ابھی جاری اور نا مکمل ہے کراچی فی الحال ادھڑا ہوا ہے اور کراچی کے میئر جو مقدمات میں مطلوب ہیں۔ ضمانت پر ہیں۔ ان پر ضمانت کی منسوخی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے وہ اس مہم کے سرخیل ہیں۔ عدالت نے کیا حکم دیا تھا اور وہ کیا کررہے ہیں اس کا جب حساب ہوگا اس وقت تک قیامت گزر چکی ہوگی۔ کیا عدالت عظمیٰ نے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف ٹریفک جام اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھایا ایمپریس خالی کرواکر اسے بند کردینے کا حکم دیا تھا۔ بہر حال ایمپریس مارکیٹ اور صدر کو ماڈل علاقہ بنانے کا حکم لے کر میئر کراچی گلشن اقبال اور گلستان جوہر بھی پہنچ گئے۔ابھی اور علاقوں کا صفایا بھی ہوگا۔ یہ درست ہے کہ تجاوزات کہیں بھی ہوں ان کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ تجاوزات قائم کرانے والوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہوگی؟ یا ان ہی کے ہاتھوں کارروائی جاری رہے گی۔ عدالت عظمیٰ کی آج کل کی سب سے بڑی مہم ڈیم فنڈ ہے۔ جس کے لیے وہ برطانیہ بھی لوگوں سے فنڈ جمع کررہے ہیں چند گھنٹوں میں 36 کروڑ روپے بھی جمع ہوگئے۔ چیف جسٹس کا عزم ہے کہ مخالفین جتنا زور لگالیں ڈیم ضرور بنے گا۔ مفاد پرست لوگ ڈیم بننے سے نہیں روک سکتے۔ اس مہم کے حوالے سے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس سب ہی ایک پیج پر ہیں۔ ڈیم کے خلاف کوئی آواز بھی نہیں سنی جاتی اس مہم پر اعتراض کرنے والے غدار قرار پاتے ہیں اور یہ کئی سو ارب روپے کب جمع ہوتے ہیں اس بارے میں ہر طرف خاموشی ہے۔ کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ڈیم کے لیے مطلوبہ رقم جمع ہوجائے گی یا نہیں اور کیا وہی لوگ ڈیم بناسکیں گے جو اس ملک کے کئی ڈیموں جتنی رقم ہڑپ کرچکے ہیں۔ ہاں اتنی ساری بڑی بڑی مہمات شروع ہونے کے باوجود اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں عوام کا کیا حال ہورہاہے اس پر خود اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے ریمارکس ہیں۔ چیف جسٹس کا یہ جملہ معنی خیز ہے کہ سسٹم کو شرم آنی چاہیے لوگ فیصلوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں یہ سسٹم کون ہے۔ اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں حالات یہ ہیں کہ اس وقت ملک کی عدالتوں میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں ان میں زمینوں، عمارتوں کی خرید و فرخت، جائدادوں کی تقسیم، رقم کے لین دین، قتل سمیت ہر قسم کے معاملات شامل ہیں۔ بیشتر لوگوں کے مقدمات وکیلوں اور ججوں کی غیر حاضری یا کسی ایک فریق کی جانب سے درخواست داخل کردینے کے نتیجے میں غیر ضروری طور پر سماعت ملتوی ہونے کا شکار ہیں۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ عدالت عظمیٰ میں 38 ہزار 539 مقدمات زیر التوا ہیں۔ پانچوں ہائی کورٹس میں دو لاکھ 93 ہزار 947 مقدمات زیرالتوا ہیں جب کہ بقیہ پندرہ لاکھ سے زیادہ کیسز ماتحت عدالتوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ بیشتر کیسز میں غیر ضروری التوا کا سامنا ہے۔ خدا کرے چیف جسٹس کی تمام مہمات کامیابی سے ہمکنار ہوں تاکہ عدلیہ جلد از جلد ان لاکھوں مقدمات پر بھی توجہ دے سکے۔ جس کے لیے چیف جسٹس نے ’’سسٹم کو شرم آنی چاہیے ‘‘کہا تھا۔ پاکستانی قوم کے لیے ایک کشمکش ہے کہ پہلے ڈیم بنے گا یا یہ لاکھوں مقدمات فیصل ہوں گے اس کے لیے ایک اور مہم کی ضرورت پڑے گی۔

                                                                                   بشکریہ جسارت