August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

امریکی سینیٹروں کا دورہ پاکستان

 

امریکا کے سینیٹروں کا 5 رکنی وفد سینیٹر جان مکین کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر ہے۔ گزشتہ اتوار کو وفد نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور جنرل باجوہ سے ملاقات کی اور پیر کے دن افغان سرحد کا جائزہ لیا جہاں پاک فوج نے ان کو حفاظتی انتظامات دکھائے۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے امریکی وفد کنٹرول لائن کا جائزہ نہیں لے سکا۔ جان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی کشمیر پالیسی نہیں بدلی، تنازع مذاکرات سے طے کیا جائے ، امریکا مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے آج تک یہی واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کی کشمیر پالیسی ہے کیا۔ کچھ ہی دن پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پرثالثی کی پیشکش کی تھی جو بھارت نے مسترد کر دی ۔ ٹرمپ مودی گہری رفاقت کے پیشِ نظر امریکا بھارت کے موقف کو ٹال نہیں سکتا۔ چناچہ اب سینیٹر جان مکین کہہ رہے ہیں کہ تنازع مذاکرات سے حل کیا جائے۔ دوسری طرف بھارت کشمیر تنازع پر بات کرنے کے لئے تیار ہی نہیں اور وہ مقبوضہ وادی کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ امریکا کی کشمیر پالیسی تبدیلی کا سب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ نریندر مودی سے ملاقات میں انکو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کشمیری مجاہد سید صلاح الدین ایوبی کو دہشت گرد قرار دے دیا ۔ امریکا مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن کیا اس نے کسی بھی طرح بھارت کو یہ وحشیانہ تشدد کرنے کے لئے کہا ، زبانی ہی سہی اس کی مذمت میں کوئی ایک لفظ بھی کہا۔ اگر پاکستانی حکمران اب بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکا سے کوئی فیض حاصل نہیں ہو سکتا اور وہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بات سنے گاتو اب بھی وقت ہے کہ اس غلط فہمی سے باہر آ جائے۔ امریکا بھارت کو ڈرون سمیت جو اسلحہ دے رہا ہے وہ کشمیرہی میں استعمال ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جان مکین نے جب مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے خاتمے کی بات کی تو ان کے خیال میں اس کا ذمہ دار پاکستان ہی ہو جیسا کہ ان کا نیا دوست کہتا رہتا ہے۔سیدھی سی بات ہے کہ تنازع کشمیر پر اقوام متحدہ نے جو فیصلہ دیا ہے امریکا اسے نافذ کرنے پر زور دے۔ اس سے ہٹ کر کوئی اور حل خود کشمیریوں کو منظور نہیں ہوگا جو تنازع کے اصل فریق ہیں۔ ان کی جدوجہد آزادی اقوام کے منشور کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں اور فوج کے جنرلوں نے جس طرح امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروایا اس کے حوالے سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے عزر پیش کیا ہے کہ امریکا کو ناراض نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تو امریکا نے خوش ہو کر پاکستان پر نوازشوں کی بارش کر دی اس کی بارشیں تو بھارت پر برس رہی ہیں۔ جان مکین نے مزید فرمایا کہ خطے میں رونما ہونے والے حالات کے تناظر میں پاک امریکا تعلقات کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے، پاکستانی امداد کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں۔’’ گاجر اور چھڑی‘‘ کے محاورے کے مصداق پاکستان کو خوش کرنے کے لئے مکین نے فرمایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ جان مکین نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کے حوالے سے شاید امریکی انتظامیہ کے بیانات نہیں دیکھے محض لفاظی کی ہے۔ جہاں تک افغانستان میں امن کا تعلق ہے تو وہاں بد امنی اور خلفشار کا بنیادی سبب ہی امریکا ہے جو 2001 ء میں نیو یارک کے جڑواں میناروں پر حملے کے بعد افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا۔ اور ساتھ میں 40 صلیبی ممالک کی فوجیں بھی لے آیا تھا حالاں کہ نیو یارک حادثے سے کسی افغان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکا 16 سال سے افغانستان میں طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کر رہا ہے اور لاکھوں افراد کا خون بہا کر بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ افغانستان میں اس وقت تک قیام امن کی توقع نہیں رکھی جا سکتی جب تک امریکا کی فوج وہاں موجود ہے۔ پاکستان تو خود افغانستان میں بد امنی سے متاثر ہو رہا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ امریکا کو اپنے ملک سے نکلنے کی بات کر سکیں ۔ لے دے کر ان کا زور پاکستان پر چلتا ہے۔ جان مکین کے بقول اگر افغانستان کے امن میں پاکستانی مدد ضروری ہے تو یہ بات اپنے کٹھ پتلی افغان صدر کو سمجھائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جان مکین کا مطلب بھی یہی ہو کہ افغانستان میں بد امنی کی ذمے داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے چناچہ وہ مداخلت بند کر کے تعاون کا مظاہرہ کرے۔ امریکی سیاستدان دو دھاری تلوار کی طرح ہیں۔