August 18th, 2017 (1438ذو القعدة25)

دہشت گردوں کی مثلث

 

بھارتی دہشت گرد نریندرمودی امریکی دہشت گرد ڈونلڈٹرمپ کوشیشے میں اتارنے کے بعد ایک بڑے عالمی دہشت گرد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوسے ملنے تل ابیت پہنچ گئے۔ اور اس طرح عالمی دہشت گردی تکون مکمل ہوگئی۔ اس موقع پر مسلمانوں کے خطرناک دشمن قادیانی بھی ائرپورٹ پر استقبالیہ تقریب میں موجود تھے۔ جھوٹے نبی کی امت یہ قادیانی مذکورتینوں مسلمان دشمنوں سے خطرناک ہیں ۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت تو کھلے دشمن ہیں لیکن قادیانی پوشیدہ دشمن ہیں کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہہ کر دنیا کو دھوکا دیتے ہیں۔ جو لوگ ان کی حقیقت سے واقف نہیں وہ ان کے حال میں پھنس کر بظاہر مسلمان ہوجاتے ہیں جب کہ قادیانی مرتد ہیں۔ یہودی اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ یہ مسلمانوں کے خلاف ا ن کا خفیہ ہتھیارہے اسی لیے اسرائیل میں قادیانیوں کو خصوصی اہمیت اور سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ خاص طور پر مقبوضہ فسلطین کے علاقے حیفا میں ان کو بسایا گیا اور وہاں ان کی عبادت گاہ اور کمیونٹی سینٹر بھی قائم ہے۔ فسلطین میں قادیانیوں کے قدم جمانے اور ان کی سرپرستی کا آغاز 1928ء میں برطانوی سرپرستی میں ہوگیا تھا اور یہ کوئی راز نہیں کہ برعظیم پاک وہندمیں غلام احمد قادیانی انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ حیفا پر برطانوی قبضہ تھا جو 1948ء میں یہودیوں کے حوالے کیا گیا۔اگست 2016ء میں حیفا میں قادیانیوں کا  نیا  بیسواں سالانہ کنونشن بھی منعقدکیا جس میں پاکستانی قادیانی بھی شریک ہوئے۔ قادیان بھارت ہی میں ہے چنانچہ مقبوضہ فلسطین میں آبادقادیانی خاص طور پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے استقبال کے لیے آئے۔ نریندرمودی اور نیتن یاہونے اس موقع پر  پاکستان کے خلا ف بھارت کی پھر پور مدد کرنے کا اعلان کیا اور حماس اور لشکر طیبہ کو یکساں خطرہ قرادیتے ہوئے ہوئے کہا کہ یروشلم اور نئی دہلی ایک ہی طرح کے دشمن سے پریشان ہیں ۔ صہیونی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی اپنے عزائم نہیں چھپائے، بھارت کو بھی دہشت گردی سے نمٹنے کا حق حا صل ہے ۔یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے اورمودی نے کہا اسرائیل سے ہر شعبے میں تعاون بڑھائیں گے۔ مسلمانوں کے خلاف اپنے عزائم تو نریندرمودی بھی چھپاتے ۔ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ خودبھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے ، یہ سب کو معلوم ہے ۔اپنی ماتا گائے کے تحفظ کے لیے جھوٹے الزامات لگا کر مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے ۔گائے کا تقدس یہوداور ہنودودونوں میں یکساں ہے۔ لیکن صہیونی درندےکسی اور بہانے سے فلسطینی مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ حماس(حرکت المقاومت اسلامیہ) صہیونیوں کے مظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کچھ عرب ممالک نے بھی حماس کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اسرائیل بھی یہی کہتا ہے تو مذکورہ عرب ممالک سوچ لیں کہ وہ کس کی صف میں کھڑے ہیں۔ بھارت کی خوشنودی کے لئے امریکا نے کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ اب اسرائیل اور بھارت دونوں علی الاعلان پاکستان کے خلاف متحد ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکا بھی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے اسلام آباد سے کابل جا کر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اپنا رویہ بدلے، ہم حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں۔ اس کے لئے پاکستان کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد نے رویہ نہ بدلا تو بطور قوم امریکیوں کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ اس طرح تینوں دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ مکمل ہو گیا۔ بھارت لشکر طیبہ کے خلاف، صہیونی اسرائیل حماس کو دشمن قرار دے رہا ہے اور امریکا حقانی نیٹ ورک کے پیچھے پڑا ہے اور پاکستان کو دھمکا رہا ہے۔ امریکا کا رویہ پہلے ہی کون سا پاکستان کے حق میں ہے۔ پھر بھی نواز شریف کو امریکا سے امیدیں ہیں۔