December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني8)

آئی ایم ایف کا شکنجہ کس گیا

 

کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ کریش ہوگئی۔ روپے کی قدر بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور منگل کے روز تو ڈالر 137 روپے تک پہنچ گیا۔ پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے اس کی تمام شرائط پوری کردیں کئی دن سے یہ بحث حکومت کی جانب سے خود ہی چھیڑی جارہی تھی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جارہے۔ پھر کہا گیا جارہے ہیں پھر کہا گیا کہ مشورے کے بعد جائیں گے۔ پیر کو خبر جاری ہوئی کہ دسمبر میں باضابطہ آئی ایم ایف سے رابطہ کیا جائے گا لیکن اس خبر کی اشاعت کے وقت پاکستانی وفد انڈونیشیا روانہ ہوچکا تھا۔ اس کے بعد غور کیا معنی، لیکن وزیراعظم نے صورتحال پر غور کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا۔ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے اور پاکستان کے ہاتھ سے کشکول پھینکنے کا دعویٰ کرنے والا لیڈر 50 دن میں ہی بڑا کشکول لیے آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہے، اس ساری گڑ بڑ کی ایک ہی وجہ ہے جو اصل سبب سے واقف ہونے کے باوجود ہمارے حکمران اور طاقت کے مراکز ماننے کو تیار نہیں۔ وہ سبب صرف یہ کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ یعنی سودی نظام چلارہے ہیں۔ یہ جو ڈالر مہنگا ہونے کا اثر ہے پاکستان پر اس لیے ہوتا ہے ناں کہ ہم اپنا سارا کاروبار ڈالر کے ذریعے کرنے پر مجبور ہیں۔ اس نظام کو چلانے والے بھی اعتراف کرتے ہیں کہ دنیا کا موجودہ نظام ناقص اور تباہی کے دہانے پر ہے۔ یہ سارا نظام مصنوعی ہے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا کے کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی ہے۔ لیکن اس کے کریش ہونے کے اسباب دوسرے ہیں۔ معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ چونکہ اسٹاک مارکیٹس کا پھیلاؤ مصنوعی ہوتا ہے اس لیے ہر چند سال بعد معاملات سدھارنے کے لیے یہ گراوٹ لازمی ہوتی ہے تاکہ گنتی ٹھیک ہوجائے۔ لیکن پاکستان میں اس کے ساتھ ساتھ دوسرے عوامل بھی ہیں۔ ایک تو عمران خان کی انقلابی حکومت کو 70 فیصد لوگ وہی ملے ہیں جو گزشتہ حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ جن صاحب کو وزیر خزانہ بنایا ہے وہ ماہر معاشیات نہیں ہیں بلکہ ایک کمپنی کے ملازم تھے اور اس پر جرمانے کا الزام بھی ان ہی پر لگایا جاتا ہے۔ ایسا فرد وزیر خزانہ بن کر وہی کرے گا جو پچھلے وزرائے خزانہ کرتے تھے۔ پاکستان حکمرانوں نے اسلامی معاشی پروگرام کی جانب ایک قدم بڑھانے سے بھی انکار کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں تباہی لازمی ہے۔ جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام دنیا میں رائج ہے اس کی بنیاد ہی سود ہے۔ یہ سارا نظام سود پر کھڑا ہے اور غریب کا خون چوس کر اس کو تقویت دی جاتی ہے۔ اس کا بینکاری نظام بھی عوام کے پیسوں پر عیش کرنا ہے۔ عوام کو بینکوں میں پیسہ رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن ان کے پیسوں کو کسی کاروبار میں لگانے کے بجائے ان پیسوں کو سودی قرضوں کے لیے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ بینک خود بھی سود کھاتے ہیں اور لوگوں کو بھی سود کھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس نظام میں سارا خسارہ غریب اور عام آدمی کا ہوتا ہے پاکستانی روپے کی ناقدری یا بے قدری کے نتیجے میں ڈالر 137 روپے کا ہوگیا۔ اس ایک فیصلے کے نتیجے میں پاکستان پر جتنے قرضے تھے ان میں اسی مناسبت سے اضافہ ہوگیا گویا بیٹھے بٹھائے ایک کھرب روپے کا مقروض سوا کھرب کا مقروض ہوجائے گا۔ جس رفتار سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے اس کے مطابق دسمبر سے اب تک روپے کی قدر 26 فیصد گر گئی اور پاکستان تو کئی ہزار ارب روپے کا مقروض ہے۔ ڈالر کی قیمت 137 روپے ہوتے ہی پاکستان کی درآمدات پر بھی اسی شرح سے دباؤ بڑھے گا۔ اخباری کاغذ پر ایک اور حملہ ہوگیا ہے اس فیصلے کے ساتھ ہی جو نیوز پرنٹ 125 روپے کا مل رہا تھا وہ اچانک 136 روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کے اثرات اخباری صنعت پر الگ پڑیں گے۔ اس وقت اخبار مالکان نے کاغذ کی قیمت کو بنیاد بنا کر صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم کررکھا ہے اور حکومت ان کے اشتہاری بل روک کر مالکان کی مدد کررہی ہے۔ صحافت اور صحافیوں کو تحفظ دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بہر حال ڈالر کی قیمت میں اضافہ پیٹرول، گیس، بجلی مہنگی کرنے، نئے ٹیکس لگانے، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرنے سمیت آئی ایم ایف نے جتنی بھی شرائط کھلے اور چھپے عائد کی تھیں حکومت نے انہیں سر بسر تسلیم کرلیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو قرضہ مل گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان قرض کی درخواست دینے کا اہل ہوگیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم اور ان کے ترجمان کہتے ہیں کہ حکومت کو کام کرنے کا موقع تو دیا جائے۔ وزیراعظم نے میڈیا سے کہا کہ کچھ دن صبر کریں ابھی سے تنقید نہ کریں لیکن حکومت کے اقدامات کوئی ایک دو روز کے تو نہیں آئی ایم ایف سے قرض لینے کا مطلب اس ایک قرض کے بدلے کم از کم 20 سال تک کے لیے ملک کو گروی رکھ دیا گیا۔ اگر اس پر ابھی تنقید نہ کریں تو کب کریں۔ ہمارا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت وہ پہلی حکومت ہے جو لائی تو اس ایجنڈے کے لیے گئی ہے جس پر دوسری حکومتیں آئی ہیں لیکن اس سے ایجنڈے کی تکمیل نہایت عجلت میں کرائی جارہی ہے اور عجلت میں کیے جانے والے فیصلوں سے عموماً خیر برآمد نہیں ہوتا، اب تو اس حکومت کو کسی اپوزیشن کا سامنا بھی نہیں ہے۔ سابق قائد حزب اختلاف نے حکومت کو گرین سگنل دیا ہے کہ پیپلزپارٹی مہم جوئی نہیں کرے گی پی ٹی آئی 5 سال تک بلا خوف حکومت کرے۔ یعنی وہ بھی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو ہموار راستہ دے رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط مکمل کرکے حکومت کو زیادہ سے زیادہ 9 ارب ڈالر مل جائیں گے۔ اس کی شرائط کیا ہوں گی، ان کا ابھی کسی کو علم نہیں۔ یعنی 9 ارب ڈالر کیلئے قوم کے قرضوں میں بیٹھے بٹھائے کھربوں روپے کا اضافہ کردیا گیا، مہنگائی میں اضافہ کردیا گیا البتہ پی آئی اے، او جی ڈی سی اور دیگر اداروں کو بیچ کر حکومت اپنا کام چلائے گی۔ یوں پانچ سال گزر جائیں گے۔ پھر یہی لوگ یا دوسرے لوگ اقتدار میں آئیں گے۔ یہی آگئے تو کہیں گے کہ اب ترقی کے راستے پر چل پڑے ہیں بہت جلد کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور وغیرہ لندن پیرس کے مساوی ہوں گے ۔ اور دوسرے آئے تو وہی کہہ رہے ہوں گے کہ پچھلی حکومت نے معیشت تباہ کردی، آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے۔

                                                                                                                                                                                              بشکریہ جسارت