November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

معاشی بحران سے چھٹکارا

 

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل گیا ، اب توجہ مستقل استحکام پر ہے ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ایک بڑی خبر ہے اور تمام پاکستانیوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے ۔ گو کہ یہ بحران اِدھر اُدھرسے قرضے لے کر ٹالا گیا ہے تاہم اس کی وجہ سے پاکستان وقتی طور پر آئی ایم ایف کے غیر ضروری دباؤ اور نا مناسب شرائط سے نکل جائے گا ۔ اسد عمر کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر12 ارب ڈالر درکار تھے چنانچہ6 ارب ڈالر سعودی عرب نے دیے اور اتنی ہی رقم چین سے آئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین کامیاب رہا اور مالی امداد کے علاوہ چین سے15معاہدے بھی ہوئے ہیں ۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ادائیگیوں میں توازن لانے کے لیے برآمدات بڑھانی ہوں گی ۔ درآمدات کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ یہ بھی ہوا ہے کہ صنعت کار اپنے کارخانے اٹھا کر بنگلا دیش لے گئے اور اس کی برآمدات پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان میں غیر ضروری درآمدات کی بھر مار ہے ۔ نئی حکومت نے بہت سی درآمدات پر پابندی تو لگائی ہے لیکن برآمدات بڑھانے کے لیے صنعت کاروں کو مختلف سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ کار خانے چلانے کے لیے بنیادی ضرورت گیس ، بجلی دینی ہو گی اور برآمدات پر غیر ضروری قدغن ختم کرنا ہو گی ۔ خود چین سے بھی تجارتی توازن پاکستان کے حق میں نہیں اور اسد عمر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بیجنگ کے تعاون سے برآمدات کو تین گنا کیا جائے گا ۔ چین کا تعاون اپنی جگہ لیکن برآمدات بڑھانے کے لیے اشیاء کا معیار بھی بڑھانا ہو گا اور ایسی صورت میں ہر ملک پاکستانی مال خریدنے کا مشتاق ہو گا ، معیار پر ہرگز کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے ۔ اسی کے ساتھ جو اشیا پاکستان میں بن رہی ہیں وہ چین یا کسی بھی ملک سے درآمد نہ کی جائیں خواہ کچھ سستی ہوں ۔ چین کے مال کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ ناپائیدارہوتا ہے تاہم یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یورپ سمیت کئی ممالک ترقی پذیر ممالک کو جو مال برآمد کرتے ہیں اس میں اور اپنے ملک اور ترقی یافتہ ممالک کو بھیجے گئے مال کے معیار میں فرق ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ چین بھی اپنے شہریوں کے لیے جو مال بناتا ہو وہ زیادہ پائیدار ہو ۔ عمران خان کے دورہ چین سے سی پیک پر غلط فہمیاں دور کرنے کا موقع بھی ملا گو کہ اسد عمر نے ان غلط فہمیوں کی وضاحت نہیں کی ۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو چین سے مالی امداد طلب کرنا اور دوسری طرف اس پر نکتہ چینی کرنا مناسب عمل نہیں ہے اور یہ رویہ امریکا تو برسوں سے اس لیے برداشت کر رہا ہے کہ اسے پاکستان کی ضرورت ہے مگر چین کیوں برداشت کرے گا ۔ گویا جس سے قرض لیا جائے اس کی پالیسیوں سے آنکھیں بند رکھی جائیں کیونکہ ’’ بھکاریوں‘‘ کو یہ حق نہیں ۔ چین کی سنکیانگ پالیسی پر بھی زبان بند رکھنی چاہیے! جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے فی الوقت خود پاکستان کے صوبوں میں اس حوالے سے شدید اختلافات ہیں اور اگر یہ غلط فہمیاں ہیں تو عمرانی حکومت ان کو بھی دور کرے ۔ مزید قرضے ملنے پر ادائیگیوں کا بحران فی الوقت ختم ہو گیا اور اب طویل المیعاد استحکام پر نظر ہے ۔ اس وقت اپوزیشن بھی تصادم سے گریز کرتے ہوئے حکومت کو پورا موقع دینے پر آمادہ ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اپوزیشن کو اکسانے پر پورا زور صرف کر رہے ہیں ۔ بدھ کی شب آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان میں مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں اور امریکی نائب وزیر خارجہ بھی ڈو مور کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچی ہوئی ہیں ۔ امریکا کاپرانا مطالبہ ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت رد کی جائے ۔ لیکن افغانستان ،عراق ، شام اور فلسطین میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے وہ کون روکے گا ۔ خدشہ ہے کہ امریکا آئی ایم ایف پر بھی دباؤ ڈالے گا کہ پاکستان پر کڑی شرائط عاید کی جائیں تاہم اب پاکستان اس دباؤ کا سامنا کر سکتا ہے ۔

                                                                                                                                                                                           بشکریہ جسارت