August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

دو بڑے دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ

 

  امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا گٹھ جوڑدوبڑے دہشت گردوں کا اتحادہے۔ان میں سے امریکابلامبالغہ عالمی دہشت گردہے اوروہ متعددممالک میں نہ صرف دہشت گردی کا مرتکب ہے بلکہ دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کرتا ہے۔ یہ امریکاکی تاریخ ہے۔ ویتنام سے افغانستان اور عراق تک امریکی دہشت گردی کا طویل سلسلہ ہے۔ اگست1945ء میں وہ چاپان کے دوشہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر انتہائی تباہ کن ایٹم بموں کا تجربہ کرکے خودکو دنیاکاسب سے بڑا دہشت گردثابت کرچکاہے اورگزشتہ دنوں اس نے اپنے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم کا تجربہ کیا ہے جسے بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں خون آشامی سے امریکا کی ہوس پوری نہیں ہوئی اور 16سال کی ناکامیوں کے باوجود مزید فوج بھیج رہا ہے ۔ا سکے اشارے پر ناٹوممالک بھی دوبارہ کودنے والے ہیں ۔ عراق میں جھوٹ بول کر فوج کشی کرنے اور ملک کو تباہ کرنے پرکوئی احتساب نہیں کرتا۔ کس میں اتنا دم ہے کہ بیشترممالک ، بالخصوص مسلم ممالک امریکی دسترخوان کے پس خوردہ پرپل رہے ہیں۔ شام میں برسوں سے جوخانہ جنگی جاری ہے اس کی ذمے داری بھی امریکا پر عایدہوتی ہے،اسرائیل کی دہشت گردی کو شہ دینے والا بھی امریکا ہے۔ دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندرمودی ہے جس نے ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کا قتل عام کرایااور گجرات کے قسائی کا لقب پایا۔یہ ہی نریندرمودی ہے جس کی مسلمہ دہشت گردی کی وجہ سے امریکا نے اسے ویزادینے سے انکار کردیا تھا۔ اور آج وہ امریکی صدر کے ساتھ کھڑاہوا ہے اور ڈونلڈٹرمپ اسے بہترین وزیراعظم قرار د ے رہے ہیں ۔ بھارت نوازی اور مسلم مخالفت کاعندیہ تو ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم ہی میں دے دیا تھا۔ لیکن امریکی عوام کی اکثریت اپنے صدر کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے۔ ڈولنڈ ٹرمپ کو یہ تو ضرور معلوم ہوگا کہ نریندرمودی کی حکومت بھارت میں مسلمان شہریوں کے ساتھ کیا کررہی ہے۔ اپنی گائے ماتا کے احترام میں مسلمانوں کا قتل کررہی ہے لیکن امریکا میں تو گائے کا گوشت بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ نریندر مودی نے ٹرمپ سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا کہ ان کی ’’ماتا‘‘ کا قتل عام نہ کیا جائے ۔ماتا اگر امریکانژاد ہوتب بھی ماتا تو ہے۔لیکن ماتا کے بچاری دہشت گردوں کا زورصرف مسلمانوں پر چلتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ریاستی دہشت گردی کا انتہا کر رکھی ہے۔ یہ بھی امریکی صدر کے علم میں ہوگا ۔ا س کے باوجود نریندرمودی کے گن گانے کے بعد ٹرمپ نے کشمیری مجاہدصلاح الدین کو دہشت گردقراردیا ہے اور حزب المجاہدین کے تمام اثاثے ضبط کرلیے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حزب المجاہدین کے اثاثے کتنے تھے اور امریکا میں کیوں تھے جب کہ یہ کوئی رازنہیں کہ امریکا اثاثے ضبط کرنے میں خاص شہرت رکھتا ہے ۔ حزب المجاہدین کے کمانڈرسیدصلاح الدین کئی برس سے مقبوضہ کشمیرمیں کئی دہائیوں سے برپاتحریک آزادی اور بھارت سے نجات کی جدوجہد کا الزام پاکستان پر دھرتا ہے جبکہ کہ ہاکستانی حکمران سوائے زبانی ہمدردی کے عملاََ کچھ نہیں کرتے۔ پاکستان نے سید صلاح الدین کودہشت گرد قرار دینے کا امریکی فیصلہ فوری طور پر مسترد کردیا ہے۔ یہ بہت اچھا ہوا ہےاور امریکی دباؤ کے باوجودا س پر قائم رہنا چاہئے ۔ سید صلاح الدین یا کشمیر کی دیگر قیادتیں صرف حق خودارادیت مانگتی ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انہیں دے رکھا ہے۔انہیں چاہیے کہ سلامتی کونسل کے اس فیصلے پر، جسے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے بھی تسلیم کیاتھا،پوری اقوام متحدۃ کو دہشت گرد قرار دے دیں۔ ٹرمپ اور مودی جیسے لوگوں سے یہ بعید بھی نہیں ہے ۔بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی نے بھی امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینا انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے،حزب المجاہدین کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ٹرمپ مودی گٹھ جوڑسی پیک کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا ۔ خود سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے تعلق ہے نہ اس کی حمایت کرتے ہیں،نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے بھارت کو اصل دہشت گرد قرار دیا جائے ۔لیکن ڈونلڈٹرمپ صرف بھارت کو خوش رکھنا چاہتے ہیں جس سے وسیع تر مفادات وابستہ ہیں۔امریکاکو اپنی مصنوعات اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کے لیے ایک بڑی منڈی ہاتھ آرہی ہے۔امریکا اس غلط فہمی میں ہے کہ وہ بھارت کی مدد سے چین کا محاصرہ کر سکے گا۔دو بڑے دہشتگردوں کی یہ دوستی محض مفادات کا کھیل ہے۔