October 24th, 2017 (1439صفر3)

سارے راستے بند نہ کریں

 

مظفر اعجاز

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا ہے کہ تمام گستاخانہ بلاگز بند کیے جائیں۔ وزیر داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا اور انہوں نے کہاکہ شان رسالتؐکے تحفظ میں سارا سوشل میڈیا بند کرنا پڑا تو بند کردیں گے۔ اس کے بغیر بھی توزندہ تھے۔ جسٹس شوکت نے کہاکہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی سب سے بڑی دہشت گردی ہے ۔ بھینسے، گینڈے، کتے، سور سب بلاک ہونے چاہییں ورنہ پی ٹی اے کو بند کردیں۔ جسٹس شوکت نے توجہ دلائی کہ اگر بیورو کریٹس پر معاملہ چھوڑدیا اور کارروائی نہ ہوئی تو امن وامان کا سنگین مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جسٹس شوکت نے بروقت اور نہایت مناسب انداز میں اس شدید نازک مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ یہ حالات ہی ممتاز قادری پیدا کرتے ہیں۔ جب حکومت ،اس کے ادارے ، قوانین سب ناکارہ ہوجائیں تو شان رسالتؐ کے معاملے میں مسلمان اتنے بانجھ تو نہیں پھر کوئی نہ کوئی وہ فیصلہ کردیتا ہے جو حکومت یا عدالتوں کو کرنا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جسٹس شوکت عزیز نے حکومت، اداروں اور معا شرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن ایک بات کا ہر ایک کو خیال رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں عموماً اچھے مقاصد کے لیے بننے والے قوانین کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔ کہیں اس معاملے میں بھی ایسا نہ ہوجائے۔ یہ سوشل میڈیا یقیناًمادر پدر آزاد ہے۔ اس کے نزدیک پاکستان، نظریہ پاکستان، مذہب دین اور اس کے شعائر کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اسی سوشل میڈیا کے ذریعے حکمرانوں کی چوریاں سامنے آتی ہیں۔ پولیس اور دیگر عسکری اداروں کی بد عنوانیاں سامنے آتی ہیں، اس کے ذریعے لوگ فرضی ناموں سے بسا اوقات حقائق سامنے لے آتے ہیں۔ اگر سارا سوشل میڈیا بند کردیاگیا تو بھی کوئی بات نہیں۔ کم از کم شان رسالتؐ اور مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو تو لگام دی جاسکے گی۔ تاہم حکمرانوں کی چوریوں کی نشاندہی بھی بند ہوجائے گی۔ اصل بات یہی سمجھنے کی ہے۔
جسٹس شوکت صدیقی نے جو احکامات دیے ہیں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو ان پر عمل کرنا چاہیے اور جس قسم کے بلاگرز اور بلاگز مذہب، مقدس ہستیوں، پاکستان اور بانئ پاکستان کی توہین کررہے ہیں ان سب کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا کر ان کے بلاگز اور آئی پی بند کیے جائیں اس کے ساتھ ساتھ اسمبلیوں میں تھانوں میں، عدلیہ میں،میڈیا اور سب سے بڑھ کر حکومت میں بیٹھے گستاخان کو بھی بند کیاجائے۔ یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ کر سود کی حمایت کرتے ہیں۔ ناموس رسالتؐ کے قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سب بھی توہین اسلام ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی اسلام آباد میں ہورہاہے۔ جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مچھر چھانے جاتے ہیں اور ہاتھی نکل جاتے ہیں۔ یہی حال اس مسئلے میں ہونے کا خطرہ بلکہ قوی امکان ہے۔ پاکستان کی عدالت میں اﷲ اور رسولؐ سے جنگ کے لیے سود کی حمایت میں پٹیشن سماعت کے لیے قبول کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ اس انداز میں فیصلہ سناتی ہے کہ حکومت سندھ کئی ماہ تک شراب خانے کھولنے کا موقع استعمال کرلیتی ہے۔ آخر شراب پر پابندی میں عدالتوں کو قباحت کیا ہے۔ کیا یہ سب توہین اسلام نہیں ہے۔ قرآن نے شراب کو حرام قرار دیا ہے ۔ سود کو اﷲ اور رسولؐ سے جنگ ، لیکن ہماری عدالتیں اس پر فریقین کے دلائل سن رہی ہیں۔ قرآن کے حکم کے بعد کسی کے دلائل سننا بھی توہین اسلام ہے۔ بہر حال اﷲ جسٹس شوکت عزیز کو مزید قوت اور شوکت عطا کرے اور ان کے ذریعے کم از کم ان گستاخوں کو لگام دی جائے۔ یہاں ہم ایسے لوگوں کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ جو کھلے عام اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بھی توہین عدالت کی اور خود پیش نہیں ہوئے اور شاید ہوں گے بھی نہیں۔ جسٹس شوکت عزیز نے اگرچہ گستاخ بلاگرز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا ہے لیکن ای سی ایل کی اب کیا حیثیت رہ گئی ہے یہ تماشا بھی سب نے دیکھ لیا۔ جنرل پرویز ای سی ایل سے نکلے اور پھر واپس نہیں آئے۔آیان علی کا نام خود عدالتوں نے ای سی ایل سے نکالا۔ وہ بھی نکل گئیں۔ حسین حقانی بھی غائب ہیں۔ ان معاملات میں دلائل اور موقف سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ طے شدہ قانون ہے کہ توہین رسالتؐ اور مقدس ہستیوں کی توہین کرنے والے سزا کے مستحق ہیں۔ جج صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ اگر حکومت نے کچھ نہیں کیا تو امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ بات بہت واضح ہے پھر کوئی خود قانون ہاتھ میں لے لے گا تو توہین اسلام پر تلا ہوا میڈیا اُچھلنے کودنے لگے گا۔